Shukr All cross-references →
Hadith 2906
Tirmidhi 2906
Read the original at sunnah.com ↗

Hadith numbering is edition-dependent — verify against the source.

Explained in 6 book passages and 16 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Al-Risala February 2021 A original + quote

…مطالعہ کرنے والا تذَکُّر وتدبر (ص،38:29) کا طریقہ اختیار کرے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن اپنے اسلوب کے اعتبار سے ربانی حکمت کا مجموعہ (collection of divine wisdom) ہے۔ قرآن میں بیان کردہ حقائق کو سمجھنے کے لیے اسی اصول کو اختیار کرنا چاہیے۔

قرآن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے : وَلاَ تَنْقَضِی عَجَائِبُہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906)۔ یعنی اس کے عجائب (معانی) کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہےکہ قرآن کے معانی کے مختلف پہلو ہیں۔ اہل علم ان پر غور کرکے ہمیشہ اس کے نئے نئے پہلو دریافت کرتے رہیںگے ۔یہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا ایک واضح ثبوت ہے۔ اگر قرآنی آیتوں کے صرف چند پہلو ہوتے تو قرآن ایک محدود کتاب بن جاتا۔ لیکن قرآن کی آیتوں کے لامحدود پہلو ہیں تو قرآن ایک ابدی کتاب بن گیا ہے، جیسا کہ اللہ رب العالمین کی ذات ایک ابدی ذات ہے۔

قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ قرآن کی آیتوں پر غور کرو۔ مثلاً: کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے،…

Al-Risala October 2018 A original + quote

…إِلَہَ إِلَّا اللہُ (مسند احمد،حدیث نمبر8710)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم لوگ اپنے ایمان کی تجدید کرو، پوچھا گیا: اے خدا کے رسول ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کریں۔ آپ نے کہا: لا الہ الا اللہ کو زیادہ سے زیادہ ادا کرو۔

روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اجتماعی طور پر بیٹھ کر اپنے ایمان کا دوبارہ چرچا کرتے تھے۔اس معاملے پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ ایمان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چند قانونی الفاظ ہیں، ان کو اگر آدمی نے دہرادیا تو اس کو ایمان حاصل ہوگیا۔ بلکہ ایمان ایک ایسی حقیقت کا اقرار ہے، جس کی گہرائیاں کبھی ختم نہیں ہوتی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: وَلاَ تَنْقَضِی عَجَائِبُہُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906)۔ یعنی اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔

اسی حقیقت کو قرآن میں دوسرے مقام پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:لِیَزْدَادُوا إِیمَانًا مَعَ إِیمَانِہِمْ (48:4)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان ابتدائی طور پر اقرار کا نام ہے۔ لیکن اپنے توسیعی معنی میں وہ مسلسل غور و فکر کا موضوع ہے۔ آدمی…

Al-Risala February 2018 A original + quote

اعلان کے بغیر معاہدہ

قرآن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے : لا تنقَضِی عَجائِبُہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر2906) ۔ یعنی قرآن کے عجائبات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ یہی بات سنت رسول کے بارے میں صادق آتی ہے۔ رسول اللہ کی سنتوں میں ایسے حکمت کے پہلو ہیں، جو کبھی ختم نہ ہوں گے، اورآپ کےپیرو اُن کو دریافت کرکے اُن سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ میرے مطالعے کے مطابق، اِنھیں سنتوں میں سے ایک سنت وہ ہے، جس کو بلااعلان معاہدہ (undeclared agreement) کہا جاسکتا ہے۔

اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے زمانے میں مکہ میں کعبہ تین سو ساٹھ بتوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس بنا پر وہاں سارے عرب سے بتوں کے پرستار بتوں کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے یہ حکمت اختیار کی کہ آپ کعبہ میں بتوں کی…

Al-Risala August 2017 A original + quote

…زیادہ بڑے پیمانے پر دریافت کرے۔ وہ خالق کی عظمتوں کا نیا برتر ادراک حاصل کرے۔ وہ آیات اللہ (signs of God)، آلاء اللہ (wonders of God) کے نئے پہلوؤں کو دریافت کرے۔ وہ عظمتِ خداوندی کے نئے احساس کے تحت کہہ اٹھے— الحمد للہ رب العالمین۔

ایک حدیث میں قرآن کے بارے میں آیا ہے: لا تنقضی عجائبہ (قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے)سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906۔ یہ عجائب کتاب کے عجائب نہیں، بلکہ وہ صاحب کتاب کے عجائب ہیں۔ بعد کے زمانے کی تمام کائناتی دریافتیں اِسی پیشین گوئی کی تفصیل ہیں، وہ خالق کی لا محدود عظمت کا بیان ہیں۔

اِس خلائی دریافت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ نیا دریافت شدہ ستارہ اور سورج دونوں ایک ہی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ نیا دریافت شدہ ستارہ جس طرح ایک ستارہ ہے، اُسی طرح سورج بھی ایک ستارہ ہے۔ البتہ نیا دریافت شدہ ستارہ سورج کے مقابلے میں تیرہ سو…

Al-Risala february 2017 A original + quote

قرآن و سنت کے عجائب

حدیث کی کتابوں میں قرآن کے فضائل کے بارے میں ایک روایت نقل کی گئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے:لا تنقضی عجائبہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906)۔ یعنی قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں عجائب کا لفظ کسی پر اسرار معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس معنی میں ہے کہ ہر صورتِ حال کے لیے قرآن میں ہمیشہ رہنمائی موجود رہے گی۔ یہی بات سنت ِرسول کے لیے بھی درست ہے۔ گویا اس حدیث کا پورا مفہوم یہ ہے : لاتنقضی عجائب القرآن و السنۃ ( قرآن و سنت کے عجائبات کبھی ختم نہ ہوں گے)۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، دنیا کے حالات ہمیشہ بدلتے رہیں گے۔ لیکن اہل علم کے لیے ہمیشہ یہ ممکن رہے گا کہ قرآن و سنت کی نئی تطبیقات (new applications) دریافت کرکے ہر صورتِ حال پر قرآن و حدیث کی…

Al-Risala September 2016 A original + quote

خدائی منصوبہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن میں تم سے پہلے کے حالات کا ذکر ہے اور اس میں تمہارے بعد کے حالات کا بیان ہے ( سنن الترمذی، حدیث نمبر2906)۔قرآن میں ماضی اور مستقبل کا حوالہ کس لئے ہے۔ وہ اس لئے ہے تاکہ اہلِ ایمان تاریخ کے بارےمیں خدا کےمنصوبہ (scheme of things) کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی (right planning) کریں۔ یہی سب سے بڑی حکمت (wisdom) ہے۔ اور یہ حکمت تدبر (غور وفکر) کے ذریعہ سمجھ میں آتی ہے۔ قرآن اور تاریخ میں غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ نے پہلے اپنے پیغمبر پر ہدایت نازل فرمائی۔ اس کے بعد تاریخ میں ایک عمل (process) شروع ہوا۔ پہلے قرآن کو محفوظ کیاگیا۔ اسی کے ساتھ حدیث اورعلوم اسلامی کی تدوین ہوئی۔ یہ کام کئی سو سال تک مسلم اقتدار کےتحت جاری رہا۔ یہاں تک کہ قرآن اور قرآنی علوم پوری طرح محفوظ ہوگئے۔ ساتھ ہی یہ بھی ہوا کہ مسلمانوں کا دینی نظام غیر سیاسی دائرہ میں قائم ہوگیا۔

ظہور اسلام کے تقریباً ہزار سال بعد سیکولر تہذیب کے ذریعہ تائید دین کا دور شروع ہوا۔ اس عمل کے دوران دنیا میں ایک موافق اسلام دور آیا۔ اس دور میں ہر قسم کے وہ فکری اور عملی مواقع دستیاب ہوگئے جو اسلام کے عالمی دعوتی مشن کی تکمیل کے لئے…

In the lectures

Cited at 2085s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2113s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2171s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2729s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4218s — opens the lecture at this moment.

Cited at 73s — opens the lecture at this moment.

Cited at 194s — opens the lecture at this moment.

Cited at 378s — opens the lecture at this moment.

Cited at 721s — opens the lecture at this moment.

Cited at 835s — opens the lecture at this moment.

Cited at 875s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1556s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1926s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2302s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3363s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5914s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…كے لیے اس كا خير خواهي كا جذبه يهاں تك پهنچتا هے كه وه نامعلوم راه گيروں كي راه كي ركاوٹوں كو بھي دور كرنے لگتا هے۔ اس كي حساسيت اتني زياده بڑھ جاتي هے كه وه اپنی غلطي پر شرمنده هو اور صرف اس وقت مطمئن هو جب كه وه اپني غلطي كي تلافي كرلے۔

0006

عبد الله بن عمر رضي الله عنه كهتے هيں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے فرمايا مسلم وه هے جس كي زبان سے اور جس كے هاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ هيں۔ اور مهاجر (وطن چھوڑنے والا) وه هے جو اس چيز كو چھوڑ دے جس سے الله نے منع فرمايا هے…

ذیل میں آپ کے سوالات کا جواب درج کرتا ہوں۔

سورہ الحدید آیت 29

1۔ ’’بینات‘‘ سے مراد میرے نزدیک وہی ہے جس کو علامہ آلوسی اور دوسرے مفسرین نے لکھا ہے یعنی جج و معجزات۔