Shukr All cross-references →
Hadith 631
Bukhari 631
Read the original at sunnah.com ↗

Hadith numbering is edition-dependent — verify against the source.

Explained in 2 book passages and 7 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Al-Risala February 2018 A original + quote

…کام کو حدیث میں تجدیدِ امت (سنن ابوداود، حدیث نمبر4291) کہا گیاہے۔ امت کی ایک ضرورت یہ ہے کہ فارم کے اعتبار سے اس کا ڈھانچہ برابر قائم رہے۔ اور امت کی دوسری ضرورت یہ ہے کہ ہر نسل میں اس کے افراد کی مطابقِ حالات ذہنی تعمیر کی جاتی رہے۔

دو سطحی نظام کی ضرورت اس لیے ہے کہ فارم کی ایک مستقل صورت ہوتی ہے۔ مثلا پنج وقتہ نماز کا نظام یا سالانہ حج کا نظام ، وغیرہ ۔ یہ ہمیشہ ایک ہی ہیئت (form) پر قائم رہیں گے۔ دینی نظام کایہ پہلوعملی اعتبار سے ابدی ہے۔ اس ابدی پہلو کی طرف پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا: صلوا کما رأیتمونی أصلی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 631)۔ اس حدیث کا مخاطب صرف صحابہ نہ تھے، بلکہ وسیع تر انداز میں اس کا خطاب پوری امتِ محمدی سے ہے۔

لیکن جہاں تک امت کے افراد کا معاملہ ہے، وہ ہمیشہ ایک حالت پر قائم نہیں رہتے۔ بلکہ نسل در نسل ان کے اندر تبدیلی آتی رہتی ہے۔دادا کے بعد باپ، باپ کے بعد بیٹا، بیٹے کے بعد پوتا، وغیرہ۔ بعد میں آنے والی نسلوں کو ہمیشہ مختلف حالات سے سابقہ…

Al-Risala february 2017 A original + quote

… ، اور آخر کار ان کا خالق اس سے کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ اس عمل کو قرآن میں انذار و تبشیر کہا گیا ہے۔ پیدا ہونے والے انسان چوں کہ قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے، اس لیے انذار و تبشیر کا عمل بھی قیامت تک جاری رہے گا۔

اس معاملہ میں پیغمبر کی حیثیت نمونہ (model) کی ہے۔ پیغمبر نے اپنے زمانے میں انذار و تبشیر کا جو کام کیا، وہ ایک اعتبار سے اپنی ذمے داری کی ادائیگی کے طور پر تھا، اور دوسرے اعتبار سے وہ تمام اہل ایمان کےلیے نمونہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ حدیث میں آیا ہے: صلوا کما رأیتمونی أصلی(صحیح البخاری، حدیث نمبر631)۔ توسیعی معنی کے اعتبار سے حدیث میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم انذار و تبشیر کا کام اس طرح کرو جس طرح تم مجھ کو کرتے ہوئے دیکھتے ہو۔

قرآن حدیث میں یہ حکم بار بار آیا ہے ۔ مثلا قرآن میں ہے کہ امت محمدی کی حیثیت امت وسط (البقرۃ143:)کی ہے۔ یعنی بیچ کی امت۔ اُس کا کام یہ ہے کہ وہ سچائی کا علم پیغمبر سے حاصل کرے، اور پھر اس کو بعد کے زمانے میں تمام قوموں…

In the lectures

Cited at 140s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1112s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1134s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1160s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3425s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3684s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5285s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

مطابق 9 مارچ 631ء

ذی قعدہ 6ھ

سریۂ عیص

جمادی الاولیٰ 6ھ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ قریش کا ایک کا روان تجارت شام سے واپس آ رہا ہے۔ اس اطلاع کے ملنے پر آپ نے زید بن حارثہ کو ایک سو ستر سواروں کے ہمراہ عیص کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ مقام مدینہ سے چار دن کے فاصلہ پر ساحل کے قریب…

واقعۂ حدیبیہ

ذوالقعدہ6ھ

حدیبیہ ایک کنویں کا نام ہے جس کے متصل ایک گائوں آباد ہے جواسی نام سے مشہور ہے۔ یہ گائوں مکہ سے 9 میل کے فاصلہ پر ہے۔

مطابق جون 628ء

سریہ ام قرفہ

رمضان6ھ

ام قرفہ ایک عورت کی کنیت ہے جس کا نام فاطمہ بنت ربیعہ تھا۔ یہ عورت قبیلہ بنی فزارہ کی سردار تھی۔ زید بن حارثہ ایک مرتبہ مال تجارت لے کر شام کی طرف جاتے ہوئے یہاں سے گزرے۔ بنی فزارہ کے لوگوں نے ان کو مار کر زخمی کر دیا اور تمام سامان چھین…