In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
Traditions tell of how the Prophet of Islam usually observed silence. (Musad Ahmad, Hadith No. 20810) Many traditions have been recorded on this subject. For example: “Hold fast to silence.” (Sunan al-Darmi, Hadith No. 2484).
“A believer is one who either speaks good or remains silent.” (Sahih al-Bukhari, Hadith No. 6018).
“Anyone who observed silence, saved himself.” (Musnad Ahmad, Hadith No. 6481).
…کا مطالعہ کیا جائے تو ان مسحور کن شخصیتوں نے حقیقی معنوں میں کبھی کوئی بڑا کام نہیں کیا۔ مثلا جرمنی کا ہٹلر اپنی تقریر سے لوگوں کو سحر میں مبتلا کردیتا تھا۔ لیکن 56 سال کی عمر میںجب وہ مرا تو اس نے تعمیر و ترقی کی کوئی یادگار نہیں چھوڑی۔
حقیقت یہ ہے کہ بڑے آدمی کی پہچان نہ شاندار شخصیت ہے، اورنہ شاندار خطابت، حتی کہ شاندار حافظہ بھی کسی آدمی کے بڑے ہونے کی پہچان نہیں۔ کسی آدمی کے بڑے ہونے کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کے اندر اللہ کا خوف پایا جاتا ہو۔ یہ معیار ایک حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے:اللہ کا خوف حکمت کا سرا ہے(شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 730)۔اللہ کا خوف آدمی کو متواضع (modest) بناتا ہے۔ اللہ کا خوف آدمی کو سنجیدہ (sincere) بناتا ہے۔ اللہ کا خوف آدمی کو محتاط (cautious) بناتا ہے۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر وہ صفت پیدا کرتا ہے، جس کو حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے، وہ بھلی بات کہے یا وہ چپ رہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018)۔یہ صفات آدمی کو مین آف وزڈم (man of wisdom)بناتی ہے، اور جو آدمی مین آف وزڈم ہو، وہی آدمی جانتاہے کہ سوچنے کے وقت وہ کیا سوچے اور بولنے کے وقت وہ کیا بولے۔
…رہنماؤں کا پیدا کردہ ہے۔ جو لوگ نااہلی کے باوجود رہنمائی کے میدان میں کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ ان کو سب سے زیادہ آسان یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ ظلم و مظلومیت کا افسانہ گھڑیں، اور اس طرح ایک طبقہ کے درمیان کچھ شہرت (popularity) حاصل کریں۔
جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ مواقع کو دریافت کریں ، اور مواقع کو بتاکر لوگوں کی مثبت رہنمائی کریں۔ فطرت کے قانون کے مطابق،مسائل خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں، مواقع ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ رہنما کا کام مواقع کی دریافت ہے۔ مسائل کا نام لے کر ان کے خلاف احتجاج کرنا کوئی کام نہیں۔ یہ رہنمائی کے نام پر لوگوں کو بھٹکانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حدیث میں یہ کہا گیاہے — کہنے کے قابل کوئی بات ہو تو کہو، ورنہ چپ رہو:مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالیَوْمِ الآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُتْ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر ذمہ داری کا احساس ہو گا، اس کا حال یہ ہوگا کہ کہنے کے قابل کوئی بات ہوگی تو وہ کہے گا، ورنہ وہ چپ رہے گا۔
…زماں، رازی دوراں، بیہقی وقت ، یا یہ کہ فلاں شخص عہد ساز شخصیت کا حامل ہے، وغیرہ۔ یعنی موجودہ زمانے میں کوئی یہ کہے کہ میں ایسا ہوں، میں ویسا ہوں،یافلاں شخص وقت کا یہ ہے،اور فلاں شخص وقت کا وہ ہے، تو کوئی شخص اس کو قابلِ غور نہیں سمجھے گا۔
آج کا دور سائنسی استدلال کا دور ہے۔ آج کے زمانے میں بات کو فرد کے حوالے سے نہیں مانا جاتا ہے، بلکہ دلیل کے حوالے سے مانا جاتا ہے۔حدیث میں آیا ہے :مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالیَوْمِ الآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُت (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018)۔یعنی جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ بھلی بات کہے یا چپ رہے۔ آج کا انسان کہے گا کہ تمھارے پاس اگر مبنی بر عقل (reason based) کوئی بات ہے تو بولو، ورنہ چپ رہو۔
…مگر اس کے بعد انھوں نے اپنے جواب میں جو بات (وَنَحْنُ مِنْہُ فِی مُدَّةٍ لاَ نَدْرِی مَا ہُوَ فَاعِلٌ فِیہَا) کہی ۔ یہ رسول اللہ کے کردار کے بارے میں ایک مشتبہ بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قسم کا مشتبہ بیان اسلامی تعلیما ت کےمطابق جائز نہیں۔
اعلیٰ انسانی اخلاق یہ ہے کہ آدمی وہ بات کہے جو عملاً واقعہ بن چکا ہو۔ جو بات واقعہ نہیں بنی، اس کو بیان کرنا زیر بحث شخصیت کے کردار کو مشتبہ بنانے کے ہم معنی ہے۔ یہ طریقہ بلاشبہ درست طریقہ نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ خیر (ثابت شدہ) بات بولے، ورنہ چپ رہے:وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالیَوْمِ الآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُت(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018)۔ یعنی جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ خیر کی بات کہے، یا چپ رہے۔
دلیل کے بغیر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نصیحت ان الفاظ میں آئی ہے: من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیرا أو لیصمت(صحیح البخاری، حدیث نمبر6018)۔ یعنی جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، تو اس کو چاہیے کہ وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے۔
عربی زبان میں خیر کے معنی بھلائی کے ہوتے ہیں۔ قول کی نسبت سے یہاں اس کا مطلب مدلل بات (reason-based word) ہے۔ اس حدیث کا تعلق اجتماعی زندگی سے ہے۔ اجتماعی زندگی میں آدمی جب کسی کے بارے میں کوئی بات کہے تو وہ صرف بیانیہ انداز میں نہ ہو،…
In the lectures
Cited at 1932s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2887s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3311s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4526s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4644s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5028s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6337s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1053s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2024s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2640s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3341s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6350s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
Give to king what is due to the king. And give to God what is due to God.
Similarly, a Hadith cited by Al-Bukhari says:
Give the ruler his rights. Ask for your rights from God. Peace under all circumstances
…مسجد کے اندر کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ لوگوں نے اس کو تنبیہہ کرنا چاہا مگر آپ نے منع فرما دیا۔ آپ نے کہا کہ دیہاتی کو چھوڑ دو ا ور ایک ڈول پانی لا کر وہاں بہا دو۔ چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ (بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، ابو داؤد، مؤطا)
(Sahih al-Bukhari: 220, Sunan al-Nasai: 56, Sunan al-Tirmidhi: 147, Sunan Abi Dawud: 380, Musnad Ahmad: 10533)
دیہاتی پر اس واقعہ کا بہت اثر پڑا۔ اپنے قبیلہ میں واپس جا کر اس نے لوگوں سے پورا قصہ بیان کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے یہ حرکت کی کہ عبادت خانہ میں پیشاب کر دیا۔ مگر خدا کی قسم، محمد نے مجھ پر غصہ نہیں کیا۔ انھوں نے مجھے نہیں جھڑکا (مسند…
…پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ ان کے عمل کو دیکھنے والا ہے- اِس آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ قتال کا یہ عمل کوئی مستقل عمل نہیں - وہ ایک محدود عمل ہے، جو صرف ختم فتنہ تک جاری رہے گا- فتنہ ختم ہوجائے تو یہ قتال بھی ختم ہوجائے گا-
ایک حدیث کی وضاحت
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: الجہاد ماض إلى یوم القیامة، مذ بعث اللہ محمدا صلى اللّہ علیہ وسلم إلى آخر عصابة من المسلمین، لا ینقض ذلک جور جائر، ولا عدل عادل (المعجم الأوسط للطبرانی، رقم الحدیث: 4775) یعنی جہاد جاری رہے گا قیامت…