Al-Risala April 2019

اللہ کے حوالےکرنا

Al-Risala April 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (16 chapters)
  1. الرسالہ - April 2019
  2. حظِّ عظیم
  3. میں خدا کو پانا چاہتا ہوں
  4. خوراک ایک معجزہ
  5. انسان کے لیے سبق
  6. سیکولر معرفت، ربانی معرفت
  7. اللہ کے حوالےکرنا
  8. حجت کا قانون
  9. لو پروفائل میں کام کرنا
  10. فارم ، اسپرٹ
  11. پیغمبر ِ اسلام — استثنائی شخصیت
  12. پیغمبر ِ انقلاب
  13. عقل کا مسئلہ
  14. اسلام دورِ جدید میں
  15. خبرنامہ اسلامی مرکز- 267
  16. ایک ضروری اعلان

اللہ کے حوالےکرنا

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَکَأَیِّنْ مِنْ نَبِیٍّ قَاتَلَ مَعَہُ رِبِّیُّونَ کَثِیرٌ فَمَا وَہَنُوا لِمَا أَصَابَہُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَکَانُوا وَاللَّہُ یُحِبُّ الصَّابِرِینَ(3:146)۔ یعنی اور کتنے نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے قتال کیا۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں، ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے، نہ انھوں نے کمزوری دکھائی، اور نہ وہ دبے۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔original + quote

قرآن کی اس آیت میں قتال کا لفظ جنگ کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ شدید جدو جہد کے معنی میں ہے۔ یہ اسلوب وہی ہے، جس کے لیے انگریزی میں جنگی سطح (war footing) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، یعنی کسی کام کو پوری طاقت کے ساتھ انجام دینا۔

اسی طرح آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں :وہ نہ پست ہمت ہوئے، نہ انھوں نے کمزوری دکھائی، اور نہ وہ دبے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بہت طاقت ور لوگ تھے، اور انھوں نے نہایت طاقت کے ساتھ اس کام کو انجام دیا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشن کے راستے میں جب کوئی مشکل پیش آئی تو وہ اس کے لیے فکر مند ہوکر رکے نہیں، بلکہ مشکل کو رب العالمین کے حوالے کرکے اعتماد علی اللہ کی اسپرٹ کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔original + quote

اعتماد علی اللہ کی اسپرٹ کا مطلب ہے کہ ایسے موقعے پر یہ یاد کرنا کہ تمام وسائل اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ یعنی یہ اسپرٹ کہ اللہ مجھ کو تنہا نہیں چھوڑے گا، بلکہ ایسے حالات پیدا کرےگا، جب کہ میں اللہ کے کام کواللہ کی مدد سے کامیابی کے ساتھ انجام دے سکوں۔ مومن کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ دنیا کے نظام کو اللہ کے فرشتے انجام دے رہے ہیں۔ یہ فرشتے اللہ کے حکم سے مومن کی مدد کوآجائیں گے، اور فرشتوں کی مدد سے مطلوب کام کو انجام دینا ممکن ہوجائے گا۔ یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ (47:7)کا۔unverified