Al-Risala August 2007

مال کی حیثیت

Al-Risala August 2007 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - August 2007
  2. دجّالِ اکبر کا فتنہ
  3. تفسیرِ قرآن
  4. قیامت قریب آگئی
  5. تطفیف پر وَیل
  6. خلافتِ ارضی
  7. اظہارِ دین
  8. صوفی ازم
  9. مدعو نہ کہ دشمن
  10. مسلم ذہن
  11. مسلمان کیا کریں
  12. جذبات ِ پرستش
  13. کامیابی کا اصول
  14. دعوہ ورک، کمیونٹی ورک
  15. ڈی لنکنگ پالیسی
  16. صحیح طرزِ فکر
  17. سائنٹفک مذہب کی ضرورت
  18. چیلنج کی اہمیت
  19. غلط جنرلائزیشن
  20. مال کی حیثیت
  21. متواضع انسان
  22. تعلیم کی اہمیت
  23. اَمانی،عمل
  24. احتیاط ضروری ہے
  25. ایک خط
  26. خبر نامہ اسلامی مرکز — 180

مال کی حیثیت

ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ایک بڑے تاجر کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اللہ نے ان کو بہت نوازا ہے۔ یعنی ان کو بہت مال دیا ہے۔ میںنے کہا کہ جب کسی کے پاس زیادہ مال آجاتا ہے تو اکثر لوگ اس کے بارے میں یہ جملہ بولتے ہیں۔ مگر یہ اسلامی بات نہیں۔ کیوں کہ قرآن اور حدیث میںمال کو نوازش نہیں بتایا گیا ہے، بلکہ اس کو آزمائش کہا گیا ہے۔unverified

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد تمھارے لیے آزمائش ہیں۔ (إنما أموالکم وأولادکم فتنۃ۔ التّغابن: 15) قرآن میں کہیں بھی مال کو مطلق طورپر انعام نہیں بتایا گیا ہے۔ بلکہ اسے فتنہ اور آزمائش کی حیثیت دی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال و دولت کے معاملے میں مومن کا ذہن کیا ہونا چاہیے۔original + quote

مومن کو چاہیے کہ اس کو جب مال و دولت ملے تو اس کو وہ اس نظر سے دیکھے کہ یہ امتحان کا ایک پرچہ ہے جس کو خدا نے اس کے حوالے کیا ہے۔ مال کو جب آزمائش کی نظر سے دیکھا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کے اندر یہ احساس جاگے گا کہ وہ اس کو خدا کی بتائی ہوئی مدوں میں خرچ کرے، وہ اس کے استعمال میں سخت محتاط ہو، وہ اس اندیشے میں مبتلا ہو کہ اگر اس نے مال کو صحیح راہ میں استعمال کرنے کا ثبوت نہیں دیا تو وہ خدا کی پکڑ میں آجائے گا۔

جو آدمی مال کو نوازش سمجھ لے اس کی نفسیات بالکل مختلف ہوگی۔ وہ مال کو پاکر خوشی منائے گا۔ وہ مال کو صرف اپنی پسندیدہ راہوں میں خرچ کرے گا۔ وہ مال کو ان راہوں میں استعمال کرے گا جن سے اس کو یہ امید ہو کہ لوگوں کے درمیان اسے عزت کا مقام حاصل ہوگا۔

مال کو اگر جائز طریقے سے حاصل کیا جائے اور اس کو جائز مدوں میں خرچ کیا جائے تو وہ انسان کے لیے ایک نعمت ہے۔ اس کے برعکس اگر آدمی اپنی خواہش سے اتنا زیادہ مغلوب ہو کہ وہ نہ مال کمانے میںجائز طریقوں کی پابندی کرے اور نہ اس کو خرچ کرنے میں تو مال اس کے لیے گھاٹے کی چیز بن جائے گا۔