In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اسفل سافلین کیوں
قرآن کی سورۃ التین میں بتایا گیا ہے کہ خالق نے انسان کو احسن تقویم کے ساتھ پیدا کیا، اس کے بعد اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب ایک اور حدیث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ کِبْر(صحیح مسلم، حدیث نمبر 91)۔ یعنی جنت میں وہ شخص داخل نہ ہوگا، جس کے دل میں ذرے کے برابر کبر ہو۔
انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ عمومی طور پر اس کا حال یہ ہے کہ وہ احسن تقویم کا تحمل نہیں کرپاتا۔ وہ کبر کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ کسی کے اندر یہ نفسیات کم ہوتی ہے، اور کسی کے اندر زیادہ۔انسان کی ترقی کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس…
In the lectures
Cited at 2665s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2837s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2872s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2905s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4036s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4688s — opens the lecture at this moment.
Cited at 660s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2327s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2814s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2852s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4065s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5943s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
55
93
S. Korea
71 رمضان 2ھ
مطابق 16مارچ 624ء
مسلم نوجوان
موجودہ زمانے کے مسلم نوجوانوں کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ ذہنی اعتبار سے ایک غیریقینی صورتِ حال میں مبتلا ہیں- روایتی اسلام جو بطور ورثہ اُنھیں ملا ہے، وہ ان کے ذہن کو مطمئن نہیں کرتا - اسلام کا کوئی دوسرا تصور جو اُن کو مطمئن کرنے…
اس قسم کے بے شمار اختلافات فقہا کے یہاں پائے جاتے ہیں۔ مگر آج ایسا کوئی اختلاف کیا جائے تو اس کو نہایت برا سمجھا جاتا ہے۔
9دسمبر 1991ء
قرآن میں ہے قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلى شاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدى سَبِيلاً (17:84)۔ یعنی، کہو کہ ہر ایک اپنے طریقہ پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستہ پر ہے۔ آیت کا مطلب…
اسلام
اس مختصر جائزے کے بعد اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں یہ فیصلہ کرنا آسان ہے کہ نوع انسانی کی فلاح و بہبود کے لیے کون سا دھرم سب سے بہتر ہے۔ اس کا جواب اسلام کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ تمام خصوصیات اس کے اندر مکمل ترین شکل…