In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…دینا۔ یہ کام سائنسی دریافتوں کے ذریعہ بالقوۃ طور پر (potentially) انجام پاچکا ہے۔ اب اہل ایمان کو یہ کرناہے کہ وہ اس بالقوۃ کوبالفعل (actual)بنائیں۔ وہ فطرت (nature) میں دریافت کردہ حقیقتوں کو ربانی شہادت کے طور پر دنیا کے سامنے لائیں۔
اس کام کا اصل نشانہ یہ ہے کہ خدا کے ہدایت نامہ قرآن کو دنیا کی ہر زبان میں معیاری ترجمہ کرکے اس کو تمام قوموں تک پہنچانا، تاکہ دنیا یہ جانے کہ جن حقیقتوں کو موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیق کے طور پر انسان نے دریافت کیا ہے، وہ حقیقتیں پیشگی طور پر قرآن میں "آیات" کی زبان میں بتا دی گئی تھیں۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ کلمۂ اسلام ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچ جائے (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ اس کا مطلب ہے قرآن کا گلوبل ڈسٹری بیوشن ، یعنی قرآن کو ہر قوم کی قابل فہم زبان میں پہنچادینا۔اس کام میں اصل اہمیت قرآن کے اشاعت کی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ قرآن کی ضروری تشریح کرنا بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ اس مقصد کےلیے ایک مدد گار لٹریچر (supporting literature) بھی ضروری ہے، جو قرآن کو لوگوں کے لیے ان کے اپنے مائنڈ سیٹ کے اعتبار سے قابلِ فہم (understandable) بنادے۔
سوال: وہ کیا پروگرام ہیں، جس کے بارے میں آپ اللہ سے یہ تمنا کرتے ہیں کہ وہ اس کو پورا کرے؟
جواب: میری صرف ایک تمنا ہے۔ حدیث میں آیا ہےکہ اللہ ہر گھر میں اسلام کا کلمہ داخل کرے گا، روایت کے الفاظ یہ ہیں: لَا یَبْقَى عَلَى ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللَّہُ کَلِمَةَ الْإِسْلَامِ(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی روئے زمین پر کوئی بھی بڑا یا چھوٹا گھر باقی نہیں رہے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کرے گا۔ میری خواہش ہے کہ اس حدیث میں بیان کردہ پراسس کا میں حصہ بن جاؤں۔یہاں تک کہ یہ ریَلٹی بن جائے، اور قرآن کی آیت ، لیکون للعالمین نذیرا (25:1)، کے مطابق سارے عالم تک قرآن کا میسج آف انذار پہنچ جائے۔
My greatest desire is to become a part of this historical process, the process of the spreading of the word of God, until it becomes a reality.
…وَمُنْذِرِینَ لِئَلَّا یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّہِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ(4:165) ۔ یعنی اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔
اسلام کا یہ دعوتی نشانہ قدیم زمانے میں صرف محدود طور پر انجام دینا ممکن تھا۔ بعد کو ترقیات کے دور میں یہ امکان پوری طرح وقوع میں آنے والا تھا ،تاکہ اسلام کا یہ نشانہ عالمی سطح پر بلا روک ٹوک انجام پائے۔ اس حقیقت کو قرآن وحدیث میں مختلف الفاظ میں پیشگی طور پر بتادیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: لَا یَبْقَى عَلَى ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللہُ کَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر23814)۔ یعنی زمین کی سطح پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر یہ کہ اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کردے گا۔
اسلام اکیسویں صدی میں
…کے دو دن بعد دوبارہ بشیر صاحب کو دیکھا تو بہت گرمجوشی سے ملے، اور ان کو یاد دلایا کہ آپ نے مجھے قرآن دیا تھا، آپ کابہت بہت شکریہ۔ نا خدا مسجد میں صحافیوں کے آنے کا مقصد اسلام کی عملی تصویر، مثلاً نماز کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔
■ سی پی ایس انٹرنیشنل کے مختلف حلقوں کی طرف سے ساری دنیا میں بذریعہ پوسٹ قرآن مہیا کرایا جاتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ سی پی ایس انٹر نیشنل کی ویب سائٹ (www.cpsglobal.org) اور گڈ ورڈ بکس (www.goodwordbooks.com) پر لوگ فارم پُر کرتے ہیں، اس کے بعد ان کو مختلف زبانوں میں تراجم قرآن بھیجا جاتے ہیں۔یہ اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی کو حقیقت بنانے کی کوشش ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ اسلام کے کلمہ کو ہر گھر میں داخل کرے گا(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ نیز یہ کہ غیر مسلم اسلام کو اس کے اصل سرچشمہ سے دریافت (discover)کریں، اورمسلمان اسلام کی دریافتِ نو (re-discover) کریں۔ مذکورہ ویب سائٹس پر روزانہ بے شمارتعداد میں تراجم قرآن کی درخواست آتی ہیں،اور ان کو فری آف کاسٹ (free of cost)قرآن بھیجا جاتا ہے۔مثلاً سی پی ایس (پونے) کے بزرگ ممبر جناب عبد الصمد صاحب نے مختلف مذاہب کے 5 لوگوں کو بذریعہ پوسٹ قرآن روانہ کیا ہے۔اسی طرح سی پی ایس کے تمام چیپٹرس کے ذریعہ یہ سلسلہ قائم ہے کہ وہ مفت میں تراجمِ قرآن بذریعہ پوسٹ بھیجتے ہیں۔اس سلسلے میں بہت سارے لوگ قرآن ملنے کے بعد اپنے اپنے تاثرات دیتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک ذیل کا تاثر ہے، جو کہ سی پی ایس انٹرنیشنل (امریکا چیپٹر) کو موصول ہوا ہے:
I appreciate your sending me a free Quran. It's quite alright if it takes a while to arrive here. In the meantime, I have, as you suggested, downloaded the e-book version, and availed myself of other resources on your website as well. I am…
…کا دور آئے، وہ تمام حالات پیدا ہوجائیں جب کہ وہ دعوتی پلاننگ کی جاسکے، جس کے ذریعے انسان پر کامل معنوں میں اتمام حجت کا واقعہ انجام پائے۔ غالباً یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیثِ رسول میں شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کہا گیاہے۔
اب انسانی تاریخ اکیسویں صدی کے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اس دور میں عالمی شہادت کے تمام موافق حالات مکمل طور پر وقوع میں آچکے ہیں۔ اب پوری طرح ممکن ہوگیا ہےکہ اس دعوتی نشانے کو عملاً ظہور میں لایا جائے، جس کی پیشین گوئی حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں کی گئی ہے: لَا یَبْقَى عَلَى ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللہُ کَلِمَةَ الْإِسْلَامِ(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی روئے زمین پر کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں باقی رہے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کے کلمے کو داخل کردے گا۔
عالمی شہادت کا یہ تکمیلی واقعہ امتِ محمدی کے ذریعے انجام پانا ہے۔اس کے مطابق امتِ محمدی کا آخری رول شہادتِ اعظم کی انجام دہی ہے۔ اس واقعے کی عملی صورت یہ ہے - خدا کے کلام (قرآن) کا معیاری ترجمہ ہر زبان میں تیار کرکے اس کو پورے کرۂ ارض…
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اس وقت پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں یہ اعلان کیا گیا کہ قرآن سارے عالم میں پھیلے گا، یہاں تک کہ اس کا پیغام زمین پر بسنے والےہر مرد اور ہرعورت تک پہنچ جائے گا۔
یہی بات حدیث رسول میںاس طرح بیان کی گئی ہے: لَا یَبْقَى عَلَى ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللہُ کَلِمَةَ الْإِسْلَامِ، بِعِزِّ عَزِیزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِیلٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814) ۔یعنی زمین پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت کے ساتھ، ذلت والے کو ذلت کے ساتھ ۔ (یعنی اسلام کا پیغام ماننے والوں تک بھی اورنہ ماننے والوں تک بھی )۔
یہ حدیث رسول پیشگی خبر کی زبان میں یہ بتارہی ہے کہ آخری دور میں امت کا فائنل رول کیا ہوگا۔ وہ رول یہ ہوگا کہ امت اپنے زمانے کے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے کلام (word of God) کو دنیا کے ہرگوشے میں پہنچادے، یہاں تک کہ کوئی عورت یا…
امت مسلمہ کی ذمہ داری
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میںآئی ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن)اتارا تاکہ وہ سارے عالم کے لئے خبر دار کرنے والابنے۔قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اس وقت پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں یہ اعلان کیا گیا کہ قرآن سارے عالم میں پھیل جائےگا، یہاں تک کہ اس کا پیغام زمین پر بسنے والےہر مرد اور ہرعورت تک پہنچ جائے گا۔ یہی بات حدیث رسول میںاس طرح بیان کی گئی ہے:لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر، ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔یعنی زمین پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔
یہ حدیث رسول پیشگی خبر کی زبان میں یہ بتارہی ہے کہ آخری دور میں امت کا فائنل رول کیا ہوگا۔ وہ رول یہ ہوگا کہ امت اپنے زمانے کےاعتبار سے ایک عالمی منصوبہ بندی کرے، اور مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے کلام (word of God) کو دنیا کے ہرگوشے…
فوکس کو سمیٹنا
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ یہ تحریکیں مثبت معنوں میں کوئی نتیجہ خیز کام نہیں کرسکیں۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ تقریباً ہر ایک نے اپنے فوکس کو پھیلایا۔ انھوں نے جامعیت کے غلط تصور کے تحت بہت سے کاموں کو اپنے دائرے میں لے لیا۔ یہ کام کا صحیح طریقہ نہیں۔ کام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ فوکس کو سمیٹا جائے۔صرف فوکس کو سمیٹنے کی شکل میں کوئی بڑا کام ہوسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دور آخر کے لیے اہل ایمان کو یہ نشانہ دیا تھا، جب کہ آپ نےکہا تھا: لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر، ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23814 ) ۔ یعنی روئے زمین پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر باقی نہیں بچے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کے کلمہ کو داخل کردے گا۔اس حدیث میں ادخال کلمہ سے مراد عملاً ادخال قرآن ہے۔ یعنی قرآن کو ہر گھر میں اور ہر انسان تک پہنچایا جائے۔ گھر سے مراد رہائش گاہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تعلیم گاہ، ہر لائبریری ، ہر ادارہ،ہر ہوٹل، وغیرہ میں اس کو پہنچادینا۔
یہ حدیث بظاہر دور آخر کےلیے ہے، جب کہ کمیونی کیشن کا زمانہ آجائے۔ قرآن کو ہر زبان میں ترجمہ کرکے اس کو ہر گروہ کی قابل فہم زبان (understandable language) میں پہنچانا ممکن ہوجائے، خواہ پرنٹ ایڈیشن کے ذریعہ ہو یا الیکٹرانک ایڈیشن کے…
…تھی: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ أَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ أَنَّہُ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ شَہِیدٌ (41:53)۔ فطرت کے رازوں کی دریافت کے بعد یہ سب کچھ اب واقعہ بن چکا ہے۔
یہ دور امکانی طور پر ظہور اسلام کا دور ہے۔ یہ دور گلیلیو گلیلی (1564-1642)کی تحقیقات سے شروع ہوا، اور اب اسٹیفن ہاکنگ (پیدائش 1942:) کی تحقیقات کے ساتھ وہ اپنی تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دریافت کردہ حقائق کو لے کر خدا کے دین کو تبیین کامل کے درجے تک پہنچادیا جائے۔ اسی کے ساتھ کمیونی کیشن کے جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئےخالق کے پیغام کو زمین کے ہر چھوٹے بڑے گھر میں پہنچادیا جائے ۔جیسا کہ پیغمبر نے پیشین گوئی کی ہے:لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر، ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر23814)۔
اسلام ہر دور میں پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہوتا رہا ہے۔ کوئی دور اس واقعہ سے خالی نہیں۔ لیکن اسلام کے ظہور کا ایک اور درجہ تھا، جس کو قرآن میں تبیین حق (فصلت 53:)کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔حدیث میں ظہو ر اسلام کے اس واقعے کو شہادت اعظم…
…أُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا
شُہَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا (2:143) ۔ یعنی
اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول
ہو تم پر بتانے والا۔
امت وسط کا مطلب بیچ کی امت (middle community) ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
کے متبعین سب کے سب امت محمدی ہیں۔ ان کی حیثیت دوبارہ امت وسط کی ہے۔ صرف اس فرق کے
ساتھ کہ پیغمبر، خدا اور انسان کے درمیان امت وسط ہوتے تھے۔ اب پیغمبر آخرالزمان کے
متبعین ، محمد بن عبد اللہ اور اقوام عالم کے درمیان امت وسط کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پیغمبر
آخرالزمان کی رہنمائی کو جاننےکا ذریعہ قرآن اور سنت رسول ہے۔ امت کو یہ کرنا ہے
کہ خالص موضوعی (objective) انداز میں وہ قرآن اور سنت رسول کا مطالعہ کرے، اوراس
کی تعلیمات کو کسی آمیزش کے بغیر پر امن انداز میں ہر دور کے انسانوں تک پہنچاتی رہے۔
یہ کام اس کو تمام اقوام کی قابل فہم زبان میں کرنا ہے۔جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:وَمَا
أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہِ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ (14:4)۔ اس
کی پرکٹیکل صورت یہ ہے کہ قرآن کے تراجم تیار کرکے ان کو ساری دنیا میں پھیلایا جائے۔
یہاں تک کہ حدیث (مسند احمد، حدیث نمبر23814)کے مطابق، وہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں
پہنچ جائے۔ یہی امت محمدی کا ابدی مشن ہے۔
خلاصہ یہ کہ امت محمدی کی حیثیت سے مسلمانوں کا ایک ہی مشن ہے۔ اور وہ ہے دعوت الی
اللہ۔دعوت کا یہ پر امن کام مکمل طور پر غیر سیاسی (non-political) اور غیر قومی (non-communal)
انداز میں کرنا ہے۔مزید یہ کہ اس کام کو اس اصول کے…
…سے ایک ایسا گروہ انجام دے گا، جو پورے تاریخی پراسس کی آخری پیداوار ہو، جو تخلیقی ارتقا کے آخر میں وجود میں آیاہو، جس پر پوری تاریخ منتہی ہوئی ہو،جو ماضی اور حال کے تمام تاریخی ڈیولپمنٹ (historical development) کا مثبت شعور رکھتا ہو۔
یہ گروہ وہ ہوگا جو کتاب تاریخ کے آخری پیراگراف کو لکھے گا۔ جو اپنے آفاقی شعور کی بنا پر اِس قابل ہوگا کہ انسانیت کے لیے حجت بن جائے۔ جو تمام مواقع (opportunities) کو مثبت طور پراستعمال کرے۔اور پھر خدائی سچائی کا وہ عالمی اعلان کرے، جس کے بعد کوئی انسان بےخبری کا عذر پیش نہ کرسکے۔یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں عالمی ادخال کلمہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر، ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اس وقت پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں یہ اعلان کیا گیا کہ قرآن سارے عالم میں پھیلے گا، یہاں تک کہ اس کا پیغام زمین پر بسنے والےہر مرد اور ہرعورت تک پہنچ جائے گا۔
یہی بات حدیث رسول میںاس طرح بیان کی گئی ہے: عن المقداد بن الأسود عن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یقول:لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر، ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام، بعز عزیز أو ذل ذلیل(مسند احمد، حدیث نمبر 23814) مقداد بن اسود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت کے ساتھ، ذلت والے کو ذلت کے ساتھ ۔ (یعنی اسلام کا پیغام ماننے والوں تک بھی اورنہ ماننے والوں تک بھی )۔
یہ حدیث رسول پیشگی خبر کی زبان میں یہ بتارہی ہے کہ آخری دور میں امت کا فائنل رول کیا ہوگا۔ وہ رول یہ ہوگا کہ امت اپنے زمانے کے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے کلام (word of God) کو دنیا کے ہرگوشے میں پہنچادے، یہاں تک کہ کوئی عورت یا…
…دینا۔ یہ کام سائنسی دریافتوں کے ذریعہ بالقوۃ طور پر (potentially) انجام پاچکا ہے۔ اب اہل ایمان کو یہ کرناہے کہ وہ اس بالقوۃ کوبالفعل (actual)بنائیں۔ وہ فطرت (nature) میں دریافت کردہ حقیقتوں کو ربانی شہادت کے طور پر دنیا کے سامنے لائیں۔
اس کام کا اصل نشانہ یہ ہے کہ خدا کے ہدایت نامہ قرآن کو دنیا کی ہر زبان میں معیاری ترجمہ کرکے اس کو تمام قوموں تک پہنچانا، تاکہ دنیا یہ جانے کہ جن حقیقتوں کو موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیق کے طور پر انسان نے دریافت کیا ہے، وہ حقیقتیں پیشگی طور پر قرآن میں "آیات" کی زبان میں بتا دی گئی تھیں۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ کلمۂ اسلام ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچ جائے (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ اس کا مطلب ہے قرآن کا گلوبل ڈسٹری بیوشن ، یعنی قرآن کو ہر قوم کی قابل فہم زبان میں پہنچادینا۔اس کام میں اصل اہمیت قرآن کے اشاعت کی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ قرآن کی ضروری تشریح کرنا بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ اس مقصد کےلیے ایک مدد گار لٹریچر (supporting literature) بھی ضروری ہے، جو قرآن کو لوگوں کے لیے ان کے اپنے مائنڈ سیٹ کے اعتبار سے قابلِ فہم (understandable) بنادے۔
In the lectures
Cited at 1597s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2284s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2758s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2891s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3197s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3408s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3516s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4181s — opens the lecture at this moment.
Cited at 498s — opens the lecture at this moment.
Cited at 985s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1042s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1499s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1773s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1971s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2182s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2193s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2297s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2342s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2344s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2467s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2555s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2630s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2641s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2723s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2917s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3043s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3059s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3130s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3212s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3237s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3253s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3290s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3324s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3428s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4164s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4211s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4632s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5102s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خبرنامہ اسلامی مرکز— 238
1- 21 جون 2015 کو ڈاکٹر حافظ منیر الدین احمد مقیم حال لندن صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے دعوت اور قرآن کی اشاعت کے متعلق گفتگو کی۔ موصوف نے صدر اسلامی مرکز کی کتاب تعبیر کی غلطی کے متعلق اپنے گہرے تاثرات کا اظہار کیا،…
رافع بن معلیٰ رضی اللہ عنہ
23
ذوالشمالین رضی اللہ عنہ
37
23
9
…اس كے باوجود وه اپني مرضي كے خلاف باتوں كو ديكھتا هے اور اس پر صبر كرتا هے۔ اس كا سبب خود خدا كا قائم كرده قانوني امتحان هے۔ خدا هر ايك كو آزادي دے كر اس كا امتحان لےرهاهے۔ جب تك امتحان كي مدت ختم نه هو، يه آزادي بھي ختم هونے والي نهيں۔
23
معاذ بن جبل رضي الله عنه كهتے هيں كه ميں ايك گدھے پر رسول الله صلى الله عليه وسلم كے پيچھے سوار تھا۔ ميرے اور آپ كے درميان كجاوه كے پچھلے حصه كي سوا اور كوئي چيز حائل نه تھي۔ آپ نے فرمايا كه اے معاذ، كيا تم جانتےهو كه الله كا حق اپنے…
خبرنامہ اسلامی مرکز — 237
1- 6 فروری 2015 کو مالیگاؤں سی پی ایس کی ایک ٹیم نے مقامی سینٹ پال چرچ کا دورہ کیا اورچرچ کے منتظمین کے ساتھ وہاں باہمی بھائی چارگی پر ایک میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میںمختلف موضوعات پر بات چیت ہوئی ۔ دوران گفتگوچرچ کے ذمہ داروں نے امن کے حوالہ…
…هے۔ يهي وجه هے كه هرسچا مومن يه محسوس كرتا هے كه خدا کےپيغمبر كا اس كے اوپر عظيم ترين احسان هے۔ يه احساس اس كو مجبور كرتا هے كه وه خدا كے بعد سب سے زياده اس كے رسول سے محبت كرے۔ اس كے سينه ميں پيغمبر خدا كي محبت كا لازوال چشمه جاري هوجائے۔
0008
انس رضي الله عنه كهتے هيں كه رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا تين چيزيں جس آدمي كے اندر هوںوه ايمان كي لذت كو پالے گا۔ جس كے لیے الله اور رسول تمام دوسري چيزوں سے زياده محبوب هو جائيں۔ جو كسي بندے سے صرف الله كے لیے محبت كرے۔ جو…