Al-Risala April 2010

مواقع سے بے خبری

Al-Risala April 2010 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - April 2010
  2. عجز اور اختیار
  3. ایک انسانی کمزوری
  4. موت کی یاد
  5. آخرت کا ائرپورٹ
  6. قرآن میں غور وفکر
  7. دوانتظامات
  8. ربّانی دعاء
  9. خیر ِ امت
  10. کتمانِ حق
  11. موت کا سبق
  12. معرفتِ اعلیٰ کی مثال
  13. دل ایک معجزہ
  14. موت کا زندہ تصور
  15. ذہنی افق
  16. گرہن ایک خدائی معجزہ
  17. دورِ جدید کا شجرِ ممنوعہ
  18. کارٹونسٹ کے لیے تحفہ
  19. سیاسی فتنہ
  20. امن، انصاف
  21. بچوں کا بگاڑ
  22. مواقع سے بے خبری
  23. زمین کی زرخیز سطح
  24. صحیح مشورہ
  25. قناعت، عدم قناعت
  26. اپنے آپ کو جانئے
  27. نفسیاتی خود کشی سے بچئے
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 201

مواقع سے بے خبری

ایک نائجیریا نژاد مسلم نوجوان عمر فاروق عبد المطلب (عمر 23 سال) نے ایک امریکی جہاز کے اندر بم دھماکہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ کامیاب نہ ہوسکااور اس کو گرفتار کرلیاگیا۔

ٹائمس آف انڈیا (31 دسمبر2009 ) میں شائع شدہ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، مذکورہ مسلم نوجوان نے کہا کہ— میں سمجھ سکتا ہوں کہ کس طرح عظیم جہاد پیش آئے گا۔ کس طرح مسلمان، ان شاء اللہ، جیتیں گے اور ساری دنیا پر حکومت کریں گے، اور عظیم ترین ایمپائر کو دوبارہ قائم کریں گے:original + quote

I imagine how the great jihad will take place, how the Muslims will win, insha’ Allah (God willing) and rule the whole world, and establish the greatest empire once again! (The Times of India, New Delhi. p. 13)

یہ صرف نائجیریا کے ایک مسلم نوجوان کی بات نہیں ہے، بلکہ شعوری یا غیر شعوری طورپر، ساری دنیا کے مسلمانوں کی سوچ یہی ہے۔ ہر مسلمان کھوئی ہوئی عظمتِ رفتہ کی یاد میں جیتا ہے اور اُس کو دوبارہ واپس لانا چاہتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ مسلمان اِس کے لیے عملی جہاد کررہے ہیں اور کچھ مسلمان فکری جہاد۔ مگر یہ زمانۂ حاضر سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔

آج اسلام اور مسلمانوں کو جو عظیم مواقع حاصل ہیں، وہ پچھلی تمام مسلم سلطنتوں کے زمانے میں کبھی موجود نہ تھے۔ مسلمانوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ اِس معاملے کو بمعنیٰ سلطان (in terms of Sultan) سوچتے ہیں۔ اگر وہ اِس معاملے کو بمعنی مواقع (in terms of opportunities) سوچیں تو اچانک وہ دریافت کریں گے کہ جس ایمپائر کو دوبارہ قائم کرنے کا وہ خواب دیکھ رہے ہیں، وہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجے میں بالفعل قائم ہوچکا ہے۔ اِس معاملے میں، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خود اپنی سوچ کو بدلیں، نہ یہ کہ وہ مفروضہ سیاسی حریفوںسے بے فائدہ ٹکراؤ جاری رکھیں۔اِس قسم کے ٹکراؤ کا کوئی مثبت نتیجہ نہ پہلے نکلا ہے، اور نہ آئندہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے۔