Al-Risala April 2008

عُذر نہیں

Al-Risala April 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (21 chapters)
  1. الرسالہ - April 2008
  2. صلاۃ کلچر
  3. سفارش نہیں، استحقاق
  4. دو طرفہ معاملہ
  5. اولاد پرستی کا فتنہ
  6. دعوت اور انگریزی
  7. جدالِ احسن کیا ہے
  8. قومی فخر نہیں
  9. دیوارِ قہقہہ
  10. جنت اور انسان
  11. ابدی صحرا
  12. دورِ امن کا آغاز
  13. موت کا شعور
  14. اعلیٰ ذوق
  15. کامیاب زندگی کا راز
  16. ڈِگری اور انگریزی
  17. حیوانِ کاسِب نہ بنیے
  18. عُذر نہیں
  19. سادگی کا اصول
  20. سوال وجواب
  21. خبرنامہ اسلامی مرکز— 183

عُذر نہیں

انگریزی زبان کے ایک مشہور مقولے میںنہایت درست طورپر کہاگیا ہے کہ — اگر تمھارے پاس ایک بہترین عذر ہو، تب بھی تم اس کو استعمال نہ کرو:other source

If you have a good excuse, don't use it.

عذر (excuse) انسانی زندگی میں ہر وقت پیش آتا رہتا ہے۔ کوئی بھی گھر یا کوئی بھی سماج عذر سے خالی نہیں۔ ایسی حالت میںاگر عذر کو عذر بنایا جائے تو آدمی کوئی کام نہیں کرسکتا۔ ہر وقت وہ کسی نہ کسی عذر میں پھنسا رہے گا، اور جو کرنے کا کام ہے، اس کو وہ نہ کرسکے گا۔

اِس مسئلے کا حل کیا ہے۔ اِس کا حل یہ ہے کہ دو قسم کے اَعذار (excuses) میں فرق کیا جائے۔ ایک، معمولی عذر (usual excuse) اور دوسرا، غیر معمولی عذ ر(unusual excuse) ۔ معمولی عذر یہ ہے کہ گھر میں مہمان آجائیں، سر میں کچھ درد ہوجائے، کسی کو اسپتال میں دیکھنے کے لیے جانا ہو، خاندانی تقریب میں شرکت، کسی کی آمد پر اس کا استقبال(receive) کرنااور اس کو بھیجنے (see off) کے لیے جانا، پیدائش اور موت کے واقعات، وغیرہ۔ یہ سب معمول کے عذر ہیں۔ ایسے عذر کو کسی ذمے داری کے سلسلے میں عذر بنانا درست نہیں۔unverified

دوسرا عذر وہ ہے جو غیر معمولی عذر کی حیثیت رکھتا ہو، یعنی شدید قسم کا ناگہانی واقعہ۔ اِس دوسرے قسم کے عذر کو مجبور کُن عذر (compulsive excuse) کہاجاسکتا ہے۔ یہ وہ عذر ہے جو آدمی کے لیے سخت معذوری (crippling) کا سبب بن جاتا ہے۔

جب صورتِ حال یہ ہے کہ اِس دنیا میں زندگی اعذار (excuses) سے بھری ہوئی ہے تو ہر بامقصد انسان کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ عذر سے اوپر اٹھ جائے، تاکہ مقصدِ حیات کے اعتبار سے جو بڑا کام اس کو کرنا ہے،اُس بڑے کام کو وہ انجام دے سکے۔ جو آدمی ایسا نہ کرے، وہ عذر کے قبرستان میں دفن ہو کر رہ جائے گا اور کوئی بڑا کام انجام نہ دے سکے گا۔