In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…کو یہ سبق دیں گے کہ تمھارا کام یہ ہے کہ تم ساری دنیا میں اسلام کی عظمت کا جھنڈا لہراؤ ۔اس طرح وہ مسلمانوں کے اندر ایک ایسا ذہن پیدا کردیں گے جو اپنے اعلان کے اعتبار سے تو اسلامی ذہن ہوگا، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے صرف تخریبی ذہن۔
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِیبًا، وَسَیَعُودُ کَمَا بَدَأَ غَرِیبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاء (صحیح مسلم، حدیث نمبر145)۔یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اور دوبارہ وہ اجنبی ہوجائے گا، تو مبارک ہیں ایسے اجنبی لوگ۔اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بعد کے زمانے میں کوئی دور ایسا آئے گا، جب کہ اسلام کا وجود باقی نہ رہے۔ اسلام کے اجنبی ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اصل ماڈل کا لوگوں کے لیے اجنبی ہوجانا۔ یعنی اس دور میں اسلام بظاہر پوری طرح موجود ہوگا، لیکن اسلام کی اصل اسپرٹ باقی نہ رہے گی۔ اس زمانے میں اسلام اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے مفقود ہوگا، نہ کہ اپنی شکل کے اعتبار سے۔
غالباً اس حدیث کا ایک مطلب یہ ہے کہ بعد کے دور میں لوگ دین کے خود ساختہ ماڈل کو لے کر سرگرم ہوجائیں گے۔ اس لیے ایسی حالت میں جب ان کے سامنے دین کا اصل ماڈل پیش کیا جائے گا تو وہ ان کو اجنبی معلوم ہوگا۔ اس وقت جو لوگ اجنبیت کے پرد ےکو پھاڑ…
…(introspection) کرکے اپنی بھرپور ڈی کنڈیشننگ کرتا ہے، اس کے بعدوہ اپنے آپ کو آلودگی سے پاک کرکےوہ ذہن بناتا ہے جس کو شریعت میں مزکی شخصیت کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ قرآن کو پڑھے اور اس کو گہرائی کے ساتھ اپنا سکے۔
ایک مشہور حدیث ہے: بدأ الإسلام غریبا، وسیعود کما بدأ غریبا، فطوبى للغرباء (صحیح مسلم، حدیث نمبر145)۔یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اور دوبارہ وہ اجنبی ہوجائے گا، جیسا کہ وہ شروع میں تھا۔ پس مبارک ہیں وہ لوگ جو اجنبی ہوجائیں۔ غریب کا مطلب اجنبی (stranger) ہے۔ اجنبیت کا لفظ ایک تقابلی لفظ ہے۔ یعنی کسی کے مقابلے میں اجنبی ہوجانا۔
ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پیغمبر اسلام قدیم عرب میں آئے۔ اس وقت وہاں بنواسماعیل آباد تھے۔ ابتدءاً وہ لوگ دین ابراہیم پر قائم تھے، مگر ان کی بعد کی نسلوں پر زوال آیا۔ وہ لوگ اب بھی دین ابراہیم کا نام لیتے تھے، لیکن وہ عملا ًاصل…
…پرامن دعوت کا کام کریں۔مگر تمام مسلم رہنما خواہ وہ عرب ہوں یا نان عرب، سب نے متفقہ طور پر اسرائیل کے معاملے میں ٹکراؤکا طریقہ اختیار کیا۔ اس معاملے میں وہ اس انتہا تک پہنچ گیے کہ خود کش بمباری (suicide bombing )کو جائز ٹھہرادیا، وغیرہ۔
اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس فرق کا سبب وہی ہے جس کو مختلف حدیثوں میں پیشگی طور پر بتادیا گیا تھا۔ وہ یہ کہ امت مسلمہ بعد کے زمانےمیں انحراف کا شکار ہوجائے گی۔ امت مسلمہ کا یہ بگاڑ اس نوبت تک پہنچ جائے گا کہ اصل دین امت کے اندر غریب (صحیح مسلم، حدیث نمبر145)ہوجائے گا۔ یعنی اصل دین لوگوں کے درمیان اجنبی دین بن جائے گا، اور خود ساختہ دین لوگوں کے درمیان معروف دین کی حیثیت اختیار کر لے گا۔
بعد کے زمانے میں پیش آنے والا ظاہرہ اسی صورتِ حال کا نتیجہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیش آنے والے حالات کے نتیجے میںامت کے اندر دین کا نشانہ بدل گیا۔ حالات کے زیرِ اثر انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ امتِ مسلمہ کا مشن یہ ہے کہ وہ امت کا…
In the lectures
Cited at 65s — opens the lecture at this moment.
Cited at 344s — opens the lecture at this moment.
Cited at 612s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1098s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1323s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1939s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2464s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6342s — opens the lecture at this moment.
Cited at 94s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1353s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1781s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1789s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2173s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3088s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3203s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4129s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4152s — opens the lecture at this moment.