Shukr All cross-references →
Hadith 6227
Bukhari 6227
Read the original at sunnah.com ↗

Hadith numbering is edition-dependent — verify against the source.

Explained in 13 book passages and 9 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Discovering God (p. 66) A original + quote

…by meditation, training himself to silently utter the word of God spontaneously with every breath or beat of his heart. Such practices are irrelevant to attaining maarifah. They have no connection or relation with the realization of God.

There is a tradition which tells us that: “God has created man in His own image.” (Sahih al-Bukhari, Hadith No. 6227) There is also an Arabic proverb which says: “One who has recognized himself, has recognized his God also.” (Hilyat al-Awliya, vol. 10, p. 208)

This is doubtless very meaningful. It means that just as a human being has an ‘I’ (a sense of being), in the same way God has an ‘I’ on a much larger scale. The existence of this consciousness (the ‘I’) in human beings is an exception in…

Discovering God (p. 70) A original + quote

The Discovery of the Existence of the Creator

The Prophet of Islam once observed: “God created man in His own image.” (Sahih al-Bukhari, Hadith No. 6227). This means that man has been created as a natural exception in this vast universe. With his personal experience, man can understand that if a natural exception is possible here, then a supernatural exception is certainly possible. The existence of man, makes the existence of God understandable.

The vast universe consists of innumerable stars and planets. Our earth has countless animals, but no human-like creation exists anywhere in the entire universe. A human being is a rare exception in the entire universe. If we ponder over…

Discovering God (p. 185) A original + quote

Man–An Exceptional Creature

A tradition of the Prophet of Islam reported in books of Hadith reads: “God created Adam in His own image.” (Sahih al-Bukhari, Hadith No. 6227) This does not mean that man is like God in physical appearance. It means that God has in a limited way granted to man those divine attributes which exist in perfect form in God’s being.

In the entire universe a human being is an exceptional creature. His is a living existence. He is the only creature who has been granted a complete personality. He thinks, sees, hears, carries out planned action and can enjoy a multitude…

Al-Risala June 2020 A original + quote

انسان کے لیے سبق

قرآن میں ایک انسانی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِہِ بَصِیرَةٌ ، وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِیرَہُ (75:14-15)۔ یعنی بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے ، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ اگر وہ عذر (excuse) کا شکار نہ ہو، تو وہ خود اپنی تخلیق پرغور کرکے بڑی بڑی باتیں سیکھ سکتا ہے۔ اس کی زندگی خود ایک لائبریری ہے۔ اپنے مطالعہ سے خود وہ اپنے لیے بڑے بڑے سبق دریافت کرسکتا ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر6227)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو صفتیں کامل طور پر اللہ رب العالمین کی ذاتی صفتیں ہیں، ان میں سے کچھ محدود طور پر انسان کو بطور عطیہ دی گئی ہیں۔

مثلاً انسان جب اس کائنات کو دیکھتاہے ، تو اس کو یہ نظرآتا ہے کہ پوری کائنات نہایت منصوبہ بند انداز میں چل رہی ہے۔سورج ہمیشہ ٹھیک اپنےوقت پر نکلتا ہے، اور ٹھیک متعین وقت پر غروب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پوری کائنات زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر…

Al-Risala December 2019 A original + quote

خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گِلِ کوزہ

یعنی وہ خود ہی کوزہ ہے، خود ہی کوزہ بنانے والا اور خود ہی کوزہ کی مٹی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ معرفت کے حصول میں آدمی کو خود اپنا جج بننا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت اصلاً اللہ کی معرفت کا نام ہے۔ لیکن اس معرفت کا آغاز خود اپنی ذات کی معرفت سے ہوتا ہے۔ کسی عارف نے درست طور پر کہا ہے مَنْ عَرَفَ نَفْسَہُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہ(حلیۃ الاولیاء، جلد10، صفحہ208)۔ یعنی جس نے اپنے آپ کو جان لیا، اس نے اپنے رب کو جان لیا۔ حدیث میں آیا ہے  خَلَقَ اللَّہُ آدَمَ عَلَى صُورَتِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی ذات کے عارف بنو، اپنے خالق کے عارف بن جاؤ گے۔

اللہ کی معرفت کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ حقیقت شناس (realist) بنائے۔ وہ اپنے آپ کو کٹ ٹو سائز (cut to size) بنائے۔وہ یہ جانے کہ اللہ قادرِ مطلق ہے،اور وہ صرف عاجزِ مطلق کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انسان اپنے آپ…

Al-Risala September 2019 A original + quote

…کہ شاید ہی کوئی آدمی اتنا زیادہ خوشی کی زندگی گزارتا ہو۔ تادمِ تحریر (31 جنوری 2019) دونوں زندہ ہیں۔ مذکورہ تاجر پہلے دلی کے نظام الدین ویسٹ ;کے علاقے میں رہتے تھے، اور اب دونوں آگرہ کے مضافات (suburb)میں ایک گھر میں ایک ساتھ رہتے ہیں۔

اس واقعے کو جاننے کے بعد مجھے ایک حدیث یاد آئی:خَلَقَ اللَّہُ آدَمَ عَلَى صُورَتِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس حدیث کو لے کر میں نے سوچا تو میری سمجھ میں آیا کہ اس کا مطلب شاید یہ ہے کہ انسان کا مطالعہ کرکے کوئی شخص اللہ کو دریافت کرسکتا ہے۔ اللہ کو شاید سب سے زیادہ جو چیز پسند ہے ، وہ یہ ہے کہ اس کا کوئی بندہ ایسا ہو، جو دل و جان سے اس کا وفادار (loyal)ہو۔ کسی بندے کے بارے میں اگر ثابت ہوجائے کہ وہ آخری حد تک اللہ کا کامل وفادار ہے، تو ایسا بندہ اللہ کو اتنا زیادہ محبوب بن جاتاہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ وہ ایسے بندے کو سب کچھ دے دے، حتی کہ ابدی جنت (eternal paradise) بھی۔

کامل وفاداری کسی انسان کی سب سے بڑی صفت (quality) ہے۔ جو آدمی حقیقی معنیٰ (real sense) میں اپنے بارے میں یہ ثابت کردے کہ وہ اپنے رب کا کامل وفادار ہے، وہ دل و جان سے پورے معنیٰ میں اللہ والا انسان ہے۔ یہی وہ کامل وفاداربندہ ہے، جس کے…

Al-Risala May 2019 A original + quote

انسان کے لیے سبق

قرآن میں ایک بات ان الفاظ میں آئی ہے:بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِہِ بَصِیرَةٌ ، وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِیرَہُ (75:14-15)۔ یعنی بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے ، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ اگر وہ عذر (excuse) کا شکار نہ ہو، تو وہ خود اپنی تخلیق پرغور کرکے بڑی بڑی باتیں سیکھ سکتا ہے۔ اس کی زندگی خود ایک لائبریری ہے۔ اپنے مطالعہ سے خود وہ اپنے لیے بڑے بڑے سبق دریافت کرسکتا ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر6227)۔ یعنی انسان کو وہ صلاحیتیں بہت ہی چھوٹے پیمانے پر دی گئی ہیں، جو صفات بہت زیادہ بڑے پیمانے پر اللہ رب العالمین کی ہیں۔

انسان جب اس کائنات کو دیکھتاہے ، تو اس کو یہ نظرآتا ہے کہ پوری کائنات نہایت منصوبہ بند انداز میں چل رہی ہے۔ سورج ہمیشہ ٹھیک اپنےوقت پر نکلتا ہے، اور متعین وقت پر غروب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پوری کائنات زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر چل رہی ہے۔…

Al-Risala May 2019 A original + quote

…جاتی ہے۔ خدا کو دریافت کرتے ہی انسان کو وہ شاہ کلید (master key) مل جاتی ہے، جس کے بعد اس کے لیے ہر چیز کو دریافت کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ خدا کو دریافت کرتے ہی اس کے ذہن کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں، یہاں تک کہ کوئی دروازہ اس پر بند نہیں رہتا۔

خدا کی دریافت کسی انسان کے لیے اتنا ہی آسان ہے، جتنا خود اپنی دریافت۔ اسی لیے کہا گیا ہے :مَنْ عَرَفَ نَفْسَہُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہُ (حلیۃ الاولیاء، 10/208)۔ یعنی جس نے اپنے آپ کو دریافت کیا، اس نے اپنے خدا کو دریافت کرلیا۔اس قول کو ایک حدیث پر غور کرکے سمجھا جاسکتا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:خَلَقَ اللَّہُ آدَمَ عَلَى صُورَتِہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔

اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ اللہ رب العالمین کے اندر جو صفات رب کی سطح پر ہیں، وہی صفات بندے کے اندر انسان (مخلوق)کی سطح پر رکھی گئی ہیں۔ اس بنا پر یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک سے دوسرے کو سمجھے۔ وہ اپنی معرفت حاصل کرکے اللہ رب العالمین کی معرفت…

Al-Risala April 2018 A original + quote

اللہ سے امید

انسان کی تخلیق کے بارے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: خلق اللہ آدم على صورتہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227) ۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس حدیث میں آدم سے مراد انسان ہے، اور صورت (image)کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر اس مثبت (positive) صفات کا ایک شمہ (very little part)رکھ دیا گیا ہے، جو اللہ رب العالمین کے اندر کامل معنوں میں موجود ہے، مثلاً رحم و شفقت ۔

یہ حدیث رسول ایک امید (hope) کی حدیث ہے۔ یہ حدیث آپ کو موقع دیتی ہے کہ آپ اللہ سے امید قائم کریں ۔ وہ یہ کہ اللہ نے جب انسان کے اندر رحمت کا یہ جذبہ رکھا ہے کہ غصہ آنے پر وہ کسی کو معاف کردے توخود اللہ کے اندر یہ صفت یقیناً بے حساب گنا…

Al-Risala March 2018 A original + quote

…(superstition) کی بنیاد پر قائم تھا۔ سائنس نے توہم پرستی کے دور کو مکمل طور پر ختم کردیا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ مظاہر پرستی کا دور علمی طور پر ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں آفاق کی آیات کے ذریعے بتائی گئی ہے۔

اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں انفس کی نشانیوں کے ذریعہ حق کی تبیین ہوگی۔انفس سے مراد انسان ہے ۔ آیاتِ انسان سے کس طرح حق کی تبیین ہوتی ہے۔ اس کا اشارہ ایک حدیث میں ملتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا:خلق اللہ آدم على صورتہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ایک ایسا وجود ہے جس کا مطالعہ کرکے خالق کی پہچان حاصل ہوتی ہے۔ انسان کے اندر وہ تمام صلاحتیں چھوٹی سطح پر پائی جاتی ہیں، جو خالق کے اندر اعلیٰ سطح پر موجود ہیں۔ کائنات پوری کی پوری ایک مادی کائنات ہے۔ مگر کائنات کے اندر ایک ہستی ایسی پائی جاتی ہے، جس کو انسان کہا جاتاہے۔ انسان کے اندر دماغ (Mind) ہے، انسان دیکھنے اور سننے کی صلاحیت رکھتاہے، وہ اپنے ارادے سے کام کرتا ہے، انسان واحد مخلوق ہے جس کے اندر مَیں (I) کا شعور پایا جاتاہے، وغیرہ۔ غالباً اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِہِ بَصِیرَةٌ (75:14)۔ یعنی انسان اپنے وجود کو دریافت کرکے خالق کی دریافت تک پہنچ سکتا ہے۔مثال کے طور پر فرانسیسی فلسفی ڈیکارٹ (René Descartes) نے انسان کے وجود پر غور کیا۔ اس نے کہا کہ میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں:

I think, therefore, I am

Al-Risala July 2016 A original + quote

…ڈر گئے، اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزادے۔ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کی توبہ قبول کرے۔ اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے(33:72-73)۔

امانت کا لفظی مطلب ٹرسٹ (trust) ہے۔ انسان کو جو امتیازی صفات دی گئی ہیں، وہ اس کے پاس بطور امانت ہیں۔حدیث میں آیا ہے خلق اللہ آدم على صورتہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر6227)۔ یعنی اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ جو صفتیں (attributes) خالق کے اندر کمال کے درجے میں پائی جاتی ہیں ، وہ انسان کو شمّہ (iota) کے بقدر عطا کی گئی ہیں۔

ان صفات کے ساتھ انسان کوکامل اختیار دیا گیا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی اس آزادی کا غلط استعمال نہ کرے۔ بلکہ اس کو جائز حدود کے اندر استعمال کرے۔ جائز حدود کے اندر آزادی کو استعمال کرنے والے کے لیے ابدی زندگی میں جنت کا انعام…

Al-Risala June 2020 A original + quote

انسان کے لیے سبق

قرآن میں ایک انسانی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِہِ بَصِیرَةٌ ، وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِیرَہُ (75:14-15)۔ یعنی بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے ، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ اگر وہ عذر (excuse) کا شکار نہ ہو، تو وہ خود اپنی تخلیق پرغور کرکے بڑی بڑی باتیں سیکھ سکتا ہے۔ اس کی زندگی خود ایک لائبریری ہے۔ اپنے مطالعہ سے خود وہ اپنے لیے بڑے بڑے سبق دریافت کرسکتا ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر6227)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو صفتیں کامل طور پر اللہ رب العالمین کی ذاتی صفتیں ہیں، ان میں سے کچھ محدود طور پر انسان کو بطور عطیہ دی گئی ہیں۔

مثلاً انسان جب اس کائنات کو دیکھتاہے ، تو اس کو یہ نظرآتا ہے کہ پوری کائنات نہایت منصوبہ بند انداز میں چل رہی ہے۔سورج ہمیشہ ٹھیک اپنےوقت پر نکلتا ہے، اور ٹھیک متعین وقت پر غروب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پوری کائنات زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر…

Al-Risala June 2020 A original + quote

انسان کے لیے سبق

قرآن میں ایک انسانی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِہِ بَصِیرَةٌ ، وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِیرَہُ (75:14-15)۔ یعنی بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے ، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ اگر وہ عذر (excuse) کا شکار نہ ہو، تو وہ خود اپنی تخلیق پرغور کرکے بڑی بڑی باتیں سیکھ سکتا ہے۔ اس کی زندگی خود ایک لائبریری ہے۔ اپنے مطالعہ سے خود وہ اپنے لیے بڑے بڑے سبق دریافت کرسکتا ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر6227)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو صفتیں کامل طور پر اللہ رب العالمین کی ذاتی صفتیں ہیں، ان میں سے کچھ محدود طور پر انسان کو بطور عطیہ دی گئی ہیں۔

مثلاً انسان جب اس کائنات کو دیکھتاہے ، تو اس کو یہ نظرآتا ہے کہ پوری کائنات نہایت منصوبہ بند انداز میں چل رہی ہے۔سورج ہمیشہ ٹھیک اپنےوقت پر نکلتا ہے، اور ٹھیک متعین وقت پر غروب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پوری کائنات زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر…

In the lectures

Cited at 2160s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3222s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3248s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3277s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3608s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6193s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6221s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3136s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3189s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

… ۔ ایک مسیحی تصنیف پر تبصرہ 57

آپ بیتی 62

تاریخ …

12 ربیع الاول 1ھ

مطابق 27ستمبر 622ء

بروز جمعہ

مطابق 23مارچ 627ء

Give to king what is due to the king. And give to God what is due to God.

Similarly, a Hadith cited by Al-Bukhari says:

Give the ruler his rights. Ask for your rights from God. Peace under all circumstances

27 رجب 10 نبوت

مطابق 22مارچ 637ء

بروز شنبہ

خبرنامہ اسلامی مرکز— 227

1- گڈورڈ بکس اور سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے تعاون سے ہندستان اور ہندستان سے باہر کے ملکوں میں خاص طور پرانگریزی ترجمہ قرآن کے ذریعے دعوتی کام جاری ہے- مثلاًجون 2013 سے فلسطین اور اسرائیل کے شہروں ، یروشلم، بیت لحم، ہیبرون، ناصرہ…