In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…کے لیے ہر ممکن قیمت ادا کرسکے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اسی دور میں ایک حادثہ پیش آیا، جس کی خبر پیشگی طور پر پیغمبر اسلام نے دے دی تھی۔یہ حادثہ فتنۂ دُہَیماء (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4242)، یعنی کامل اندھیرا (utter darkness) کا فتنہ تھا۔
اس فتنے کی بنا پر مسلمان کامل طور پر اس سے بے خبر ہوگئے کہ سیکولر قوموں نے اللہ کی توفیق سے وہ تمام اسباب پیدا کردیے ہیں، جن کو استعمال کرکے شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا کام انجام دیا جاسکتا ہے۔فتنۂ دہیماء کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں، ان کا گہرا مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ غالباًاس سے مراد نفرت مغرب (westophobia) کا فتنہ ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عالمی سطح پر ویسٹو فوبیا کا شکار ہوگئے۔ اس لیے وہ اس عظیم نعمت کو دریافت نہ کرسکے، تاکہ وہ اس کو دعوتی مواقع (opportunities) کے طور پر اَوِیل کرے۔
فتنۂ دہیماء یا ویسٹوفوبیا (westophobia) کے ظاہری اسباب کیا تھے۔ وہ یہ تھے کہ مغربی قوموں نے فطرت کے قوانین (natural laws) کو دریافت کیا، اور طاقت کے جدید خزانوں پر عملاً قابض ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں مغربی قوموں اور مسلمانوں کے درمیان ایک…
شہادت اعظم
اس تاریخی عمل کا غالباً آخری دور وہ ہے، جو تقدیر الٰہی کے تحت غالباً اکیسویں صدی میں پیش آنے والا ہے۔ اس عمل کو قرآن میں گلوبل انذار (الفرقان، 25:1) اور حدیث میں شہادت اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر2938) کا نام دیا گیا ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں بتایا ہے کہ انسانی تاریخ کے آخری زمانے میں ایک واقعہ پیش آئےگا، یعنی شہادت اعظم کا واقعہ۔ شہادت اعظم کا مطلب ہے سب سے بڑی گواہی (the greatest witness)۔گواہی کا مطلب ہے زمین پر پیدا ہونے والے انسانوں کو اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے واقف کرانا۔ تاکہ انسان دنیا میں خالق کے اسکیم آف تھنگس سے باخبر ہوکر زندگی گزارے۔ اس کام کو قرآن میں انذار کہا گیا ہے۔ انسانی تاریخ کے ہر دور میں انذار کا یہ کام مسلسل طور پر جاری رہا۔ کبھی پیغمبروں کے ذریعے اور کبھی ان مصلحین کے ذریعے جنھوں نے پیغمبر کی نیابت میں انذار کے اس کام کو انجام دیا۔
تبیینِ حق کا دور
حدیث میں ایک دعوتی پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے:لَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ معاملہ وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں۔اس پیشین گوئی کو لازماً پورا ہوناتھا۔ اس پیشین گوئی کی تکمیل اہل ایمان کے ذریعے ہوگی۔ اب آخر وقت آگیا ہے کہ اہل ایمان ان مواقع کو جانیں، اور اس کے لیے ضروری پلاننگ کریں۔ اگر اہل ایمان کا ایک گروہ اس کام کے لیے اٹھے، تو اللہ رب العالمین کی تائید ان پر ٹوٹ پڑے گی، اور فرشتے ہر طرف ان کی مدد کے لیے کھڑے ہوجائیں گے، اور عالمی دعوت کا یہ کام اس طرح انجام پائے گا، جیسے کہ اس سے زیادہ آسان کوئی کام نہیں تھا۔اکیسویں صدی میں امت محمدی کو اپنا فائنل رول ادا کرنا ہے۔ یہ فائنل رول ان کے لیے فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فائنل رول وہی ہے، جس کو قرآن میں اعلیٰ سطح پر تبیین حق (فصلت، 41:53) کہا گیا ہے، اور حدیث میں غالباًاسی دعوتی عمل کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا درجہ دیا گیا ہے۔
…عالمی پیغمبر تھے۔ لیکن اس کا ظہور یکبارگی نہیں ہوا، بلکہ تاریخی پراسس کی صورت میں لمبی مدت کے دوران ہوا۔ اس تاریخی پراسس میں صرف امتِ محمدی شامل نہیں تھی، بلکہ دوسری اقوام نے بھی اس تاریخی پراسس میں حصہ لیا۔ اس نکتے کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
اکیسویں صدی میں امتِ محمدی کو اپنا فائنل رول ادا کرنا ہے۔ یہ فائنل رول ان کے لیے فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فائنل رول وہی ہے جس کو قرآن میں اعلیٰ سطح پر تبیینِ حق (فصلت، 41:53) کہا گیا ہے، اور حدیث میں غالباًاسی دعوتی عمل کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا درجہ دیا گیا ہے۔
…کو ،جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے، یہ موقع ملا کہ وہ دونوں سلطنتوں کو ایک کے بعد ایک شکست دے کر ان کا زور پوری طرح توڑ دیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اب ان جابر سلطنتوں کا زورساری دنیا سے پوری طرح ختم ہوگیا، اور ساری دنیا میں آزادی کا دور آگیا۔
دوسرے دور کا انقلاب بالقوۃ طور پر (potentially) پیش آچکا ہے۔ اب اس پوٹنشل کو اویل (avail) کرنا ہے۔ یہ پوٹنشل موجودہ زمانے کاوہ انقلاب ہے،جس کو دورِ مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب کی بناپر پہلی بار تاریخ میں کسی مشن کی عالمی اشاعت کا موقع پیدا ہوا ہے۔اس دور کو قرآن کی اشاعت کے لیےبھر پور طور پر استعمال کرنا ہے۔ حدیث میں جس واقعے کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2938) کہا گیا ہے، اس سے مراد یہی گلوبل دعوہ (global dawah) ہے۔ اسی گلوبل دعوہ کو موجودہ ایج آف کمیو نی کیشن میں آخری آسمانی کتاب قرآن کے حق میں استعمال کرنا ہوگا، اور پھر انسان کے اوپر آخری حجت تمام ہوجائے گی۔
جو لوگ اس امکان کو دریافت کریں، اور قربانی کی سطح پر اس کو بروئے کار لانے کی جدو جہد کریں، ان کے لیے تاریخ کا عظیم ترین انعام مقدر ہے۔ یہ واقعہ حدیث کے الفاظ میں اللہ کے نزدیک شہادتِ اعظم ہوگا، اور اس کے لیے اللہ کی طرف سے جزائے اعظم ،…
ایج آف ریزن
حدیث رسول میں آیا ہے کہ ظہورِ دجال کے وقت ایک شخص دجال کے مقابلے میں حق کی گواہی دے گا(صحیح مسلم ، حدیث نمبر2938) ۔ یہ گواہی تاریخ کی ایک عظیم گواہی ہوگی۔ چنانچہ اس کو حدیث میں شہادتِ اعظم کہا گیا ہے۔ شہادتِ اعظم سے کیا مراد ہے اس کا ایک کُلُو (clue) دجال سے متعلق ایک اور روایت (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2937)میں ملتاہے جس میں حجیج کا لفظ آیا ہے۔ یعنی دلیل و حجت کی سطح پر گواہی دینا۔ حدیث کے اس لفظ کو لے کر اس معاملے کی تشریح کی جائے تو بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں جب دجال کا ظہور ہوگا تو تعقل کا دور (age of reason) آچکا ہوگا۔ دجال بظاہر عقلی اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے لوگوں کو فریب میں مبتلا کرے گا۔ اس کے بعد کوئی اللہ کا بندہ اعلیٰ عقلی استدلال کے ذریعے دجال کی پر فریب باتوں کو غلط ثابت کرے گا۔ وقت کے مطابق یہ کام حجت (reason) کی سطح پر ہوگا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ دورِ سائنس میں پیش آئے گا۔ جب کہ مبنی بر تعقل دلائل کا دور آچکا ہوگا۔
سائنسی دور سے پہلے دینِ حق کی گواہی عقلِ عام (common sense) کی سطح پر دی جاتی رہی ہے۔ اس کے بعد دنیا میں سائنسی دور آیا۔ اس دور کو قرآن میں آفاق و انفس کے دلائل کے ظہور (فصلت،41:53) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ دجال اسی دور میں ظاہر ہوگا۔ وہ جس…
…ایک ہے روایتی دور میں تبیینِ حق، اور دوسرا ہے سائنسی دور میں تبیینِ حق۔ اس دوسرے دور میں وہ علمی فریم ورک (scientific framework)وجود میں آیا، جس کو استعمال کرکے اعلیٰ معرفت حاصل کی جائے، اور دینِ الحاد کا نظری طور پر خاتمہ کردیا جائے۔
تبیینِ حق کے یہ وسائل اکیسویں صدی میں آخری طور پر حاصل ہوچکے ہیں۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہوگیا ہے کہ ان نئے امکانات کو استعمال کرکے دینِ الحاد کا نظری خاتمہ کردیا جائے۔ یہی وہ دور ہےجس کی خبر حدیث میں شہادتِ اعظم کے الفاظ میں دی گئی ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ہَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَہَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِین (صحیح مسلم، حدیث نمبر2938)۔
حدیث میں بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والے ایک عظیم فتنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے لیے حدیث میں فتنۂ دہیماء (ابو داؤد، حدیث نمبر4242)کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔فتنۂ دہیماء کا مطلب ہے، سیاہ فتنہ(black days)۔ یعنی ایسا زمانہ جب کہ کچھ…
…آزادی کے ساتھ زمین (planet earth) پر آباد ہو، اور کامل آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری کرے۔ لیکن اسی کے ساتھ خالق انسانی تاریخ کو مینج کرتا رہا۔ مینجمنٹ کے اسی واقعے کو قرآن میں تدبیر امر (السجدۃ، 32:5) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
انسانی تاریخ کے بارے میں اللہ رب العالمین کا نقشہ یہ تھا کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو اس طرح مینج کیا جائے کہ فطرت کے تمام امکانات دریافت ہو کر سامنے آجائیں۔ خالق نے یہ طریقہ اس لیے اختیار کیا کہ انسان کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) باقی رہے، اور ترقی کا عمل بھی پوری طرح جاری رہے، اور اس پراسس کے نتیجے میں فطرت میں چھپی ہوئی ٹکنالوجی دریافت ہو،جو آخر کار ایک مکمل تہذیب (civilization) کی صورت اختیار کرلے۔ پھر انسانی تاریخ مختلف حالات سے گزرتے ہوئے یہاں تک پہنچے کہ دنیا میں کمیونی کیشن کا دور آئے، امن کا دور آئے، صنعتی تہذیب کا دور آئے، بڑے پیمانے پر انسان کی نقل و حرکت (mobility) کا دور آئے، علوم کی ترقی کا دور آئے، عالمی انٹرایکشن کا دور آئے، کامل آزادیِ خیال کا دور آئے، کھلے پن (openness) کا دور آئے، وہ تمام حالات پیدا ہوجائیں جب کہ وہ دعوتی پلاننگ کی جاسکے، جس کے ذریعے انسان پر کامل معنوں میں اتمام حجت کا واقعہ انجام پائے۔ غالباً یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیثِ رسول میں شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کہا گیاہے۔
اب انسانی تاریخ اکیسویں صدی کے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اس دور میں عالمی شہادت کے تمام موافق حالات مکمل طور پر وقوع میں آچکے ہیں۔ اب پوری طرح ممکن ہوگیا ہےکہ اس دعوتی نشانے کو عملاً ظہور میں لایا جائے، جس کی پیشین گوئی حدیثِ رسول میں ان الفاظ…
…کی پر امن پلاننگ (peaceful planning)کرے، اور خالص پرامن انداز میں سارے عالم تک اللہ کے پیغام کو پہنچادے۔ یہی امت مسلمہ کا فائنل رول ہوگا۔ اسی رول کی ادائیگی کے نتیجے میں امت مسلمہ کو دوبارہ وہ سرفرازی حاصل ہوگی جس کا تاریخ کو انتظار ہے۔
دعوت کی اس عالمی مہم کے لیے دوسرے معروف طریقوں کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ خالص مثبت ذہن کے تحت اعلیٰ معیار کا ایک ٹی وی چینل قائم کیا جائے۔ اس کے ذریعے تمام بڑی بڑی زبانوں میں دعوتی پروگرام نشر کیے جائیں۔ یہ کام مکمل طور پر پر امن دعوت کے تصور کے تحت کیا جائے۔ اس میں نہ مسلمانوں کی مفروضہ مظلومیت کی داستان کا ذکر ہو اور نہ مسلم فخر کا تذکرہ کیا جائے۔ اس ٹی وی کی نشریات تمام تر دعوت الی اللہ کے اصول پر مبنی ہوں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی نشریات لازمی طور پر عصرحاضر کے اسلوب میں ہوں تاکہ وہ آج کے انسان کے ذہن کو ایڈریس کرسکیں۔جدید ٹکنالوجی نے اس بات کو پوری طرح ممکن بنا دیا ہے کہ خدا وندِ رب العالمین کا پیغام ہر گھر میں اور ہر انسان تک پہنچ جائے۔ عالمی دعوت کا یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم کہا گیا ہے:ہَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَہَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِینَ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔
…مند ہونا چاہیے کہ انھوں نے اس موضوع پر بقدر ضرورت ابتدائی کام انجام دے دیا ہے۔ اب امت محمدی کا کام یہ ہے کہ وہ اس کام کو تکمیل تک پہنچائے، اور اسی کے ساتھ ہر زبان میں قرآن کے ترجمہ کو تیار کرکے تمام انسانوں کے لیے اس کی رسائی ممکن بنادے۔
حدیث رسول کے مطابق، تاریخ کے آخری دور میں امت مسلمہ کا ایک فائنل رول ہوگا، جس کو حدیث میں شہادت اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کہا گیا ہے،یعنی مبنی بر حجت دعوت حق کی ادائیگی۔ غالباً یہ شہادت اعظم وہی چیز ہے جس کو قرآن میں تبیین حق (فصلت53:) کہا گیا ہے۔ شہادت اعظم، اور تبیین حق دونوں میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ رول حجت کی سطح پر انجام پائے گا۔
حجت (evidence) کیا ہے۔ حجت ہونا اس بات سے متعین ہوتا ہے کہ اس کا دلیل ہونا فریق ثانی کے نزدیک ثابت شدہ ہو۔ جو حجت فریق ثانی کے نزدیک مسلّم نہ ہو، وہ فریقین کے درمیان دلیل نہیں بن سکتی۔ دعوت کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانوں میں دعوت کے حق…
…(opportunities) کو استعمال کرتے ہوئے اس پیشین گوئی کو عالمی سطح پر واقعہ بنادیں، جو ان الفاظ میں آئی ہے:لیبلغن ہذا الأمر ما بلغ اللیل والنہار (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ امر ضرور وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں۔
ایک حدیث کے مطابق، دور آخر میں سب سے بڑا دعوتی واقعہ ظہور میں آئے گا۔ اس واقعہ کے لیے حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں:ہذا أعظم الناس شہادة عند رب العالمین (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔ یعنی اللہ رب العالمین کے نزدیک یہ سب سے بڑی گواہی ہوگی۔ یہاں شہادت سے مراد دعوت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کے آخری زمانے میں ایک ایسا عظیم دعوتی واقعہ پیش آئے گا، جو شہادت اعظم (greatest witness) کے ہم معنی ہوگا۔
شہادت اعظم کوئی پر اسرار واقعہ یا معجزاتی واقعہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ قوانین فطرت کے مطابق انجام پائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں مسلسل طور پر تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ تبدیلیوں کے اس عمل کے بعد اس کے نقطۂ انتہا (culmination) کے…
…(opportunities) کو استعمال کرتے ہوئے اس پیشین گوئی کو عالمی سطح پر واقعہ بنادیں، جو ان الفاظ میں آئی ہے:لیبلغن ہذا الأمر ما بلغ اللیل والنہار (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ امر ضرور وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں۔
ایک حدیث کے مطابق، دور آخر میں سب سے بڑا دعوتی واقعہ ظہور میں آئے گا۔ اس واقعہ کے لیے حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں:ہذا أعظم الناس شہادة عند رب العالمین (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔ یعنی اللہ رب العالمین کے نزدیک یہ سب سے بڑی گواہی ہوگی۔ یہاں شہادت سے مراد دعوت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کے آخری زمانے میں ایک ایسا عظیم دعوتی واقعہ پیش آئے گا، جو شہادت اعظم (greatest witness) کے ہم معنی ہوگا۔
شہادت اعظم کوئی پر اسرار واقعہ یا معجزاتی واقعہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ قوانین فطرت کے مطابق انجام پائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں مسلسل طور پر تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ تبدیلیوں کے اس عمل کے بعد اس کے نقطۂ انتہا (culmination) کے…
…کمیونی کیشن کے جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئےخالق کے پیغام کو زمین کے ہر چھوٹے بڑے گھر میں پہنچادیا جائے ۔جیسا کہ پیغمبر نے پیشین گوئی کی ہے:لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر، ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر23814)۔
اسلام ہر دور میں پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہوتا رہا ہے۔ کوئی دور اس واقعہ سے خالی نہیں۔ لیکن اسلام کے ظہور کا ایک اور درجہ تھا، جس کو قرآن میں تبیین حق (فصلت 53:)کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔حدیث میں ظہو ر اسلام کے اس واقعے کو شہادت اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر2938) کے الفاظ میں بیا ن کیا گیا ہے۔ اسلام کے اس اعلیٰ ظہور کے لیے اعلیٰ مواقع درکار تھے۔ ایک طرف معرفت رب کے دلائل اور دوسری طرف دعوت کے اعلیٰ مواقع ۔ یہ دونوں چیزیں جدید سائنسی دور میں اپنی کامل صورت میں ظہور میں آچکی ہیں۔ اب ایک ایسے گروہ کی ضرورت ہے جو ان مواقع کو پہچانے ، اور ان کو استعمال کرتے ہوئےاسلام کے اُس آخری ظہور کو واقعہ بنائے جس کو حدیث میں شہادت اعظم (صحیح مسلم ، حدیث نمبر2938)کہاگیا ہے۔
اس نشانے کی تکمیل کے لیے تمام اسباب مہیا ہوچکےہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ منفی سوچ سے باہر آئے، جس کو قرآن میں الرجز (المدثر5:) کہا گیا ہے۔جدید مواقع کو اسلام کے ظہور ِثانی کے لیے استعمال کرنا، انھیں لوگوں کے لیے ممکن ہے جو پوری…
…کہا گیا ہے۔ دوسرے دور میں دعوت کا کام استدلال کے اعتبار سےسائنسی شہادت (scientific evidence) کی بنیاد پر انجام پانا ہے۔ یہ سائنسی شہادت وہی چیز ہے جس کو قرآن میں آیات آفاق و انفس (فصلت53:) کے الفاظ میں پیشگی طور پر بیان کردیاگیا ہے۔
ماڈرن سائنس کوئی اجنبی چیز نہیں۔ یہ دراصل فطرت (nature) کے اندر چھپے ہوئے حقائق کو دریافت کرنے کا نام ہے۔ فطرت میں یہ مخفی دلائل اسی لیے رکھ دیے گیے تھے کہ وقت آنے پر ان کو دریافت کرکے دعوت کےحق میں استدلالی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اب آخری طور پر وہ زمانہ آگیا ہے، جب کہ اس استدلالی بنیاد کو دعوت حق کے لیے استعمال کرکے دعوت حق کا وہ اعلیٰ استدلالی کام انجام دیا جائے جس کو حدیث میں شہادت اعظم (صحیح مسلم ، حدیث نمبر2938) کہا گیاہے۔
موجودہ زمانے میں سائنسی دلائل کی بنیاد پر دعوت کےاس کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ راقم الحروف نے اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا ، اور درجنوں چھوٹی بڑی کتابیں اس موضوع پر لکھی۔ ان میں سے ایک مذہب اور جدید چیلنج ہے جو پہلی بار 1966 میں چھپی تھی۔ اس…
…کی پر امن پلاننگ (peaceful planning)کرے، اور خالص پرامن انداز میں سارے عالم تک اللہ کے پیغام کو پہنچادے۔ یہی امت مسلمہ کا فائنل رول ہوگا۔ اسی رول کی ادائیگی کے نتیجے میں امت مسلمہ کو دوبارہ وہ سرفرازی حاصل ہوگی جس کا تاریخ کو انتظار ہے۔
دعوت کی اس عالمی مہم کے لیے دوسرے معروف طریقوں کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ خالص مثبت ذہن کے تحت اعلیٰ معیار کا ایک ٹی وی اسٹیشن قائم کیا جائے۔ اس کے ذریعے تمام بڑی بڑی زبانوں میں دعوتی پروگرام نشر کیے جائیں۔ یہ کام مکمل طور پر پر امن دعوت کے تصور کے تحت کیا جائے۔ اس میں نہ مسلمانوں کی مفروضہ مظلومیت کی داستان کا ذکر ہو اور نہ مسلم فخر کا تذکرہ کیا جائے۔ اس ٹی وی کی نشریات تمام تر دعوت الی اللہ کے اصول پر مبنی ہوں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی نشریات لازمی طور پر عصرحاضر کے اسلوب میں ہوں تاکہ وہ آج کے انسان کے ذہن کو ایڈریس کرسکیں۔جدید ٹکنالوجی نے اس بات کو پوری طرح ممکن بنا دیا ہے کہ خدا وندِ رب العالمین کا پیغام ہر گھر میں اور ہر انسان تک پہنچ جائے۔ عالمی دعوت کا یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم کہا گیا ہے: ہذا أعظم الناس شہادة عند رب العالمین (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔
شہادتِ اعظم
بعد کے دور میں شہادت کا یہ دعوتی عمل عالمی سطح پر مزید اضافے کے ساتھ انجام پائے گا۔ اس دعوتی واقعے کو حدیث میں شہادت اعظم کہا گیا ہے۔ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دور آئے گا جب کہ شہادت علی الناس یا دعوت الی اللہ کے اس کام کو حجت (reason) کی سطح پر انجام دینا ضروری ہوگا۔ اس وقت امت کے جو افراد وقت کے استدلالی معیار پر اس دعوتی کام کو انجام دیں گے، وہ اللہ کے یہاں بہت بڑے درجے کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس دور میں اللہ کے جو بندے اس کام کو اس کے مطلوب معیار پر انجام دیں گے، ان کے لیے حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: ہذا أعظم الناس شہادةً عند رب العالمین (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔ یعنی یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک لوگوں کے اوپر سب سے بڑی شہادت (دعوت) ہوگی۔
شہادت کے تصور میں تبدیلی
شہادت اعظم
اس تاریخی عمل کا غالباً آخری دور وہ ہے، جو تقدیر الٰہی کے تحت غالباً اکیسویں صدی میں پیش آنے والا ہے۔ اس عمل کو قرآن میں گلوبل انذار (الفرقان، 25:1) اور حدیث میں شہادت اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر2938) کا نام دیا گیا ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں بتایا ہے کہ انسانی تاریخ کے آخری زمانے میں ایک واقعہ پیش آئےگا، یعنی شہادت اعظم کا واقعہ۔ شہادت اعظم کا مطلب ہے سب سے بڑی گواہی (the greatest witness)۔گواہی کا مطلب ہے زمین پر پیدا ہونے والے انسانوں کو اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے واقف کرانا۔ تاکہ انسان دنیا میں خالق کے اسکیم آف تھنگس سے باخبر ہوکر زندگی گزارے۔ اس کام کو قرآن میں انذار کہا گیا ہے۔ انسانی تاریخ کے ہر دور میں انذار کا یہ کام مسلسل طور پر جاری رہا۔ کبھی پیغمبروں کے ذریعے اور کبھی ان مصلحین کے ذریعے جنھوں نے پیغمبر کی نیابت میں انذار کے اس کام کو انجام دیا۔
تبیینِ حق کا دور
حدیث میں ایک دعوتی پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے:لَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ معاملہ وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں۔اس پیشین گوئی کو لازماً پورا ہوناتھا۔ اس پیشین گوئی کی تکمیل اہل ایمان کے ذریعے ہوگی۔ اب آخر وقت آگیا ہے کہ اہل ایمان ان مواقع کو جانیں، اور اس کے لیے ضروری پلاننگ کریں۔ اگر اہل ایمان کا ایک گروہ اس کام کے لیے اٹھے، تو اللہ رب العالمین کی تائید ان پر ٹوٹ پڑے گی، اور فرشتے ہر طرف ان کی مدد کے لیے کھڑے ہوجائیں گے، اور عالمی دعوت کا یہ کام اس طرح انجام پائے گا، جیسے کہ اس سے زیادہ آسان کوئی کام نہیں تھا۔اکیسویں صدی میں امت محمدی کو اپنا فائنل رول ادا کرنا ہے۔ یہ فائنل رول ان کے لیے فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فائنل رول وہی ہے، جس کو قرآن میں اعلیٰ سطح پر تبیین حق (فصلت، 41:53) کہا گیا ہے، اور حدیث میں غالباًاسی دعوتی عمل کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا درجہ دیا گیا ہے۔
In the lectures
Cited at 125s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1577s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2320s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4089s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ذیل میں آپ کے سوالات کا جواب درج کرتا ہوں۔
سورہ الحدید آیت 29
1۔ ’’بینات‘‘ سے مراد میرے نزدیک وہی ہے جس کو علامہ آلوسی اور دوسرے مفسرین نے لکھا ہے یعنی جج و معجزات۔
…اسٹوبرٹ (J. W. H. Stobart) کے الفاظ میں ’’آپ کے پاس جتنے کم ذرائع تھے ،اورجووسیع اورمستقل کارنامہ آپ نے انجام دیا،اس کے ا عتبار سے دیکھاجائے توساری انسانی تاریخ میں اتنانمایاں طورپر درخشاں نام اور کوئی نظرنہیںآتاجتنانبی عربی کاہے ۔‘‘
Islam and its Founder, p. 228
یہ آ پ(صلی اللہ علیہ وسلم)کے نمائندہ ٔ الٰہی ہونے کی ایسی حیرت انگیزدلیل ہے کہ سرولیم میور (William Muir)جیسے شخص کوبھی بالواسطہ طورپراس کااعتراف کرناپڑا