In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیںوَذَلِکَ جَزَاءُ مَنْ تَزَکَّى (20:76) ۔ یعنی ،اور یہ (جنت) جزاء ہے اس شخص کے لیے جس نے اپنا تزکیہ کیا۔اس آیت میںجس تزکیہ کا ذکرہے اس کو انسانی زبان میں ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
ڈی کنڈیشننگ دوسرے الفاظ میں سیلف کریکشن (self-correction) کے عمل کا نام ہے۔ آدمی اپنے بچپن اور جوانی کی عمر میں ذہنی اعتبار سے غیر پختہ (immature) ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں وہ تجزیہ کرنے اور صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہر آدمی اپنے ماحول کے اعتبار سے متاثر ذہن (conditioned mind)بن جاتا ہے۔اس حقیقت کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پرفطرت صحیحہ پر ہوتا ہے۔ مگر ماحول سے متاثر ہو کروہ غیر فطری زندگی اختیار کرلیتا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔
اس کو نفسیات کی اصطلاح میں کنڈیشننگ(conditioning) کہتے ہیں۔اس کنڈیشننگ کی بنا پر آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ چیزوں کو بے آمیز صورت میں دیکھ سکے۔ وہ چیزوں کو ویسانہیں دیکھتا جیسا کہ وہ ہیں۔ بلکہ وہ چیزوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسا کہ اس…
…گیا ہے: أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللَّہُ الَّذِینَ جَاہَدُوا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصَّابِرِینَ(3:142)۔ اسی طرح قرآن میں دوسرے مقام پر یہ بتایا گیا ہے کہ جنت صرف مزکّی شخصیتوں کے لیے ہے (طہٰ، 20:76) ۔
یہاں یہ سوال ہے کہ تزکیہ کا تعلق سخت حالات سے کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جب تک سخت حالات پیش نہ آئیں، آدمی کا تزکیہ مکمل نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیہ کے عمل میں سب سے زیادہ اہم رول ڈی کنڈیشننگ کا ہے۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ ہر آدمی کے ساتھ یہ پیش آتا ہے کہ اس کے والدین اس کو اپنے آبائی مذہب پر پختہ کردیتے ہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385) ۔ تزکیہ کا سب سے اہم عمل یہ ہے کہ وہ انسان کی پختہ تاثر پذیری کو توڑے۔انسان جو کہ ایمان سے پہلے ماحول کا پروڈکٹ بنا ہوا تھا، وہ ایمان کے اثر سے ربانی شعور کا پروڈکٹ بن جائے۔ اسی کا نام تزکیہ ہے۔ تزکیہ در اصل سیلف ڈی کنڈیشننگ کا دوسرا نام ہے، یعنی اپنی متاثر شخصیت کو غیر متاثر شخصیت بنانا۔ فطرت پر پڑے ہوئے پردے کو پھاڑ کر انسان کو دوبارہ اپنی فطری حالت پر قائم کرنا۔ یہ تزکیہ ہے، اور تزکیہ سخت حالات ہی میں مکمل صورت میں انجام پاتا ہے۔ سخت حالات کے بغیر کسی شخص کے اندر ڈی کنڈیشننگ کا پراسس جاری نہیں ہوتا۔ سخت حالات انسان کو آخری حد تک جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ سخت حالات گویا کسی انسان کے لیے "ایپل شاک" کی مانند ہیں۔ نیوٹن کو ایپل شاک کے بغیر زمین کی قوت ِکشش کا ادراک نہیں ہوا۔ اسی طرح مومن کے لیے سخت حالات ایپل شاک کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس تجربے کے بغیر کوئی شخص کامل معنوں میں مزکیّٰ شخصیت نہیں بنتا۔
Dawah is de-conditioning, both of Muslims as well as of non-Muslims.
حدیث میںبتایا گیا ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اُس کے ماں باپ اُس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں (کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ، أَوْ یُنَصِّرَانِہِ، أَوْ یُمَجِّسَانِہِ)صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عام انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو کر سچائی سے ہٹ جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے بارہ میں قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ بعد کے زمانہ میں وہ، دوسری امتوں کی طرح خود ساختہ دین کو دین سمجھ کر اُس پر قائم ہوجائیں گے۔ اس اعتبار سے دونوں ہی گروہوں کا کیس اپنے اپنے لحاظ سے کنڈیشننگ کا کیس ہے۔ اور دونوں ہی کے سلسلہ میں یہ کرنا ہے کہ اُن کی کنڈیشننگ کو ختم کر کے اُنہیں اپنی اصل حالت کی طرف لوٹایا جائے۔
تزکیہ کا عمل
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے۔اس حدیث میں ایک فطری مسئلے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ، أَوْ یُنَصِّرَانِہِ، أَوْ یُمَجِّسَانِہ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ہر پیداہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔
اس حدیث میں ایک ایسے عمل (process) کا ذکر ہے، جو ہر انسان کے ساتھ لازماً پیش آتا ہے۔ ہر انسان اصلاً مذہبِ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، مگر بعد کووہ اپنے قریبی کلچر سے متاثر ہو کر دھیرے دھیرے ماحول کا پروڈکٹ (product) بن جاتاہے۔ یہ واقعہ ہر…
حق کی مخالفت
حق کی مخالفت اصلاً صرف ایک سبب سے ہوتی ہے، اور وہ ہے ماحول کی کنڈیشننگ۔ ہر انسان ایک ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ آدمی اپنے قریبی ماحول سے اثر قبول کرتا ہے۔ اس تاثر پذیری کو جدید نفسیاتی اصطلاح میںکنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔اسی معاملے کو حدیث میں ماں باپ کی طرف منسوب کیا گیا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔
یہ کنڈیشننگ اگرچہ گہری ہوتی ہے، لیکن وہ انسان کی فطرت کو نہیں بدلتی۔ انسان کا حقیقی مزاج بدستور انسان کی فطرت میں موجود رہتا ہے۔ انسان کے لیے ہمیشہ یہ ممکن رہتاہے کہ وہ اپنی ضمیر کی آواز کو سنے، اور اپنی کنڈیشننگ کو ڈی کنڈیشنڈ کرسکے۔…
…(advantageous position) حاصل ہے۔ وہ یہ کہ دوسروں کے برعکس، مسلمانوں کا ذہن اسلام کے خلاف تعصّب سے خالی ہوتا ہے۔ اِس بنا پر مسلمان ممکن طورپر اس قابل رہتے ہیں کہ وہ کسی نفسیاتی رکاوٹ کے بغیر اِس بارے میں غور وفکر کا صحیح نقطۂ آغاز پالیں۔
حدیث میں آیا ہے: کُلُّ مَوْلُودٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرتِ صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یا تو یہودی بنا دیتے ہیں۔ یانصرانی بنا دیتے ہیں، یا مجوسی بنادیتے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا کسی خاندان میں پیداہوتا ہے اور کسی سماج میں اس کی پرورش ہوتی ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی بچپن ہی سے متاثّر ذہن کا حامل بن جاتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ (conditioning) کہا…
…کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنی کنڈیشننگ کو توڑ کر سوچ نہیں پاتا۔ حقیقت کے اعتبار سے وہ کنڈیشننگ میں جیتا ہے، لیکن بطور خود یہ سمجھتا ہے کہ میں ایک ثابت شدہ حقیقت پر جی رہا ہوں۔ یہ خود فریبی انسان کے لیے ہمیشہ سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی ہے۔
حدیث میں اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے گھر کا ماحول اس کو کنڈیشننگ کا شکار بنادیتا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔ یہ کنڈیشننگ بلاشبہ ہر انسا ن کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی کنڈیشننگ کو ختم کرے۔ وہ اپنے آپ کو مسٹر کنڈیشنڈ کے بجائے، مسٹر ڈی کنڈیشنڈ بنائے۔ جو آدمی ایسا نہ کرسکے، وہ سچائی کو قبول کرنے میں ناکام ہوجائے گا۔ خواہ رسول کا زمانہ ہو یا رسول کے بعد کا زمانہ ۔
کنڈیشننگ کا ایک نقصان یہ ہے کہ آدمی ذہنی جمود (intellectual stagnation) کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ڈی کنڈیشنڈ آدمی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے، اس بنیاد پر وہ سچائی کو اس کی درست شکل میں دیکھتا ہے، اور اس کو قبول کرلیتا ہے۔ہر…
ماحول کا اثر
ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، قَالَ:قَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ، أَوْ یُنَصِّرَانِہِ، أَوْ یُمَجِّسَانِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی بنادیتے ہیں، یا نصرانی، یا مجوسی۔
اس حدیثِ رسول میں والدین سے مراد قریبی ماحول ہے۔ ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت وہ صرف ایک بچہ ہوتا ہے، یعنی ناپختہ انسان(immature human being)۔ فطرت کے اعتبار سے ہر آدمی اپنی زندگی کا آغاز ناپختگی سے کرتا ہے۔ اس لیے ہر…
کنڈیشننگ کا مسئلہ
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ، أَوْ یُنَصِّرَانِہِ، أَوْ یُمَجِّسَانِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ہر پیدا ہونے والا، فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ اس حدیث رسول میں زندگی کی ایک حقیقت کو تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ حدیث ہر انسان کے لیے ہے، وہ صرف یہودی یا نصرانی یا مجوسی کے لیے نہیں ہے۔
علم نفسیات کے مطابق، ہرانسان کنڈیشننگ کا کیس ہوتا ہے۔ پیدا ہونے کے اعتبار سے وہ فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے، لیکن پیدا ہوتے ہی وہ اپنے ماحول سے متاثر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس اثرپذیری (conditioning) کا نتیجہ آخر کار یہ ہوتا ہے کہ ابتدا میں…
…گیا ہے:کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ(3:185)۔ اس حقیقت کے بارے میں حدیثِ رسول میں یہ الفاظ آئے ہیں:أَکْثِرُوا ذِکْرَ ہَادِمِ اللَّذَّاتِ، الْمَوْتَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر4258)یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھادینے والی ہے۔
ھادم اللذات کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ موت کی یاد سوپر ڈی کنڈیشننگ (super deconditioning) کا ذریعہ ہے۔ ہر آدمی ضرور اپنے ماحول کی کنڈیشننگ کا شکار ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر عورت اور مردلازمی طور پر مسٹر کنڈیشنڈ یا مس کنڈیشنڈ بن جاتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ، أَوْ یُنَصِّرَانِہِ، أَوْ یُمَجِّسَانِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔
اس عمومی کنڈیشننگ کی بنا پر ہر آدمی کی یہ ضرورت ہے کہ وہ شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ ڈی کنڈیشننگ کا یہ عمل (process) عام حالت میں بہت سست ہوتا ہے۔ لیکن موت کا واقعہ ایک دھماکہ خیز واقعہ ہے ۔ آدمی کے اندر اگر موت کی…
…ایک بیان ان الفاظ میں آیا ہے: قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلَى شَاکِلَتِہِ فَرَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ ہُوَ أَہْدَى سَبِیلًا (17:84)۔ یعنی کہو کہ ہر ایک اپنے شاکلہ پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمھارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستے پر ہے۔
شاکلہ کے لفظی معنی طریقے کے ہیں، یعنی طریقِ فکر (way of thinking)۔ قرآن میں شاکلہ سے مراد وہ طریقہ ہے، جو ہر انسان کے مزاج کا حصہ ہوتا ہے۔ اب دیکھیے کہ وہ کون سا طریقہ ہے۔ یہ بات ایک حدیثِ رسول سے معلوم ہوتی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر1385 )۔اس حدیثِ رسول کی روشنی میں آیت کا مفہوم متعین کیا جائے تو اس آیت میں موجود اھدی سبیلا سے مراد الفطرۃ ہے، یعنی وہ مزاج یا مائنڈ سیٹ (mindset) جو انسان کو پیدائش سے ملتا ہے۔ یہی اصل فطری مزاج ہے۔ لیکن انسان پیدا ہونے کے بعد ایک ماحول میں رہتا ہے۔ اس ماحول کے اثر سے ہر انسان کی ایک مزاج سازی ہونے لگتی ہے۔ اس مزاج سازی کو آج کل کی زبان میں کنڈیشننگ کہہ سکتے ہیں۔ پھر دھیرے دھیرے ایسا ہوتا ہے کہ اس کی کنڈیشننگ اس پر چھاجاتی ہے۔ اس کی سوچ کنڈیشنڈ سوچ بن جاتی ہے۔
حدیثِ رسول میں یہودی، نصرانی، اور مجوسی کےالفاظ آئے ہیں۔ یہ الفاظ مطلق معنی میں نہیں ہیں، بلکہ علامتی معنی میں ہیں ۔ یعنی آپ کسی ماحول میں جاتے ہیں تو اسی کے مطابق آپ کی کنڈیشننگ شروع ہوجاتی ہے،یہاں تک کہ دھیرے دھیرے انسان اپنے قریبی…
He returns after Hajj like a newborn child.
اِس حدیث کو سمجھنے کے لیے ایک اور حدیث کو دیکھیے۔ ایک اور روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی اور مجوسی اور نصرانی بنا دیتے ہیں(صحیح البخاری،حدیث نمبر 1385)۔
ان دونوں حدیثوں پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوتاہے کہ حج کی عبادت اگر صحیح اسپرٹ کے ساتھ کی جائے تو وہ حاجی کے لیے وہی چیز بن جاتی ہے جس کو آج کل کی زبان میں ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہا جاتاہے۔
وضوح کا مسئلہ
وضوح (clarity) فکر یا تقریر و تحریر کا بے حد اہم پہلو ہے۔ یہ در اصل وضوحِ بیان ہے جو کسی کلام کو موثر (effective) بناتا ہے۔ جو کلام وضوح بیان سے خالی ہو، وہ عملاً ایک بے نتیجہ کلام بن جائے گا۔ وہ کہنے والے کے لیے ایک کلام ہوگا، لیکن سننے یا پڑھنے والے کے لیے وہ غیرواضح الفاظ کا ایک مجموعہ۔وضوح کی شرط صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ تقریر و تحریر سے پہلے آدمی خود اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔یہ حقیقت ہے کہ پیدا ہوتے ہی آدمی کی کنڈیشننگ شروع ہوجاتی ہے۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:کل مولود یولد على الفطرة، فأبواہ یہودانہ، أو ینصرانہ، أو یمجسانہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔
ڈی کنڈیشننگ پہلے آدمی کی کنڈیشننگ کو ختم کرتی ہے۔ اس کے بعد انسان اس قابل بنتا ہے کہ وہ بے آمیز انداز میں سوچے۔ وہ آبجکٹیو انداز میں رائے قائم کرے۔ اس لیے جو لوگ اپنی ڈی کنڈیشننگ سے پہلے تقریر و تحریر کا عمل شروع کردیں، ان کا کیس کم و…
…تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا وَذَلِکَ جَزَاءُ مَنْ تَزَکَّى (20:76) ۔ یعنی ان کے لئے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بدلہ ہے اس شخص کا جس نے اپنا تزکیہ کیا۔
تزکیہ کیا ہے۔ یہ ایک حدیث رسول کے مطالعے سے سمجھ میں آتا ہے۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان الفطرۃ پر پیدا کیا گیا ہے۔ مگر ماحول کے اثر سے وہ غیر فطری زندگی اختیار کرلیتا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر مزکیّٰ شخصیت (فطرت صحیحہ) پر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ماحول کی کنڈیشننگ (conditioning) کی وجہ سے وہ ایک مصنوعی شخصیت بن جاتاہے۔ ایسی حالت میں تزکیہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اس مسئلہ کو جانے اور اپنی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) کرکے دوبارہ اپنے آپ کو فطری شخصیت بنائے۔ یہی وہ فطری شخصیت ہے جو مزکّی شخصیت ہوگی۔
ڈی کنڈیشننگ دوسرے الفاظ میں سیلف کرِکشن (self-correction) کے عمل کا نام ہے۔ سیلف کرکشن یا ڈی کنڈیشننگ کا یہ کام کوئی دوسراشخص نہیں کرسکتا۔ یہ کام ہر آدمی کو خود کرنا پڑتا ہے۔ ہر عورت اور مرد کا پہلا فرض ہے کہ وہ اپنا محاسبہ…
ایک حدیث رسول
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: کل مولود یولد على الفطرة، فأبواہ یہودانہ، أو ینصرانہ، أو یمجسانہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔ یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔
یہاں والدین کا لفظ علامتی معنی میں ہے، یعنی ماحول (environment) ۔ آدمی جس طرح کے ماحول میں زندگی گزارتا ہے، اسی کے مطابق اس کی کنڈیشننگ ہوتی رہتی ہے۔ چناں چہ ہر انسان ایک کنڈیشنڈ انسان ہوتا ہے۔ مگر یہ کنڈیشننگ اوپری نوعیت کی ہوتی ہے۔اس…
…الإیمان قبل القرآن)۔ یعنیـ" ایمان سیکھنا قرآن سے پہلےـ" کا مطلب یہ ہے دل کو تیار (prepare)کرنا، تاکہ وہ اخذ کرسکےقرآن کی تعلیمات کو، اور اس کی روشنی سے ہدایت پاسکے۔ پس وہ ایسا ہے جیسے زمین کو تیار کرنا تاکہ وہ کھیتی کے قابل ہوجائے۔
اس روایت کا مطلب کنڈیشننگ (conditioning) کے اصول سے سمجھ میں آتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ ہر پیدا ہونے والالازمی طور پر اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ماحول کا پروڈکٹ بن جاتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر1385) ۔ ایسی حالت میں ایمان قبول کرنا، اپنے ذہن کے اعتبار سے ایک ایسی چیز کو قبول کرنا ہے جو آدمی کے لیے ایک نئی چیز ہے۔اس لیے ہمیشہ یہ اندیشہ رہتا ہے کہ آدمی نئی چیز کو متاثر ذہن (conditioned mind) کے ساتھ دیکھے، اور اس کو درست طور پر سمجھ نہ سکے۔ ایسی حالت میں ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایمان سے پہلے ایک پیشگی کام کرے۔ یعنی اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) کرکے اس کو تیار ذہن (prepared mind) بنائے، تاکہ وہ نئی چیز کو کھلے ذہن کے ساتھ دیکھے، اور بے آمیز صورت میں اس کو لے سکے۔
یہ گویا تطہیر ذہن (purification of the mind) کا معاملہ ہے۔ اس تطہیر کے بغیر کوئی بھی شخص، ایمان کو حقیقی طور پر نہیں سمجھ سکتا۔ اس تطہیر کے بغیر اگر وہ ایمان قبول کرتا ہے تو وہ اس کے لیے داخل القلب ایمان (الحجرات14:) نہ ہوگا، بلکہ وہ ایمان…
In the lectures
Cited at 80s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6084s — opens the lecture at this moment.
Cited at 108s — opens the lecture at this moment.
Cited at 129s — opens the lecture at this moment.
Cited at 169s — opens the lecture at this moment.
Cited at 183s — opens the lecture at this moment.
Cited at 909s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1119s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1763s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1864s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2387s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2415s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3704s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4320s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4394s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5339s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6111s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبرانہ سچائی ہمیشہ مجرد سچائی ہوتی ہے۔ تاریخ سے کٹ کر اور ماحول سے اٹھ کر ہی آدمی پیغمبرانہ سچائی کو پہچان سکتا ہے، اور بدقسمتی سے ایسے لوگ معلوم انسانی تاریخ کے مطابق شاید پیدا ہی نہیںہوئے۔
13 اگست 1985
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے۔ اور اگر اس میں بگاڑ آجائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ اور یہ قلب ہے (أَلاَ وَإِنَّ فِی الجَسَدِ مُضْغَةً:إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ…
13 اگست 1985
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے۔ اور اگر اس میں بگاڑ آجائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ اور یہ قلب ہے (أَلاَ وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةًإِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ…
مولانا عبد الباری ندوی کے بارے میں میں نے ایک مفصل مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’مسٹر مولوی‘‘۔ یہ الجمعیۃ ویکلی 7 مارچ اور 14 مارچ 1969 میں دو قسطوں میں چھپا تھا۔
13 جولائی 1985
میں 1948میں جماعت اسلامی سے متاثر ہواا ور جلد ہی اس کارکن بنالیا گیا۔ اس زمانے میں میرا قیام اعظم گڑھ میں تھا۔ میں وہاں کی مقامی جماعت سے وابستہ تھا، جس کے امیر اس وقت ماسٹر عبد الحکیم انصاری تھے۔1950 کے لگ بھگ زمانہ میںمیرا یہ خیال ہوا کہ…
13 جولائی 1985
میں 1948میں جماعت اسلامی سے متاثر ہواا ور جلد ہی اس کارکن بنالیا گیا۔ اس زمانے میں میرا قیام اعظم گڑھ میں تھا۔ میں وہاں کی مقامی جماعت سے وابستہ تھا، جس کے امیر اس وقت ماسٹر عبد الحکیم انصاری تھے۔1950 کے لگ بھگ زمانہ میںمیرا یہ خیال ہوا کہ…