Shukr All cross-references →
Place
Quran

The sacred book of Islam, treated as a primary source and location of wisdom

Mentioned in 23 book passages and 100 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…great source of universal wisdom. It is a realistic means of broadening your horizons, for after every journey, you will have learnt additional lessons and will return with increased knowledge. Your mind will have expanded as never before.

The Quran as a Book

The Quran appears to be a book just like any other book. But the Quran is a book with a difference. Scholars maintain that it requires almost eighty disciplines to understand the Quran, but more important than all these disciplines is…

…the opposite direction, clearly testifying to the One God, Creator, Master, and Sustainer of the universe, as described in the Quran. This being the case, science can significantly help promote God-consciousness rather than undermine it.

As the title of this book suggests, far from necessarily leading to atheism, modern science, through its findings on Nature or creation, can lead us to discover the Creator and to know more about Him. These findings are a means to discover God’s existence and His attributes reflected in the universe He has created. However, scientific discoveries can take us only thus far. They can make us aware that there is a Creator of the universe and that, as the nature of His creation indicates, He possesses attributes such as creativity, power, wisdom, beauty, and so forth, all of which are reflected in His creation. However, science cannot answer such questions as ‘Why did God create man?’ ‘What is the relationship between God and man?’, ‘What is the way for man to live that is pleasing to God?’ and ‘What happens to us when we die?’. The only reliable source of answers to these questions is the Creator Himself. This points to the necessity and significance of Divine Revelation—a revelation from the Creator—as the only authentic means for man to obtain these answers.

From the very advent of humankind on the Earth, God has sent a series of Messengers into the world to inform people about such issues—or, in other words, to tell them about what can be called God’s Creation Plan. God has sent at least one…

…قدیم زمانہ کے کاغذ پر لکھ کر قرآن کی کتابت شدہ جلدیں (copies) تیار کیں، اور ان کو بڑے پیمانے پر اس وقت کی دنیا میں پھیلادیا۔ یہ گویا حفاظت قرآن کا یک دہرا انتظام (double system of preservation) تھا، جو قرآن کی کامل حفاظت کا ضامن تھا۔

ساتویں صدی سے لے کر 15 ویں صدی تک یہ طریقہ مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ ساری دنیا میں بہت بڑی تعداد میں قرآن کے حافظ پیدا ہوگیے۔ اور اسی کے ساتھ بڑی تعداد میں کتابت شدہ قرآن کی جلدیں ہر جگہ پھیل گئیں۔ یہ سلسلہ 15 ویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ گوٹن برگ (Johannes Gutenberg)کے بعد سولہویں صدی میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ آگیا۔ یہاں تک کہ قرآن کے مطبوعہ نسخے رفتہ رفتہ ساری دنیا میں پھیل گیے۔ پرنٹنگ پریس کے بعد قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری زیادہ بہتر طور پر پرنٹنگ پریس نے لے لی، جو اس سے پہلے حافظین قرآن اور کاتبین قرآن نے لے رکھی تھی۔

قرآن کی صورت میں خدا کے ہدایت نامہ کا ایک محفوظ ورزن (version) وجود میں آنے کے بعد عملاً مذہبی دنیا میں یہ صورت حال ہوگئی کہ ایک طرف محفوظ قرآن تھا، اور دوسری طرف غیر محفوظ بائبل(اور دوسری مذہبی کتابیں)۔ قرآن میں کوئی ایک بھی غلطی…

Al-Risala April 2015 m1_backfill original + quote

…کیاگیا ہے- موجودہ زمانے میں حالات بدل چکے ہیں، اب نئے حالات کے لحاظ سے اعداد قوت کا مطلب ہوگا، اعداد علم- یعنی علم اور سائنس کے اعتبار سے اپنے آپ کو قوی بنانا- آج کی قوت تیر اندازی نہیں ہے، بلکہ وہ علوم ہیں جن کو سائنسی علوم کہاجاتاہے-

قرآن کی یہ تطبیق بھی ایک سنت رسول ہے، جو علمائے اسلام کے لئے ہر دور میں قابل اتباع ہے- ہر زمانے میں قوت کا معیار اور موثر کام کرنے کے طریقے بدلتے رہتے ہیں- قدیم قبائلی کلچر (tribal culture) میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جنگ کے ذریعہ دبدبہ قائم ہوتا ہے- مگر موجودہ زمانے میں نئے وسائل کے تحت یہ ممکن ہوگیا ہے کہ پر امن طریقہ (peaceful method) کے ذریعہ دبدبہ قائم کیا جائے-یہی معاملہ ادبی اسلوب (idiom)کا ہے- اس اعتبار سے بھی موجودہ زمانے میں نئے نئے اسلوب رائج ہوئےہیں- تطبیق کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ قرآن کی تعلیمات کو آج کے اسلوب میں بیان کیا جائے- مثلاً قرآن میں نقل وحرکت کے ذریعہ دعوت کو سیاحت کہاگیاہے- آج کے اسلوب میں اس کو دعوہ اِن ایکشن (dawah in action) کہاجاسکتا ہے- قرآن اپنے مشن کے اعتبار سے ہمیشہ ایک رہے گا، لیکن اپنی تطبیق (application) کے اعتبار سے اس میں اضافے ہوتے رہیں گے- جیساکہ حدیث میں آیا ہے: لا تنقضی عجائبہ (الترمذی: 2906) یعنی قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے-

Al-Risala June 2007 m1_backfill

تاریخِ دعوت: آدم سے دابّہ تک

تاریخ کیا ہے۔ تاریخ علم کی ایک شاخ ہے جس میں ماضی کامنظم مطالعہ کیا جاتا ہے:

History— a systematic study of past events

Al-Risala October 2003 m1_backfill original + quote

— 037گناہ کیا ہے۔

پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور اس کو کرتے ہوئے تم ڈرو کہ لوگ اس سے باخبر نہ ہوجائیں۔ یہ گناہ کی ایک ایسی پہچان ہے جس کو ہر آدمی نہایت آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔ہر آدمی کے اندر ضمیر ہے۔ یہ ضمیر اتنا حسّاس ہے کہ وہ برائی کے وقت آدمی کو فوراً ٹوک دیتا ہے۔ اگر آدمی ضمیر کی آواز کو سنے تو کبھی وہ گناہ نہ کرے۔ اسی طرح جب کوئی گناہ کرتاہے تو وہ اس کو چھپا کر کرتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی اسے جاننے نہ پائے۔ جب بھی آدمی کے اندر اس قسم کا جذبہ پیدا ہو تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ایک ایسا کام کرنے جارہا ہے جو اس کو نہیںکرنا چاہئے۔

— 038پڑوسی کا حق

Al-Risala June 2020 m1_backfill

…زبان کا ایک لفظ ہے۔ اُس کا لفظی مطلب سرینڈر کرنا(to surrender) ہے۔ اِس سے اسلام کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ اسلام کا مطلب یہ ہے کہ انسان اِس دنیا میں اپنے اختیار سے خدا کی اطاعت کرنے والا بن کر رہے، وہ اپنے آپ کو خدا کے حکموں کا تابع بنالے۔

انسان کو اِس دنیا میں پوری آزادی ملی ہوئی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ جو چاہے کرے، اور جو چاہے نہ کرے۔ یہ آزادی جو انسان کو ملی ہے، وہ کسی حق یا انعام کے طورپر نہیں ملی ہے، بلکہ وہ صرف امتحان کے لیے ہے۔ اِس دنیا میں انسان کے لیے صرف ایک ہی انتخاب(choice) ہے، اور وہ یہ کہ وہ اپنی آزادی کو خدائی احکام کے دائرے میں استعمال کرے۔

اسلام کے مطابق، انسان کی زندگی دو مرحلوں میںتقسیم ہے— موت سے پہلے کا مرحلہ، اور موت کے بعد کا مرحلہ۔ موت سے پہلے کا مرحلہ عارضی ہے، اورموت کے بعد کامرحلہ مستقل۔ زندگی کے موجودہ مرحلے میں انسان جس طرح عمل کرے گا، اُسی کے مطابق، اگلے دورِ…

Al-Risala April 2019 m1_backfill other source

…انسان ذہن اور روح کی گہرائی میں اترنا چاہتاہے مگر سائنس صرف جسم کے مادی اجزا کا تجزیہ اس کے سامنے پیش کرتی ہے۔ ایک لفظ میں یہ کہ انسان ’’خالق‘‘ کے بارہ میں جاننا چاہتا ہے اور سائنس اس کو صرف ’’مخلوق‘‘ کے بارہ میں بتا کر خاموش ہوجاتی ہے۔

یہی بات ہے جس کو ایک مغربی مفکر نے حسرت کے ساتھ اس فقرہ میں بیان کیا ہے— جو اہم ہے وہ ناقابل دریافت ہے، اور جو قابل دریافت ہے وہ اہم نہیں:

The important is unknowable, and the knowable is unimportant.

…یَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ یَنْزِلْ، فَعَلَیْکُمْ بِالدُّعَاءِ عِبَادَ اللہ (مسند احمد، حدیث نمبر 22044)۔یعنی دعا فائدہ دیتی ہے، ان چیزوں میں جو نازل ہوئی ہے، اور ان میں بھی جو نہیں ہوئی، تو اللہ کے بندو، تم ضرور دعا کرو۔

مگر دعا صرف الفاظِ دعا کی تکرار کا نام نہیں ہے۔ بلکہ دعا کے ساتھ دعا کرنے والے کے اندر ایک پراسس شروع ہوجاتا ہے۔ مثلاً بندے اور خدا کے درمیان مناجات، بندے کے اندر رب کی یاد، بندے کی روحانیت میں اضافہ، بندے کے اندر ایمانی ارتقا،اپنے رب سے قربت، وغیرہ۔ اس پورے عمل کو ایک لفظ میں حرکیات دعا (dynamics of dua) کہا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ کبھی اللہ جبریل سے کہہ دیتا ہے کہ اے جبریل میرے بندے کی دعا قبول کرنے میں جلدی نہ کر۔ کیوں کہ مجھے اس کی آواز پسند ہے۔ یعنی بندے کے اندر دعا کا عمل اضافہ پذیر حالت میں جاری ہے۔

قرآن و حدیث کے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا صرف مانگنے اور پانے کا نام نہیں ، بلکہ دعا روحانی ارتقا کا ایک عمل ہے۔ کامیاب دعا وہ ہے، جس کے اندر دعا کا شعور شامل ہو۔ کامل دعا وہ ہے، جو اعلی ذہنی ارتقا کے نتیجہ میں ظہور میں آئے۔ کامل دعا…

Al-Risala October 2016 m1_backfill original + quote

…سے مراد مخاصمانہ مناظرہ (aggressive debate)ہے۔ اہل ایمان کا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی اللہ کے پیغام کو پر امن طور پر تمام انسانوں تک پہنچانا۔ مگر یہ کام مکمل طور پر پر امن انداز میں ہونا چاہیے، نہ کہ کسی قسم کے ٹکراؤ کے انداز میں۔

مخاصمانہ مناظرہ (aggressive debate) کیسے پیدا ہوتا ہے۔ اس کا ایک معلوم تاریخی سبب ہے۔ مخاصمانہ مناظرہ دراصل ایک دعوتی امکان کے غلط استعمال سے پیداہوتا ہے۔ اس دعوتی امکان کو اگر قرآن کی تعلیم کے مطابق نصح (خیرخواہی) کےانداز میں استعمال کیاجائے تو پر امن دعوہ ورک وجود میں آتا ہے۔ اور اگر اس امکان کا غلط استعمال کیا جائے تو اس سے وہ چیز پیدا ہوتی ہے، جس کو مخاصمانہ مناظرہ (aggressive debate) کہاجاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ خاتم النبیین سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مختلف پیغمبر بھیجے۔ مثلا حضرت عیسی اور حضرت موسی، وغیرہ۔ ان پیغمبروں کے اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل کی تاکہ وہ انسانوں کے لیے ان کی دنیا کی زندگی میں رہنما کتاب (guide book) بنے۔ مگر…

Al-Risala March 2015 m1_backfill original + quote

Ideology, application, reapplication

قرآن میں دین کے فکری یا نظریاتی پہلو کو بیان کیاگیا ہے- سنت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس اسلامی فکر کو کس طرح اپنی عملی زندگی میں اختیار کیا- اجتہاد اُس سنجیدہ کوشش کا نام ہے جب کہ ایک صاحبِ ایمان اِس دین کو نئے حالات کی نسبت سے دوبارہ دریافت کرے، اور اُس کا حقیقی پیرو بن جائے-

اجتہاد، اسلام کی ایک مستقل ضرورت ہے- اسلام کی تعلیمات اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہیں، لیکن انسان کے حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں- حالات کے بدلنے سے حکم نہیں بدلتا بلکہ حکم کی تطبیق کے طریقے بدل جاتے ہیں- یہ زندگی کی ایک ایسی ضرورت ہے جو…

…the creation of the universe, and what happens after death. Written in an easy-to-understand style, it can be helpful to and inspiring for people from various backgrounds, irrespective of religion and academic inclinations and training.

The book clearly shows that far from negating the existence of God, the Creator and Master of the universe, modern scientific findings provide convincing evidence of God’s existence. Authentic science and authentic versions of divine guidance thus conform rather than confront each other. Put differently, God’s Word (as expressed in Divine Revelation) and God’s Work (as expressed in the universe) are in perfect harmony. The discovery that the universe had a definite beginning clearly points to a pre-existent Cause that brought it into being—and, this book shows, this Cause cannot be anything but the One God, who is eternal.

Likewise, the fine-tuning, intricate design, and perfect balance of the universe, among other features of the universe that scientific discoveries have highlighted, cannot be satisfactorily accounted for other than by attributing them to…

Al-Risala April 2019 m1_backfill

…سوالات کا قطعی جواب پاسکے جو انسانیت کے لیے بے حد اہمیت رکھتےہیں۔ مگر وہ اِس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ سائنس کے علاوہ علم کا کوئی اور بلند طریقہ ہے جس کے ذریعہ سے ہم ان سچائیوں کو دریافت کرسکیں جو سائنس اور عقل کی دسترس میں نہیں آتیں۔

آج کے انسان کو یہی بتانا اس کو سب سے بڑی چیز دینا ہے کہ ہاں، یہاں ایک بلند تر طریقہ موجود ہے جس کے ذریعہ نامعلوم کو معلوم کیا جاسکے۔ اور وہ الہام خداوندی ہے۔ اور یہ الہام خداوندی جہاں اپنی محفوظ شکل میں موجود ہے وہ قرآن ہے۔

قرآن پوری طرح اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے اور تقریباً ڈیڑھ ہزار برس سے مسلسل اپنی صداقت کو ثابت کررہا ہے، اس موضوع پر راقم الحروف نے اپنی کتاب ’’عظمت قرآن‘‘ اور دوسری کتابوں میں گفتگو کی ہے۔ اس کی تفصیل ان کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

…کو اگر قرآن کی تعلیم کے مطابق نصح (خیرخواہی) کےانداز میں استعمال کیاجائے تو پر امن دعوہ ورک وجود میں آتا ہے۔ اور اگر اس امکان کا غلط استعمال کیا جائے تو اس سے وہ چیز پیدا ہوتی ہے، جس کو مخاصمانہ مناظرہ (aggressive debate) کہاجاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ خاتم النبیین سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مختلف پیغمبر بھیجے۔ مثلا حضرت عیسی اور حضرت موسی، وغیرہ۔ ان پیغمبروں کے اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل کی تاکہ وہ انسانوں کے لیے ان کی دنیا کی زندگی میں رہنما کتاب (guide book) بنے۔ مگر قدیم زمانہ میں پرنٹنگ پریس نہ ہونے کی بنا پر یہ خدائی کتابیں اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہیں، ان کے متن (text) میں طرح طرح کی تبدیلیاں ہوگئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی زمین پر کوئی ایسی کتاب باقی نہ رہی جس کے ذریعہ انسان اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے، اور یہ جانے کہ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God)کے مطابق انسان کا مقصد حیات (purpose of life) کیا ہے۔ اس وقت اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنا آخری رسول (the Final Prophet) دنیا میں بھیجے۔ اور اس کے اوپر ساتویں صدی کے ربع اول میں اپنی وہ کتاب اتارے جس کو آج ہم قرآن کےنام سے جانتے ہیں۔

قرآن کے بعد چوں کہ کوئی اور پیغمبر آنے والا نہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انتہائی اہتمام کیا کہ قرآن کامل طور پر محفوظ کتاب کی حیثیت سے باقی رہے، قرآن کے متن (text)میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی ہرگز ہونے نہ پائے۔ اس مقصد کے لیے ابتدائی…

Al-Risala August 2012 m1_backfill original + quote

…course) ہے، اور وہ ادنیٰ انحراف کے بغیر اِس مقرر کورس پر چلتے ہیں(36: 38) ۔ اِسی معاملے کو علمی طورپر اِس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ عالمِ مادی، فطرت کے قانون (law of nature) کی پابند ہے، اور عالمِ حیوانات اپنی جبلت (instinct) کی پابند۔

انسان کا معاملہ بظاہر مختلف ہے، کیوں کہ انسان کو اپنے قول وعمل کی آزادی دی گئی ہے۔ مگر اِس آزادی کے باوجود انسانی تاریخ پر اللہ نے اپنا کنٹرول قائم کررکھا ہے۔ تاریخ پر اِسی کنٹرول کی ایک صورت وہ ہے جس کو قرآن کے حوالے سے اِس طرح بتایاگیا ہے کہ قرآن ایک لوح محفوظ میں ہے۔ لوحِ محفوظ کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیںہے، مطالعہ کے ذریعے اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن سے پہلے اپنے نبیوں کے ذریعے بہت سی کتابیں بھیجیں جو انسان کے لیے معتبر ہدایت نامہ کی حیثیت رکھتی تھیں۔ مگر پچھلی کتابیں محفوظ نہ رہ سکیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ اب آخری پیغمبر بھیج دیاجائے تو…

Al-Risala June 2007 m1_backfill

…تبدیلی ہونے کی بنا پر بعد کے ناقلین کو حضرت مسیح کے بارے میں جو کچھ ملا، وہ کافی بدل چکا تھا۔ اب بائبل کی صورت میں جو چیز موجود ہے، وہ حضرت مسیح کے بارے میں بعد کے زمانے کا رکارڈ ہے، جب کہ وہ بدلتے بدلتے اپنی اصل حیثیت کو ختم کرچکا تھا۔

پیغمبر اسلام کے ساتھ خدا کا یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ آپ کی لائی ہوئی خدائی کتاب (قرآن) پوری طرح محفوظ ہوگئی۔اِس بنا پر اب نیے پیغمبر کی ضرورت نہیں۔ آپ کی لا ئی ہوئی کتاب اب پوری طرح مستند صورت میں موجود ہے۔ آپ کے متّبعین نسل بعد نسل دنیا میں پائے جارہے ہیں۔ یہ چیزیں پیغمبر کا بدل ہیں۔ پیغمبر نے جو کام ذاتی طور پر کیا تھا، اب وہی کام پیغمبر کے متبعین کے ذریعے نسل در نسل ہوتا رہے گا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ دوسرے پیغمبروں کی لائی ہوئی کتاب زمانۂ تبدیلی میں مرتب کی گئی، جب کہ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی کتاب دورِ اوّل ہی میں محفوظ کر لی گئی، اِس سے پہلے کہ اُس کے اندر کوئی تبدیلی واقع ہو۔

پیغمبرانہ مشن کی اِس تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اُس کے چند دور قرار پاتے ہیں۔ یہ اَدوار تاریخی ترتیب کو نہیں بتاتے، بلکہ عمل کی مختلف نوعیت کو بتاتے ہیں۔ اِن اَدوار کو حسب ذیل تقسیمات کی صورت میں بیان کیا جاسکتاہے:

Al-Risala June 2003 m1_backfill original + quote

…کی روشنی میں اس کی ممبر قوموں کے رویّہ کو جانچا جائے گا، نہ یہ کہ ممبر قوموں کی عملی روش کی روشنی میں چارٹر کا مفہوم متعین کیاجائے۔ اسی طرح اس مسئلہ کے علمی مطالعہ کے لئے ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھا جائے۔

مثلاً مسلمانوں کی ایک تعداد ان قبروں کو پوجتی ہے جس میں کسی بزرگ کو کبھی دفن کیا گیا تھا۔ اس کو دیکھ کر بت پرست لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب شرک اور اسلام کے مذہب توحید میں کوئی فرق نہیں ۔ فرق اگر ہے تو صرف یہ کہ ہندو دھرم میں کھڑا کر کے پوجا جاتا ہے اور اسلام دھرم میں لِٹا کر پوجا جاتا ہے۔ مگر یہ تقابل درست نہیں۔ کیوں کہ جو مسلمان قبروں کو پوجتے ہیں وہ ان کا ایک انحرافی فعل ہے۔ اس کا اسلام کی اصل تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔

یہی معاملہ جہاد کا ہے۔ جہاد بلا شبہہ ایک پر امن عمل ہے۔ لیکن اگر محمود غزنوی اور اورنگ زیب کی متشددانہ کارروائیوں کو اسلامی جہاد بتایا جائے یا موجودہ زمانہ میں جو مسلمان مختلف مقامات پر اسلام کے نام سے لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں ان کو جہاد کہا…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…کی حفاظت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی غلطی کی بنا پر تم اپنے ایمان ہی سے محروم ہو جاؤ۔ 5) (دنیا میں کسی کے پاس کوئی خیر دیکھو تو حسد اور جلن میں مبتلا نہ ہو، کیوں کہ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جو اس کے فیصلہ کے تحت اس کے ایک بندے کو پہنچا ہے۔

کسی کو خدا کی طرف سے سچائی ملے اور وہ اس کا داعی بن کر کھڑا ہو جائے تو لوگ اس کے مخالف بن جاتے ہیں ۔ کیوں کہ اس کی دعوت میں لوگوں کو اپنی حیثیت کی نفی (negation)دکھائی دینے لگتی ہے۔ لیکن زوال یافتہ لوگ اس بات کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں کہ وہ اپنی روایتی عظمت کی نفی کریں ۔ کیوں کہ وہ پیغمبری کو اپنا قومی حق سمجھتے ہیں ۔ ان کے لیے یہ بات ناقابل برداشت ہوتی ہے کہ ان کے گروہ کے سوا کسی اور گروہ میں خدا کے پیغمبرکا ظہور ہو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے اہل کتاب آپ کی دعوت کے بارے میں کنفیوزن پیدا کرنے والی بحثیں چھیڑتے تاکہ لوگوں کو اس شبہ میں ڈال دیں کہ آپ جو کچھ پیش کررہے ہیں وہ محض ایک شخص کی ذاتی اپج ہے۔ وہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی چیز نہیں ہے۔ان میں سے ایک یہ تھا کہ قرآن میں بعض قانونی احکام تورات سے مختلف تھے۔ ان کو دیکھ کر وہ کہتے کہ کیا خدا بھی حکم دینے میں غلطی کرتاہے کہ ایک بار ایک حکم دے اور اس کے بعد اسی معاملہ میں دوسرا حکم بھیجے۔ اس طرح کے شبہات انھوں یہود نے اتنی کثرت سے پھیلائے کہ خود مسلمانوں میں کچھ سادہ مزاج لوگ ان کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنے لگے۔ اپنے زوال یافتہ ذہنیت کی وجہ سے وہ اس حد تک چلے گئے کہ جب یہ لوگ آپ کی مجلسوں میں بیٹھتے تو ایسے الفاظ بولتے جن سے آپ کا بے حقیقت ہونا ظاہر ہوتا۔ مثلاً ’’ہماری طرف توجہ کیجیے‘‘ کے لیے عربی زبان میں ایک شائستہ لفظ’اُنظرنا‘ تھا۔ مگر وہ اس کو چھوڑ کر ’راعِنا‘ کہتے۔ کیوں کہ تھوڑا سا کھینچ کر اس کو’ راعینا‘ کہہ دیا جائے تو اس کے معنی ’’ہمارے چرواہے‘‘ کے ہوجاتے ہیں ، اسی طرح کبھی الف کو دبا کر وہ اس کو راعِنَ کہتے جس کے معنیٰ احمق کے ہوتے ہیں۔ ہدایت کی گئی کہ (1)گفتگو میں صاف الفاظ استعمال کرو، مشتبہ الفاظ مت بولو جس میں کوئی برا پہلو نکل سکتا ہو 2) (جو بات کہی جائے اس کو غور سے سنو اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ (3)سوال کی کثرت آدمی کو سیدھے راستہ سے بھٹکا دیتی ہے، اس ليے سوال وجواب کے بجائے عبرت اور نصیحت کا ذہن پیدا کرو۔ (4) اپنے ایمان کی حفاظت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی غلطی کی بنا پر تم اپنے ایمان ہی سے محروم ہو جاؤ۔ 5) (دنیا میں کسی کے پاس کوئی خیر دیکھو تو حسد اور جلن میں مبتلا نہ ہو، کیوں کہ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جو اس کے فیصلہ کے تحت اس کے ایک بندے کو پہنچا ہے۔

قرآن کی آواز اگرچہ بہت سے لوگوں کے لیے نامانوس آواز تھی۔ تاہم انھیں میں ایسے لوگ بھی تھے جو اس کو اپنے دل کی آواز پاکر اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے جارہے تھے۔ یہ صورت حال قدیم آسمانی کتابوں کی حامل قوم کے لیے ناقابلِ برداشت بن گئی۔…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…کرنا ہے۔ یہ دین کے اخروی پہلو کو نظر انداز کرنا ہے اور دین کے بعض وہ پہلو جو اپنے اندر دنیوی رونق اور شہرت رکھتے ہیں ان میں دین داری کا کمال دکھانا ہے۔ دین میں اس قسم کی جسارت آدمی کو اللہ کے غضب کا مستحق بناتی ہے، نہ کہ اللہ کے انعام کا۔

تورات اللہ کی کتاب تھی جو بنی اسرائیل پر اتری۔ مگر دھیرے دھیرے تورات کی حیثیت ان کے یہاں قومی تبرک کی ہوگئی۔ قومی عظمت اور نجات کی علامت کے طورپراب بھی وہ اس کو سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ مگر رہنما کتاب کے مقام سے اس کو انھوں نے ہٹا دیا تھا۔ حضرت موسیٰ کے بعد بار بار ان کے درمیان انبیا اٹھے، مثلاً یوشع نبی، داؤد نبی، زکریا نبی، یحیٰ نبی، وغیرہ۔ ان کے آخری نبی حضرت عیسیٰؑ تھے۔ یہ تمام انبیا ان کو یہ نصیحت دینے کے لیے آئے کہ خدائی تعلیمات کو اپنی عملی زندگیوں میں شامل کرو۔ مگر تورات کے تقدس پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ آواز ان کے لیے تمام آوازوں سے زیادہ ناقابلِ برداشت ثابت ہوئی۔ وہ خدا کے نبیوں کو نبی ماننے سے انکار کرتے، حتی کہ ان کو قتل کرڈالتے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تورات کے نام پر وہ جس زندگی کو اختیار کيے ہوئے تھے وہ حقیقۃً نفسانیت اور دنیا پرستی کی ایک زندگی تھی، جس کے اوپر انھوں نے خدا کی کتاب کا لیبل لگالیا تھا۔ خدا کے نبی جب بے آمیز حق کی دعوت پیش کرتے تو ان کو نظر آتا کہ یہ دعوت ان کی مذہبی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ اب ان کے اندر گھمنڈ کی نفسیات جاگ اٹھتیں ۔ وہ نبیوں کے اعتراف کے بجائے ان کو ختم کرنے کے درپے ہوجاتے۔ یہی معاملہ قدیم عرب کے یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا۔ وہ اپنی کتابوں میں آخری رسول کی پیشین گوئی کو دیکھ کر کہتے کہ جب وہ نبی آئے گا تو ہم اس کے ساتھ مل کر کافروں اور مشرکوں کو زیر کریں گے۔مگر ان کی یہ بات محض ایک جھوٹی تقریر تھی جو اپنے کو مذہب کا پاسبان ظاہر کرنے کے لیے وہ کرتے تھے۔ چنانچہ ’’وہ نبی‘‘ آیا تو ان کی حقیقت کھل گئی۔ ان کے جاہلی تعصبات اپنے گروہ سے باہر کے ایک نبی کا اعتراف کرنے میں رکاوٹ بن گئے۔ قرآن میں آپ کی صداقت کے بارے میں جو واضح دلائل ديے جارہے تھے، ان کے جواب سے وہ عاجز تھے۔ اس ليے وہ کہنے لگے کہ تمھاری ظاہر فریب باتوں سے متاثر ہو کر ہم اپنے اسلاف کا دین نہیں چھوڑ سکتے۔

تورات اللہ کی کتاب تھی جو بنی اسرائیل پر اتری۔ مگر دھیرے دھیرے تورات کی حیثیت ان کے یہاں قومی تبرک کی ہوگئی۔ قومی عظمت اور نجات کی علامت کے طورپراب بھی وہ اس کو سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ مگر رہنما کتاب کے مقام سے اس کو انھوں نے ہٹا دیا تھا۔…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…نہیں۔ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے وفاداروں کا ساتھ دے گا اور انھیں کامیاب کرکے رہے گا۔ ’’لعنت‘‘ دراصل بے حسی کی آخری صورت ہے۔ آدمی کی بے حسی جب اس نوبت کو پہنچ جائے کہ اس کوحق اور ناحق کی کوئی تمیز نہ رہے تو اسی کو لعنت کہتے ہیں۔

اللہ کی کتاب کسی گروہ کو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس سے اپنی سوچ اور اپنے عمل کو درست کرے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل کوئی قوم زوال کا شکار ہوتی ہے، جیسا کہ یہود ہوئے، توخدا کی کتاب سے وہ ہدایت کے بجائے گمراہی کی غذا لینے لگتی ہے۔ خدا کے احکام اس کے لیے خشک جزئیاتی بحثوں کا موضوع بن جاتے ہیں۔اب اس کے یہاں اعتقادیات کے نام پر فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ وہ اس کے لیے ایسی سرگرمیوں کی تعلیم دینے والی کتاب بن جاتی ہے جس کا آخرت کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسے لوگ اپنی روایتی نفسیات کی وجہ سے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی ہر بات کو خدا کی بات ثابت کریں وہ اپنے عمل کا دینی جواز فراہم کرنے کے لیے خدا کی کتاب کو بدل دیتے ہیں۔ خدا کے کلمات کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا کروہ اس کی خود ساختہ تشریح کرتے ہیں۔ وہ الفاظ میں الٹ پھیر کرکے اس سے ایسا مفہوم نکالتے ہیں جس کا اصل خدائی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیںہوتا۔ ’’یہود کو کتاب کا کچھ حصہ ملاتھا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کو خدا کی کتاب کے الفاظ پڑھنے کو ملے مگر خدا کی کتاب پر عمل کرنا جو اصل مقصود تھا، اس سے وہ دور رہے۔ لفظ کے معاملہ میں وہ حامل کتاب بنے رہے مگر عمل کے معاملہ میں انھوںنے عام دنیا دارانہ قوموںکا راستہ اختیار کرلیا۔ مزید یہ کہ عام لوگ دنیاداری کو دنیا داری کے نام پر کرتے ہیں اور انھوں نے یہ ڈھٹائی کی کہ اپنی دنیاداری کے لیے خدا کی کتاب سے سند پیش کرنے لگے۔ پھر ان کی گمراہی اپنی ذات تک نہیں رکی۔ وہ اپنے کو خدا کے دین کا نمائندہ سمجھتے تھے اس لیے جب غیریہودی عربوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دینا شروع کیا تو یہود اپنی دینداری کا بھرم قائم رکھنے کے لیے خود پیغمبر کے مخالف ہوگئے۔ انھوںنے آپ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو اس شبہ میں مبتلا کرنا شروع کیا کہ یہ خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہیں بلکہ محض ذاتی حوصلہ کے تحت دین خدا کے عَلَم بردار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ مگر اس معرکہ میںاللہ غیر جانب دار نہیں۔ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے وفاداروں کا ساتھ دے گا اور انھیں کامیاب کرکے رہے گا۔ ’’لعنت‘‘ دراصل بے حسی کی آخری صورت ہے۔ آدمی کی بے حسی جب اس نوبت کو پہنچ جائے کہ اس کوحق اور ناحق کی کوئی تمیز نہ رہے تو اسی کو لعنت کہتے ہیں۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کو سنتاہے مگروہ حقیقۃً نہیں سنتا۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی اس بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نه ہو اور اس پر عمل کرنے سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ یہ مزاج جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتا ہے تو آدمی…

…ہے۔ اگر دعوت کار گر نہ ہورہی ہو تو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ دعوت پر جارحیت کا اضافہ کرے۔ اسے جس چیز کا اضافہ کرنا ہے وہ ہے — خدا سے دعا، ہر قسم کے مادی جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا، بے غرضی اور اخلاق کے ذریعہ مخاطب کے دل کو متاثر کرنا۔

خدا نے انسان کو ایسی دنیا میں رکھا ہے جہاں کی ہر چیز اور اس کا پورا ماحول توحید کی گواہی دیتا ہے۔ مگر انسان اس سے روشنی حاصل نہیں کرتا۔ وہ اپنی گمراہی میں اس حد تک جاتا ہے کہ وہ توحید کے بجائے شرک کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نظام بناتا ہے۔ اور جب کوئی خدا کا بندہ انسانوں کو توحید کی طرف پکارنے کے ليے اٹھے تو وہ دعوت توحید کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔ تاہم حق کے داعی کو جارحیت کی حد تک جانے کی اجازت نہیں۔اس کو صرف تلقین اور نصیحت کے دائرہ میں اپنا کام جاری رکھنا ہے۔ اگر دعوت کار گر نہ ہورہی ہو تو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ دعوت پر جارحیت کا اضافہ کرے۔ اسے جس چیز کا اضافہ کرنا ہے وہ ہے — خدا سے دعا، ہر قسم کے مادی جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا، بے غرضی اور اخلاق کے ذریعہ مخاطب کے دل کو متاثر کرنا۔

’’رحمان کی بابت جاننے والے سے پوچھو‘‘— اس میں پوچھي جانے والی بات پر زور ہے، نہ کہ پوچھے جانے والے شخص پر۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خدائے رحمان کے کرشموں کو جانے تو وہ تم کو بتائے گا کہ رحمن کی ذات کتنی بلند و برتر ہے۔ موجودہ زمانہ میں…

Al-Risala February 2010 m1_backfill original + quote

…جو اپنے شوہروں سے محروم ہوگئی ہیں، معاشرے میں اُن کا بندوبست (settlement) کس طرح کیا جائے۔سورہ النساء کی آیت نمبر 2 میں، پہلے مسئلے کا حل بتایا گیا ہے۔اور اس کی آیت نمبر 3 میں دوسرے مسئلے کا حل بیان ہوا ہے۔ آیت نمبر 2 کا ترجمہ یہ ہے

’’اور یتیموں کا مال اُن کے حوالے کرو۔ اور برے مال کو اچھے مال سے نہ بدلو، اور اُن کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے‘‘۔ (النساء2 )۔ یعنی یتیم بچوں کے مال اور جائداد کے بارے میں انصاف اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کرو، تاکہ اُن کا حق درست طورپر ان کو پہنچ جائے۔

دوسرے مسئلے کے حل کے بارے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں وإن خفتم ألا تُقسطوا فی الیتامیٰ فانکحوا ما طاب لکم من النساء مَثنیٰ، وثُلٰث، ورُبٰع (النساء 3)۔ یعنی اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کرسکوگے، تو عورتوں میں…

Al-Risala October 2011 m1_backfill original + quote

اسلامی عقیدے کے مطابق، پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ اُسی وقت سے شروع ہوگیا جب کہ انسان کو پیدا کرکے اس کو موجودہ زمین پر آباد کیا گیا ہے۔ آدم، پہلے انسان تھے اور پہلے پیغمبر بھی (3: 23)۔ اِس کے بعد ہر دور اور ہر نسل میں مسلسل طورپر پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو خدا کا پیغام دیتے رہے (23: 44)۔ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ آپ پر خدا نے اپنی کتاب قرآن اتاری۔ اِس کتاب میں یہ اعلان کردیاگیا کہ محمد، اللہ کے رسول ہیں، اور اِسی کے ساتھ وہ نبیوں کے خاتَم (33: 40) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

خاتم، یاسیل (seal) کے معنیٰ کسی چیز کو آخری طورپر مہر بند کرنے کے ہیں، یعنی اس کا ایسا خاتمہ جس کے بعد اس میں کسی اور چیز کا اضافہ ممکن نہ ہو

In the lectures

Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations. Showing the first 60 of 100 distinct lectures.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

semantic Diary 1989-1990

میں نے اس سلسلہ میں چار کتابوں کا انتخاب کیا ہے ۔ میری خواہش ہے کہ ان کتابوں کے صحیح اور مستند تر جمے تیار کئے جائیں۔ اولا انگریزی میں اور اس کے بعد دوسری زبانوں میں۔ یہ کتابیں یہ ہیں:

قرآن

مشکوٰۃ المصابيح

…guidelines for the relationship between men and women. The following quotations from the Quran and Hadith highlight the most essential aspects of feminine virtue and the standing that a woman should have vis-à-vis her husband and father:

Verses from the Quran

“Live with them in accordance with what is fair and kind; if you dislike them, it may be that you dislike something which God might make a source of abundant good.” (4:19)

…اس کا ئنات میں اس کے لئے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ وہ کوڑے خانے سے نکل کر انتہائی بلند مقام پر پہنچ سکتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنے اندرونی امکانات کو بروئے کار لانے کے لئے محنت اور دانش مندی کا وہ عمل کرے جو گاربیج بوائلر کی مثال میں نظر آتا ہے

قرآن کے بارے میں

''میں نے قرآن کا مطالعہ کیا مجھے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ نظر آئی کہ یہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔'' (گاندھی)۔

…برابر پیدا ہوتے ہیں- اِن افراد کی سطح پر روحانی تہذیب کا غیر مرئی دھارا نسل درنسل چلتا رہتاہے- مادی تہذیب اگر اجتماعی اداروں (social organisations) کی سطح پر چلتی ہے تو روحانی تہذیب افراد کی داخلی کیفیات اور افکار کی سطح پر جاری رہتی ہے-

قرآن کا حوالہ

قرآن تاریخ تہذیب کی کتاب نہیں، لیکن قرآن میں دونوں قسم کی تہذیبوں کے بارے میں اشاراتی حوالے موجود ہیں- قرآن کی آیتوں میں تدبر کرکے ان کو سمجھا جاسکتا ہے- جہاں تک مادی تہذیب کی بات ہے، اس کا اشاراتی حوالہ قرآن کی سورہ الروم میں اِن…

مگر جیساکہ معلوم ہے، ٹالسٹائے کی کتاب صرف ایک ناول ہے، یعنی وہ فکشن کے پیرایے میں لکھی گئی ہے، اور کوئی فکشن حقیقی زندگی (real life) کے لیے گائڈ بک نہیں بن سکتا-

قرآن کا بیان

معاہدہ حدیبیہ ذوالقعدہ 6 ہجری میں طے پایا- اس کے فوراً بعد قرآن کی سورہ الفتح نازل ہوئی- اِس سورہ کی ابتدائی تین آیتیں یہ تھیں: اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا ۝ لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا…

…-انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر (لودھی روڈ، نئی دہلی) میں 20 اکتوبر 2007 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ اِس کا انتظام سی پی ایس اور گڈ ورڈ بکس کی طرف سے کیاگیا۔ یہ پروگرام صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے لیے کیا گیا تھا۔اُس کا موضوع تھا— قرآن کا پیغام:

The Message of the Quran

اِس پروگرام میں تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے ۔ کچھ ہندو حضرات بھی وہاں موجود تھے۔ تقریباً ایک گھنٹے تقریر ہوئی۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ یہاں آنے والوں کو اسلامی دعوت کے مطبوعہ انگریزی بروشر دیے گیے۔ یہاں گُڈورڈبکس کی طرف سے…

قرآن کا مشن

قرآن کی سورہ الزخرف مکی دور کے نصف آخر میں نازل ہوئی۔ غالباً یہ سفر طائف کے بعد کا زمانہ ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مخالفین کی مخالفت نہایت شدیدہوچکی تھی۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتری:أَفَنَضْرِبُ عَنْکُمُ الذِّکْرَ صَفْحًا أَنْ…

مگر جيساكه معلوم هے، ٹالسٹائے كى كتاب صرف ايك ناول هے، يعنى وه فكشن كے پيرايے ميں لكھى گئى هے، اور كوئى فكشن حقيقى زندگى (real life) كے ليے گائڈ بك نهيں بن سكتا۔

قرآن كا بيان

معاهده حديبيه ذوالقعده 6 هجرى ميں طے پايا۔ اس كے فوراً بعد قرآن كى سورۃ الفتح نازل هوئي۔ اِس سورۃ كى ابتدائى تين آيتيں يه تھيں اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا ۝ لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا…

…اس كے اندر ايمانى شعور زنده هو تو يه تمام احوال وتجربات اس كے ليے رزقِ رب كا ذريعه بنتے رهيں گے۔ آخر كار وه اُس مطلوب انسان كا درجه حاصل كر لے گا جو آخرت كى جنت ميں داخلے كے ليے ايك مستحق اميدوار (deserving candidate) كى حيثيت ركھتا هے۔

قرآن كا موضوع

قرآن خالقِ كائنات كى كتاب هے۔ قرآن كا موضوع (subject) يه هے كه انسان كے بارے ميں الله كے تخليقى منصوبه سے اس كو آگاه كيا جائے۔ قرآن كے تمام بيانات براهِ راست يا بالواسطه طورپر اِسى معاملے كى وضاحت هيں۔ مثلاً قرآن كى سوره ابراهيم ميں…

تفسیرِ قرآن

کچھ لوگ ضروری علمی حق ادا کیے بغیر قرآن کی تفسیر کرتے ہیں۔ مگر حدیث میںاس کو سختی سے منع کیا گیا ہے(الترمذی، باب أن یفسّر القرآن بغیر علم) مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اُس میں دو قسم کی آیتیں ہیں۔ چناںچہ ارشاد ہوا ہے: منہ آیات…