Shukr All cross-references →
Hadith 50
Bukhari 50
Read the original at sunnah.com ↗

Hadith numbering is edition-dependent — verify against the source.

Explained in 13 book passages and 15 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Discovering God (p. 4) A original + quote

…honest in his search, if there is no negativity in his thinking, if he is free from prejudices, if he has become a completely complex-free soul, attainment of maarifah for him is as certain as the dawn of light after the rising of the sun.

In the words of the Angel Gabriel, the Prophet of Islam once said: “Worship God as if you were seeing Him.” (Sahih al-Bukhari, Hadith No. 50) This is the most correct definition of maarifah. This may be put in a different way: God-realization is to have conviction in God’s existence, as if you were seeing Him. How can one achieve this kind of maarifah? The way to achieve maarifah is to first of all discover creation and then, through creation, reach the Creator. For if there is creation, there must be a Creator.

In the first quarter of the 20th century, it was discovered that the universe had come into existence as a result of the Big Bang. This was like the discovery of God in the language of science. This means that when the universe has a…

Discovering God (p. 243) A original + quote

…Quranic thinking and the external environment have become one. In silent language the scenes of nature bear witness to your Quranic thinking being indeed a universal reality, and that the universe is also functioning on the same pattern.

When, in the morning, a person reflects upon the messages of God in the peaceful environment of nature, he starts feeling the presence of God. Then he has that state induced in him which has been thus expressed in an injunction in a hadith: “Worship God as if you are seeing Him.” (Sahih al-Bukhari, Hadith No. 50) This state cannot be arrived at on one’s own. It is produced undoubtedly with the help of the angels. This is to testify to inner thinking of the believer. This is a superior form of worship. And such an experience is not possible without the support of the angels.

VISION OF GOD

In the books of Hadith, there is a narration by the famous Hadith-e Jibreel. One part of this Hadith is: ‘Worship God as though you are seeing Him. Or if you are not seeing Him, He is seeing you.” (Sahih al-Bukhari, Hadith No. 50)

In the above Hadith, the reality of worship is explained. Reflecting on this tradition, one learns that although the direct vision of God is not possible for man, man can find God at the level of indirect vision. Although apparently, there…

Glorification Of God Book A original + quote

This concept of hulool or incarnation, is totally baseless. Some Sufis have introduced this concept in the form of monism into Islam, but it is certainly without foundation, and has no room in Islam.

The Quran says, “Prostrate yourself and come near” (96:19). This shows that the incidence of nearness between God and man does take place but God and man do not become one entity. Rather what happens is that when the servant becomes a true sajid (one who prostrates himself before God), at a psychological level, he experiences nearness to God. He comes in contact with God. He whispers to God. In the words of the Hadith, he begins to worship God as if he were seeing God. (Sahih al-Bukhari, Hadith No. 50) The concept of unity (vahdat) does not exist between God and man, but in Islam the concept of the nearness between God and man is valid in the perfect sense.

Al-Risala July 2022 A original + quote

Ecology is the study of organisms and how they interact with the environment around them.

اللہ نے جس عالم کو تخلیق کیا، اس کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے۔یہ تخلیقات انسان کو اس کے خالق کی یاد دہانی کراتی ہیں۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ کائناتی نشانیوں کے ذریعہ اللہ رب العالمین کو دریافت کرے۔ اس کی دریافت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ أَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَأَنّک تَرَاہُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر50) کا کیس بن جائے۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ بات صرف عبادت کی حد تک نہ ہو، بلکہ خدا اس کا واحد کنسرن (sole concern) بن جائے۔وہ ہر چیز میں اللہ کی کار فرمائی کا مشاہدہ کرے۔ اس کے لیے اللہ کا معاملہ صرف رسمی عقیدہ کا معاملہ نہ رہے، بلکہ اللہ اس کے لیےایک زندہ عقیدے کا معاملہ بن جائے۔

مگر انسان ان نشانیوں کے درمیان بے خبری کی زندگی گزارتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بوڑھا ہوجاتا ہے، اور پھر بڑھاپا اس کے لیے ایک شاکنگ تجربہ بن کر یاد دلاتا ہے کہ خالق کے کتنے انوکھے انعامات ہیں۔ مگر وہ اس کے ذریعے خدا کو جاننے کے معاملے میں…

Al-Risala November 2020 A original + quote

اللہ کی رؤیت

حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے، جو حدیث جبریل کے نام سے مشہور ہے۔ اس حدیث کا ایک جزء یہ ہے:أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر50)۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔

اس حدیث میں عبادت کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ حدیث پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اگرچہ براہِ راست اللہ کی رؤیت (دیدار)ممکن نہیں ، لیکن انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ شِبہ رؤیت کے درجے میں اللہ کو پاسکے۔ رؤیت…

Al-Risala May 2019 A original + quote

…ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں ہر ممکن ذریعے سے مطالعہ اور تحقیق شروع کردیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے، جس کو دریافت (discovery) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ درجہ ہے، جب کہ مومن کا لفظی اقرار اس کی پوری ہستی کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔

اللہ کے بارے میں اس کی دریافت اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ گویا کہ اس کو دیکھنے لگتا ہے(أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ) صحیح البخاری، حدیث نمبر50 ۔ بظاہر نہ دیکھتے ہوئے بھی وہ اس پر دیکھنے کی مانند یقین کرنے لگتا ہے۔ قرآن کی ایک آیت سے اس معاملے کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ (وہ کہہ اٹھتے ہیں) اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بےمقصد نہیں بنایا(3:191) ۔ اس آیت کو دیکھیے، ایک سچے انسان کے لیے غور و فکر کے بعد یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ وہ ’’کہہ اٹھتے ہیں‘‘، لیکن قرآن میں ’’کہہ اٹھتے ہیں‘‘ کو حذف کردیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے بعد ان کے اندر غور وفکر کا جو گہرا پراسس جاری ہوتا، وہ نتیجے تک پہنچتے پہنچتے اتنا شدید ہوتا ہے کہ گویا وہ چیخ اٹھتے ہیں:رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذَا بَاطِلًا ۔

Al-Risala May 2019 A original + quote

…س کا امر یہ ہے کہ انسان صرف اسی کی عبادت کرے، اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرے۔قرآن کی اس آیت سے حکومت الٰہیہ کا نظریہ نکالنا سر تا سر بے بنیاد ہے۔ یہ خبر کو انشاء بنانے کے ہم معنی ہے۔ ایسا کرنا مذموم تفسیر بالرائے کی ذیل میں آتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ اللہ کا حکم ساری کائنات میں بالفعل قائم ہے، نہ کہ انسان اس کو قائم کرے۔یہ معاملہ خبر کا معاملہ ہے، نہ کہ انشاء کا معاملہ۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ رب العالمین کو دریافت کرے۔ اس کی دریافت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر50) کا کیس بن جائے۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم ا س کو دیکھ رہے ہو۔ بات صرف عبادت کی حد تک نہ ہو، بلکہ وہ اپنی پوری زندگی اسی میں جینے لگے۔ اس کا جینا، اور اس کا مرنا، سب کا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہوجائے۔ وہ ہر چیز میں اللہ کو دیکھے، وہ ہر چیز میں اللہ کی کار فرمائی کا مشاہدہ کرے، وہ اس طرح کامل معنوں میں اللہ کا عبد بن جائے، جیسے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ اس کے لیے اللہ کا معاملہ صرف رسمی عقیدہ کا معاملہ نہ رہے، بلکہ اللہ اس کے لیےایک زندہ عقیدہ کا معاملہ بن جائے، جیسا کہ آیت الکرسی میں بیان کیا گیا ہے۔ آیت الکرسی ایک لمبی آیت ہے اس کا ترجمہ یہ ہے:

اﷲ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان…

Al-Risala May 2019 A original + quote

…تھی۔ وہ جب اقوام متحدہ میں ہوتے تھے، تو ان کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پوری اقوام متحدہ ان سے بھری ہوئی ہے۔ اس ریمارک کو میں نے پڑھا تو میں نے محسوس کیا کہ یہ بات زیادہ درست طور پر اللہ رب العالمین کے لیے صادق آتی ہے۔

صبح کے وقت جب آپ کسی کھلی جگہ پر ہوں، اور کھلے آسمان میں کائنات کے منظر کو دیکھیں ، توواضح طور پر معلوم ہوگا کہ ساری کائنات خدا کی عظمت سے بھری ہوئی ہے۔اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا (17:78)۔ یعنی بیشک فجر کی قرأت مشہود ہوتی ہے۔ یہی بات قرآن کی ایک اور آیت میںقیامت کی نسبت سے ان الفاظ میں آئی ہے:وَمَا قَدَرُوا اللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالْأَرْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہ(39:67)۔جب انسان کو اللہ رب العالمین کی حقیقی معنوں میں دریافت ہوتی ہے، اس وقت انسان کو پرزنس آف گاڈ (presence of God) کا احساس ہونے لگتا ہے۔اسی حقیقت کی طرف حدیث جبریل میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے:أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50)۔یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، اور اگر تم نہیں دیکھتے ہو تو وہ تم کو دیکھتا ہے۔

Al-Risala August 2018 A original + quote

…کی قربانی کرتے ہیں۔ یہ قربانی عام زندگی سے کوئی علیحدہ چیز نہیں، اس کا تعلق انسان کی تمام زندگی سے ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ قربانی کی اسپرٹ کے ساتھ دنیا میں رہیں۔ قربانی کی اسپرٹ تمام اسلامی اعمال کا خلاصہ ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے :وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56) ۔یعنی اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔ عبادت کی حقیقت کیا ہے۔ اس کو پیغمبر ِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50 ؛صحیح مسلم، حدیث نمبر 8)۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اس کو نہیں دیکھتے تو وہ تم کو دیکھتا ہے۔

اِس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے تصورِ عبادت کے مطابق، انسان کے لیے زندگی کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ انسان، خدا کی ہستی کو اِس طرح دریافت کرے کہ اُس کو ہر لمحہ خدا کی موجودگی (presence) کا احساس ہونے لگے۔

Al-Risala September 2017 A original + quote

اللہ کی رؤیت

حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے، جو حدیث جبریل کے نام سے مشہور ہے۔ اس حدیث کا ایک جزء یہ ہے: أن تعبد اللہ کأنک تراہ، فإن لم تکن تراہ فإنہ یراک (صحیح البخاری، حدیث نمبر50)۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔

اس حدیث میں عبادت کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ حدیث پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اگرچہ براہ راست اللہ کی رؤیت ممکن نہیں ، لیکن انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ شِبہہ رؤیت کے درجے میں اللہ کو پاسکے۔ رویت اور شِبہہ…

Al-Risala November 2020 A original + quote

اللہ کی رؤیت

حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے، جو حدیث جبریل کے نام سے مشہور ہے۔ اس حدیث کا ایک جزء یہ ہے:أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر50)۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔

اس حدیث میں عبادت کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ حدیث پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اگرچہ براہِ راست اللہ کی رؤیت (دیدار)ممکن نہیں ، لیکن انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ شِبہ رؤیت کے درجے میں اللہ کو پاسکے۔ رؤیت…

Al-Risala November 2020 A original + quote

اللہ کی رؤیت

حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے، جو حدیث جبریل کے نام سے مشہور ہے۔ اس حدیث کا ایک جزء یہ ہے:أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر50)۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔

اس حدیث میں عبادت کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ حدیث پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اگرچہ براہِ راست اللہ کی رؤیت (دیدار)ممکن نہیں ، لیکن انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ شِبہ رؤیت کے درجے میں اللہ کو پاسکے۔ رؤیت…

In the lectures

Cited at 182s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2492s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2810s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3543s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3575s — opens the lecture at this moment.

Cited at 856s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1025s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1134s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1662s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1968s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2521s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2864s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3230s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3608s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4440s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…کی دنیا 59

زلزلہ 50

فطرت میں توازن کا اصول 34

…سے تقریبا 400کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ تاہم لوگوں کے خوف و ہراس کا عالم یہ تھا کہ پکینگ کی ، 60 لاکھ آبادی نے ممکنہ موت کے ڈر سے اپنے مکانات چھوڑ دیئے اور کئی راتیں سٹرکوں اور پارکوں میں گزاریں جبکہ ان کے سروں پر موسلا دھار بارش ہورہی تھی۔

صفحہ نمبر 50 پر یہاں تصویر ہے

ایک مسئلہ