In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
Every individual has an inborn personality bestowed upon him by God. Initially everyone is equal. It is only later, with the development of human potential, that differences arise.
Some achieve a higher level of development than others; the highest level is that of God-realization. There is a tradition which says: “To God, the young believer is better than the old one, and that everyone is good, that is, there is good in everyone. Take those things which are beneficial for you, seek help from God and be humble. And if anything thwarts you, don’t say: ‘I wish I had done such a thing differently’. Say rather: ‘It was according to God’s plan.’” (Sahih Muslim, Hadith No. 2664).
If a person himself feels inferior, he should not lose heart because he may possess hitherto unsuspected qualities. An individual should discover his own potential and live his life accordingly. During any struggle, if he faces problems he…
God is All-powerful and man is completely helpless. This helplessness is the meeting point between God and man. Acknowledging one’s helplessness make one deserving of God’s succour being granted to him.
Among human beings there are those who are strong and those who are weak, mentally as well as physically. This difference is also found among the believers, in the way they have been created. There are some who are strong believers and others who are weak believers. Referring to this difference, there is a Hadith which says: “To God, the strong believer is better and more loving than the weak believer, but there is goodness in both.” (Sahih Muslim, Hadith No. 2664) Now the question arises as to what is meant by goodness in both kinds of believers. The truth is that the goodness in both has two different meanings. The goodness of the strong believer is that God has created him with greater capability, and the goodness of the weak believer is that, due to his lesser ability, God has compensated him with more divine succour. It is obvious that, divine succour ranks higher than human capability. That is why, the weak believer, if he is sincere in his faith, can also, thanks to special divine succour, perform greater tasks than the strong believer. This is without doubt a good tiding for the weak believer.
Weakness is the cause of helplessness, a state in which man cannot stand by himself. God is All-powerful in the complete sense: the power of God encompasses this universe to the ultimate extent. No place is beyond His power. In such a…
ہر ایک کے لیے خیر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:الْمُؤْمِنُ الْقَوِیُّ، خَیْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللہِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیفِ، وَفِی کُلٍّ خَیْرٌ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک بہتر اور زیادہ محبوب ہے کمزور مومن سے، اور بھلائی ہر ایک کے لیے ہے۔
ایک شخص اگر پیدائشی طور پر طاقت ور ہو تو اس کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمام معاملات کو خود اپنی طاقت سے درست کرلے۔ لیکن جو انسان پیدائشی طور پر کمزور ہو، وہ بظاہر اس قابل نہیں ہوتا کہ اپنے معاملات کو خود اپنی طاقت سے درست کرسکے۔…
ہر ایک کے لیے خیر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبی ہریرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:المؤمن القوی، خیر وأحب إلى اللہ من المؤمن الضعیف، وفی کل خیر (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک بہتر اور زیادہ محبوب ہے کمزور مومن سے، اور بھلائی ہر ایک کے لیے ہے۔ ایک شخص اگر پیدائشی طور پر طاقت ور ہو تو اس کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمام معاملات کو خود اپنی طاقت سے درست کرلے۔ لیکن جو انسان پیدائشی طور پر کمزور ہو، وہ بظاہر اس قابل نہیں ہوتا کہ اپنے معاملات کو خود اپنی طاقت سے درست کرسکے۔ لیکن خیر دونوں کے لیے ہے۔ ایک کےلیے اپنی ذاتی طاقت کی بنیاد پر ، اور دوسرے کے لیے اللہ کی مدد کی بنیاد پر۔
جو آدمی ضعیف ہو، وہ اگر منفی نفسیات میں مبتلا نہ ہو تو اس کے اندر اللہ کی یاد جاگ اٹھتی ہے۔ وہ اللہ سے مدد کا طالب بن جاتا ہے۔ اس بنا پر یہ ہوتا ہے کہ اللہ اس کی مدد پر آجاتا ہے۔ جب کمزور انسان یہ کہتا ہے کہ خدایا، تونے مجھ کو کمزور پیدا…
ہر ایک کے لیے خیر
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: المؤمن القوی، خیر وأحب إلى اللہ من المؤمن الضعیف، وفی کل خیر احرص على ما ینفعک، واستعن باللہ ولا تعجز، وإن أصابک شیء، فلا تقل لو أنی فعلت کان کذا وکذا، ولکن قل قدر اللہ وما شاء فعل، فإن لو تفتح عمل الشیطان(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ یعنی ضعیف مومن کے مقابلے میں قوی مومن کے لیے خیر ہے، اور وہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے، لیکن ہر ایک میں خیر ہے۔ حرص کرو اس کی جو تم کو فائدہ پہنچائے۔ اللہ سے مدد مانگو، کمزوری نہ دکھاؤ۔اگر تم کو نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو ایسا ہوتا۔ لیکن کہو اللہ نے مقدر کیا تھا، اور اس نے جو چاہا، وہی ہوا۔ کیوں کہ’’اگر‘‘ شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔
اس حدیث سے تخلیق کی ایک حکمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ بظاہر کوئی شخص کمزور دکھائی دے تو یہ کمزوری ایک اعتبار سے ہوگی، ہر اعتبار سے نہیں۔ یہ تخلیق کا اصول ہے کہ اگر آدمی ایک اعتبار سے کمتر ہوتا ہے تو کسی دوسرے اعتبار سے اسے برتر صلاحیت حاصل…
ہر ایک کے لیے خیر
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: المؤمن القوی، خیر وأحب إلى اللہ من المؤمن الضعیف، وفی کل خیر احرص على ما ینفعک، واستعن باللہ ولا تعجز، وإن أصابک شیء، فلا تقل لو أنی فعلت کان کذا وکذا، ولکن قل قدر اللہ وما شاء فعل، فإن لو تفتح عمل الشیطان(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ یعنی ضعیف مومن کے مقابلے میں قوی مومن کے لیے خیر ہے، اور وہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے، لیکن ہر ایک میں خیر ہے۔ حرص کرو اس کی جو تم کو فائدہ پہنچائے۔ اللہ سے مدد مانگو، کمزوری نہ دکھاؤ۔اگر تم کو نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو ایسا ہوتا۔ لیکن کہو اللہ نے مقدر کیا تھا، اور اس نے جو چاہا، وہی ہوا۔ کیوں کہ’’اگر‘‘ شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔
اس حدیث سے تخلیق کی ایک حکمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ بظاہر کوئی شخص کمزور دکھائی دے تو یہ کمزوری ایک اعتبار سے ہوگی، ہر اعتبار سے نہیں۔ یہ تخلیق کا اصول ہے کہ اگر آدمی ایک اعتبار سے کمتر ہوتا ہے تو کسی دوسرے اعتبار سے اسے برتر صلاحیت حاصل…
مومن قوی، مومن ضعیف
ایک حدیث رسول ہے:المؤمن القوی، خیر وأحب إلى اللہ من المؤمن الضعیف، وفی کل خیر (صحیح مسلم، حدیث نمبر2664)۔ یعنی طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کے مقابلے میں بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اور ہر ایک کےلیے خیر ہے۔
انسان پیدائشی طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں، طاقت ور اور کمزور۔ اس لیے اہل ایمان میں بھی دو قسم کے افراد ہوسکتے ہیں۔ تاہم جس طرح طاقت ور مومن کے لیے خیر ہے، یعنی وہ زیادہ بڑے کام کرسکتا ہے۔ اسی طرح کمزور مومن کے لیے بھی خیر ہے۔ بشرطیکہ اس کے…
ہر ایک کے لیے خیر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:الْمُؤْمِنُ الْقَوِیُّ، خَیْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللہِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیفِ، وَفِی کُلٍّ خَیْرٌ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک بہتر اور زیادہ محبوب ہے کمزور مومن سے، اور بھلائی ہر ایک کے لیے ہے۔
ایک شخص اگر پیدائشی طور پر طاقت ور ہو تو اس کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمام معاملات کو خود اپنی طاقت سے درست کرلے۔ لیکن جو انسان پیدائشی طور پر کمزور ہو، وہ بظاہر اس قابل نہیں ہوتا کہ اپنے معاملات کو خود اپنی طاقت سے درست کرسکے۔…
ہر ایک کے لیے خیر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:الْمُؤْمِنُ الْقَوِیُّ، خَیْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللہِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیفِ، وَفِی کُلٍّ خَیْرٌ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک بہتر اور زیادہ محبوب ہے کمزور مومن سے، اور بھلائی ہر ایک کے لیے ہے۔
ایک شخص اگر پیدائشی طور پر طاقت ور ہو تو اس کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمام معاملات کو خود اپنی طاقت سے درست کرلے۔ لیکن جو انسان پیدائشی طور پر کمزور ہو، وہ بظاہر اس قابل نہیں ہوتا کہ اپنے معاملات کو خود اپنی طاقت سے درست کرسکے۔…
In the lectures
Cited at 3072s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4549s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6540s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1220s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1378s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3129s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خبرنامہ اسلامی مرکز- 266
■ 30 جولائی 2018 کو امریکن سنٹر (کولکاتا) نے ’آور وائس آور جرنی، اے کنورسیشن وِد وومن چینج میکرس‘ کے عنوان سے ایک پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا۔ شرکاء میں عالمی شہرت یافتہ شخصیات کافی تعداد میں موجود تھیں۔ مس شبینہ علی (سی پی ایس ٹیم ممبر،…
Philippines
26
13
…خدا سے ڈرنے والے انسان كا ذكر هے، اور جس انسان كے دل ميں خدا كا ڈر سمايا هو وه اگر كبھي جذبات سے مغلوب هو كر كوئي گناه كرلے تو اس كے بعد اتني شدت كے ساتھ اس كے اوپر گناه كا احساس طاري هوتا هے كه وه پهلے سے بھي زياده پاك انسان بن جاتاهے۔
26
عباده بن الصامت رضي الله عنه كهتے هيں كه رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا جو شخص گواهي دے كه الله كے سوا كوئي اله نهيں اور يه كه محمد اس كے بنده اور اس كے رسول هيں۔ اور يه كه عيسي الله كے بندے اور اس كے رسول هيں اور وه اس كي بندي كے…
خبرنامہ اسلامی مر کز- 264
٭ سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت جو اہم کام ہو رہا ہے ، وہ ہے دنیا کے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام ان کی قابلِ فہم زبانوں میں پہنچ جائے۔ اس سلسلے میں گڈ ورڈ بکس کی یہ کوشش رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ زبانوں میں قرآن کے ترجمے شائع کیے جائیں۔ اب…
خبرنامہ اسلامی مرکز- 269
سی پی ایس انٹرنیشنل کا بنیادی مشن یہ ہے کہ قرآن کے پیغام کو سارے عالم کے انسانوں تک پہنچایا جائے،اور یہ کام تمام قوموں کی قابل فہم زبان میں کیا جائے۔ اس سلسلے کی کچھ اہم سرگرمیاں درج ذیل ہیں
خبرنامہ اسلامی مرکز- 267
صدر اسلامی مرکز کو ساری دنیا میں پڑھا اور سنا جاتا ہے۔مثلاً ہمارے فیس بک پیج، مولانا وحید الدین خان (@@maulanawkhan)،اور سی پی ایس انٹرنیشنل (@@cpsinternational)، نیز مولانا عبد الباسط عمری (قطر)کے زیر انتظام چل رہے اردو فیس بک پیج حکمت و…