In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
Respecting All Religions
Some Jewish tribes lived in Madinah during the time of the Prophet of Islam. One day the Prophet saw a funeral procession passing by. He was seated at that time. Seeing the funeral, he stood up in deference. One of his companions asked, “O Messenger of God, this was the funeral of a Jew.” The Prophet replied: “Was he not a human being?” (Sahih al-Bukhari, Hadith No. 1312)
This tradition shows that man must be respectable to everyone in all circumstances. Whether he is a Jew or of any other religion or culture, we cannot be disrespectful towards others whatever the reason. The fact is that every human being…
…a fine illustration of this Quranic concept. This story is totally authentic because it is narrated by al-Bukhari, who has the highest status among the group of muhaddissin (narrators of the Prophet’s traditions). The story goes like this:
The Prophet of Islam started his mission in 610 AD. Thirteen years later, he migrated to Madinah, the second most important city of Arabia. At that time there were some Jewish tribes living in Madinah. It happened that one day the Prophet saw a funeral procession passing through a street in the town. The Prophet was seated at that time, but on seeing the funeral, he stood up out of respect. Then one of his companions said: “O Prophet, that was the funeral of a Jew. Why are you giving so much respect to a deceased non-Muslim?” The Prophet replied: Alaysat nafsan (Was he not a human being?) (Sahih al-Bukhari, 1312)
This example set by the Prophet of Islam shows that irrespective of religion or tradition, all men and women are equal, all are human beings, all are equally honourable members of humanity at large. Everyone was created by God like oneself…
انسان کا احترام
قدیم مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ کچھ یہودی قبیلے بھی آباد تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ پیغمبراسلام مدینہ کے ایک مقام پر تھے۔ اس وقت وہاں سے ایک جنازہ گزرا۔ آپ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازے کو دیکھ کر آپ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ اس وقت آپ کے کچھ صحابہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ دیکھ کر کسی نے کہا کہ اے خدا کے رسول یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: أَلَیْسَتْ نَفْسًا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1312)۔یعنی کیا وہ انسان نہ تھا۔
اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے دل میں دوسرے انسانوں کے بارے میں کس قسم کے جذبات ہوتے تھے۔ آپ ہر انسان کو انسان سمجھتے تھے۔ ہر انسان آپ کو قابل احترام نظر آتا تھا، خواہ وہ کسی بھی قوم یا ملت سے تعلق رکھتا ہو۔ ہر انسان کو…
انسان رخی طرز فکر
پیغمبر اسلام کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آیا ہے:کان سہل بن حنیف، وقیس بن سعد قاعدین بالقادسیة، فمروا علیہما بجنازة، فقاما، فقیل لہما إنہا من أہل الأرض أی من أہل الذمة، فقالا:إن النبی صلى اللہ علیہ وسلم مرت بہ جنازة فقام، فقیل لہ:إنہا جنازة یہودی، فقال:ألیست نفسا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1312)۔یعنی سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لے کر گزرے تو یہ دونوں کھڑے ہو گئے ۔ لوگوں نے کہاکہ جنازہ تو ذمیوں کا ہے ( جوغیر مسلم ہیں )۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسی طرح سے ایک جنازہ گزرا تھا ۔ آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا ۔ آپ نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں ؟
اس حدیث سے ایک اہم بات معلوم ہوتی ہے، اور وہ سماجی دانش مندی(social wisdom) ہے۔ سماج یا انسانی اجتماع ہمیشہ مختلف قسم کے انسانوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ لوگوں میں اختلافات پیدا ہوجائیں۔ لوگ کسی کو اپنا دشمن سمجھیں،…
انسان رخی طرز فکر
پیغمبر اسلام کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آیا ہے:کان سہل بن حنیف، وقیس بن سعد قاعدین بالقادسیة، فمروا علیہما بجنازة، فقاما، فقیل لہما إنہا من أہل الأرض أی من أہل الذمة، فقالا:إن النبی صلى اللہ علیہ وسلم مرت بہ جنازة فقام، فقیل لہ:إنہا جنازة یہودی، فقال:ألیست نفسا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1312)۔یعنی سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لے کر گزرے تو یہ دونوں کھڑے ہو گئے ۔ لوگوں نے کہاکہ جنازہ تو ذمیوں کا ہے ( جوغیر مسلم ہیں )۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسی طرح سے ایک جنازہ گزرا تھا ۔ آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا ۔ آپ نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں ؟
اس حدیث سے ایک اہم بات معلوم ہوتی ہے، اور وہ سماجی دانش مندی(social wisdom) ہے۔ سماج یا انسانی اجتماع ہمیشہ مختلف قسم کے انسانوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ لوگوں میں اختلافات پیدا ہوجائیں۔ لوگ کسی کو اپنا دشمن سمجھیں،…
In the lectures
Cited at 988s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3970s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3995s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4108s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6479s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1190s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1200s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2107s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2131s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2175s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2297s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2491s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2597s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3750s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3939s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4192s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5340s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5496s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5902s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
11۔ ’’آخری ٹکڑا کیوں آیا ہے‘‘ یہ اس مطلوب الٰہی کا اظہار ہے کہ جب نبی اور اس کے مخالفین میں کشمکش ہو تو اہلِ ایمان کا فرض ہے کہ وہ دشمنانِ رسول کے مقابلے میں رسول کا ساتھ دیں۔
سورہ البقرۃ آیت 129
1۔ جب قرآن نے چار الگ الگ الفاظ استعمال کیے ہیں تو غالب قرینہ یہی ہے کہ اس سے چار مختلف کام مراد ہوں۔
…غلط ہے۔ اس بنا پر اس وقت پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کی امیج کو درست کیا جائے۔ امیج کو درست کرنے کا یہ کام موثر طور پر لٹریچر کے ذریعے ہوسکتا ہے۔اس مقصد کے لیے ادارہ الرسالہ نے مختلف مضامین اور کتابیں شائع کی ہیں۔ ان میں سے چار کتابیں یہ ہیں:
1. Quranic Wisdom. (pp. 352)
2. Islam and World Peace. (pp. 200)
Give to king what is due to the king. And give to God what is due to God.
Similarly, a Hadith cited by Al-Bukhari says:
Give the ruler his rights. Ask for your rights from God. Peace under all circumstances