Al-Risala April 2020

فطرت کی قربانی

Al-Risala April 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (20 chapters)
  1. الرسالہ - April 2020
  2. مطالعۂ قرآن کا مہینہ
  3. ایک تجربہ
  4. فرقان کیا ہے
  5. دریافتِ امت
  6. انذار، تائید
  7. اخلاق، محفوظ انسانی سفر کا ضامن
  8. فطرت کا قانون
  9. کام کیا ہے
  10. فرقہ بندی کیا ہے
  11. فطرت کی قربانی
  12. ایک مسنون دعا
  13. تطفیف پر وَیل
  14. نئے عہد کے دروازے پر
  15. جدید دور کی ایک دین
  16. فکر کی تشکیل
  17. گِور نیشن
  18. الفاظ کا جنگل
  19. ایک مسلم خاتون
  20. خبرنامہ اسلامی مرکز- 272

فطرت کی قربانی

قربانی کی ایک صورت وہ ہے، جب کہ آدمی کو اللہ کے راستے میں مال دینا پڑے۔ اسی طرح قربانی کی ایک اور صورت یہ ہے کہ آدمی کو اللہ کے راستے میں جسمانی مصیبت اٹھانی پڑے۔ یہ بلاشبہ قربانی کی صورتیں ہیں۔ لیکن ایک قربانی وہ ہے، جب کہ آدمی کو اپنے فطری تقاضوں پر روک لگانا پڑے۔ اس کے فطری تقاضے پورے نہ ہوں، اس کے باوجود اللہ کی راہ میں اس کی استقامت پر فرق نہ آئے۔ اس کی فطری ضرورتیں پوری نہ ہوں۔ مگر وہ کسی شکایت کے بغیر اس کوبخوشی برداشت کرلے۔ اللہ کی راہ میں اس کو اپنے فطری تقاضوں کو دبانا پڑے۔ مگر وہ اس کو رضامندی کے ساتھ گوارا کرلے۔

قربانی کی یہ قسم ایک غیر معمولی قربانی ہے۔ ایسی قربانی کو جھیلنا، بلاشبہ ایک سخت مشکل کام ہے۔ لیکن کوئی بندہ اللہ کی راہ میں جب اپنی رضامندی سے ایسی قربانی کو برداشت کرے، تو اس پر اس کو بلاشبہ اجر عظیم عطا ہوگا۔ ایسی قربانی کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے، جب کہ اللہ کی راہ میں آدمی کو اپنا ایک رول ادا کرنا ہو۔ لیکن اس رول کو ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی سادہ زندگی (simple living) گزارے۔اپنی خواہشات پر کنٹرول کرے۔ اپنی فطرت کے مانگ کو پورا نہ کرنے پر راضی ہو جائے۔ اسلام کی تاریخ میں ایسی مثالیںموجود ہیں، اور ایسےہی لوگوں نے اپنے عمل سے اسلام کی عظیم تاریخ بنائی ہے۔

انھیں قربانیوں میں سے ایک قربانی رائے کی قربانی ہے۔ قربانی کی یہ قسم اجتماعی زندگی میں پیش آتی ہے۔ مثلاً آپ ایک مشن کے تحت ایک گروپ میں شامل ہیں۔ گروپ کے درمیان مشورے کے وقت مختلف تجاویز سامنے آتی ہیں۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ ان میں سےایک رائے کو لیا جائے، اور بقیہ رائے کو نظر انداز کردیا جائے۔ ایسے موقعے پر جو آدمی اجتماعی تقاضے کے تحت اپنی رائے کو ترک کرنے پر راضی ہوجائے، اس نے بلاشبہ ایک بڑی قربانی دی۔ کیوںکہ رائے ترک کرنے کے لیے آدمی کو اپنے ایگو کو قربان کرنا پڑتا ہے، اورایگو کی قربانی بلاشبہ بہت بڑی قربانی ہے۔