Al-Risala August 2007

کامیابی کا اصول

Al-Risala August 2007 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - August 2007
  2. دجّالِ اکبر کا فتنہ
  3. تفسیرِ قرآن
  4. قیامت قریب آگئی
  5. تطفیف پر وَیل
  6. خلافتِ ارضی
  7. اظہارِ دین
  8. صوفی ازم
  9. مدعو نہ کہ دشمن
  10. مسلم ذہن
  11. مسلمان کیا کریں
  12. جذبات ِ پرستش
  13. کامیابی کا اصول
  14. دعوہ ورک، کمیونٹی ورک
  15. ڈی لنکنگ پالیسی
  16. صحیح طرزِ فکر
  17. سائنٹفک مذہب کی ضرورت
  18. چیلنج کی اہمیت
  19. غلط جنرلائزیشن
  20. مال کی حیثیت
  21. متواضع انسان
  22. تعلیم کی اہمیت
  23. اَمانی،عمل
  24. احتیاط ضروری ہے
  25. ایک خط
  26. خبر نامہ اسلامی مرکز — 180

کامیابی کا اصول

جلدی نہ کرو۔ کیوں کہ تم جتنی جلدی کرو گے اتنی ہی زیادہ دیر لگے گی— جلدی کرنا کسی کام کو وقت سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اور اِس دنیا کے لیے خالق کا قائم کردہ اٹل قانون یہ ہے کہ یہاںہر کام اپنے وقت پر مکمل ہو، وقت سے پہلے کوئی کام کبھی مکمل نہیں ہوسکتا۔ جلدی کرنے والے کا کام صرف بگڑتا ہے، اُس کا کام کبھی بننے والا نہیں۔

اس دنیا میں آدمی جب کوئی کام کرتا ہے تو اگر چہ اس کو شروع کرنے والا وہ خود ہوتا ہے۔ مگر اس کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب کہ فطرت کا نظام بھی اس کے ساتھ موافقت کرے۔ فطرت کے نظام کی موافقت حاصل کیے بغیر، یہاں کوئی کام کبھی تکمیل کو پہنچنے والا نہیں۔

فطرت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ تدریج کے اصول پر عمل کرتی ہے۔ وہ واقعات کو اچانک ظہور میں نہیں لاتی۔ اب انسان اگر فوراً اور جلد نتیجہ نکالنا چاہے تو وہ عملاً ممکن نہ ہوگا۔ کیوں کہ انسان کی رفتار تیز ہوگی اور فطرت کی رفتار تدریجی قاعدے کی بنا پر سُست۔ ایسی حالت میں آدمی کو اپنے کام میں فطرت کی موافقت حاصل نہ ہوگی۔ اس کا کام بننے کے بجائے صرف بگڑ کر رہ جائے گا۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ جو کام بھی کرنا چاہے، سب سے پہلے وہ فطرت کے نظام کا مطالعہ کرے۔ اس کے بارے میں وہ فطرت کے اصول کو معلوم کرے۔ اور پھر اس مطالعہ کی روشنی میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کو اختیار کرکے کوئی شخص کامیابی کے ساتھ اپنے مقصد تک پہنچ سکتا ہے۔

کامیابی اورناکامی دونوں کا معاملہ فطرت کے نظام سے جُڑا ہوا ہے۔ اِس دنیا میں فطرت سے مطابقت کرنے کا نام کامیابی ہے، اور فطرت کے خلاف چلنے کا نام ناکامی ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ پہلے فطرت کے نظام کو سمجھے اور اُس کے بعد اُس کے مطابق، وہ اپنے کام کی منصوبہ بندی کرے۔