Al-Risala April 2010

موت کا سبق

Al-Risala April 2010 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - April 2010
  2. عجز اور اختیار
  3. ایک انسانی کمزوری
  4. موت کی یاد
  5. آخرت کا ائرپورٹ
  6. قرآن میں غور وفکر
  7. دوانتظامات
  8. ربّانی دعاء
  9. خیر ِ امت
  10. کتمانِ حق
  11. موت کا سبق
  12. معرفتِ اعلیٰ کی مثال
  13. دل ایک معجزہ
  14. موت کا زندہ تصور
  15. ذہنی افق
  16. گرہن ایک خدائی معجزہ
  17. دورِ جدید کا شجرِ ممنوعہ
  18. کارٹونسٹ کے لیے تحفہ
  19. سیاسی فتنہ
  20. امن، انصاف
  21. بچوں کا بگاڑ
  22. مواقع سے بے خبری
  23. زمین کی زرخیز سطح
  24. صحیح مشورہ
  25. قناعت، عدم قناعت
  26. اپنے آپ کو جانئے
  27. نفسیاتی خود کشی سے بچئے
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 201

موت کا سبق

17 جنوری 2010 کو جیوتی باسو (Jyoti Basu) کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 96 سال تھی۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کے بڑے لیڈروں میںسے تھے۔ وہ مسلسل 23 سال تک ویسٹ بنگال کے چیف منسٹر رہے۔ ان کی وفات کا سبب ڈاکٹروں نے جسم کے کئی اعضا کا فیل ہوجانا (multi organ failure) بتایا ہے۔

انسان کو اِس دنیا میں جو جسم ملا ہے، وہ ایک مکمل نوعیت کا زندہ کارخانہ ہے۔ اِس میں بیک وقت بہت سے نظام کام کررہے ہیں— سوچنے کا نظام، دیکھنے کا نظام، سننے کا نظام، ہضم کا نظام، حرکتِ قلب کا نظام، سانس لینے کا نظام، اعضاء کو متحرک کرنے کا نظام، وغیرہ۔

یہ تمام نظام نہایت متوافق طورپر عمل کرتے ہیں تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی انسان ایک زندہ وجود کے طورپر دنیا میںاپنا کام کرے۔

مثلاً نظامِ حافظہ اگر کام نہ کرے تو آدمی کو کوئی بات یاد نہیں رہتی ، نظامِ بصارت کام نہ کرے تو آدمی اندھا ہوجاتا ہے، نظامِ سماعت کام نہ کرے تو آدمی کو کچھ سنائی نہیں دیتا، نظامِ نطق کام نہ کرے تو آدمی گونگا ہو جاتا ہے، نظام ہضم کام نہ کرے تو آدمی کی صحت خراب ہوجاتی ہے، نظامِ حرکت کام نہ کرے تو آدمی اپاہج بن جاتا ہے۔ نظامِ تنفس کام نہ کرے تو آدمی کے لیے سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے۔ اور اگر نظامِ قلب کام نہ کرے تو آدمی کے لیے زندہ رہنا ہی ناممکن ہوجاتا ہے، وغیرہ۔

موت اِس حقیقت کا اعلان ہے کہ انسان کے وجود کے مختلف نظام کسی اور کے قبضۂ اختیار میں ہیں۔ وہ جب تک چاہے، انسان کو زندہ رکھے اور جب چاہے، انسان پر موت طاری کردے۔ ہر روز دنیامیں موت کے تقریباً ایک لاکھ واقعات ہوتے ہیں جو انسان کو یہ سب سے بڑی خبر سنا رہے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی سب سے بڑی خبر ہے جس کا شعوری علم کسی زندہ انسان کو نہیں۔