Person
Sahaba
Companions of the Prophet.
Mentioned in 13 book passages
and 72 lecture moments.
Cite / permalink: entity/person/sahaba
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…She was married to Hazrat Ali ibn Abi Talib when she was 18 years old. According to authentic narrations, Hazrat Fatimah had four children: Hasan, Husain, Zainab, and Umm Kulthum. Hazrat Fatimah has narrated Eighteen Hadith traditions.
Hazrat Fatimah’s life was a life of hardship and struggle. She once asked the Prophet Muhammad for a servant, to which he replied, “Shall I not tell you of something better for you than a servant?” Then he taught her the famous ‘Tasbih’: SubhanAllah 33 times, Alhamdulillah 33 times, Allahu Akbar 34 times. This became known as “Tasbih Fatimah.” (Sahih al-Bukhari, Hadith No. 6318) Hazrat Fatimah not only spent her entire life following this advice of the Prophet of Islam herself, but as she shared this advice with others, it also became a regular practice for women and men in the Muslim community. In this way, Hazrat Fatimah set an important example for the Muslim community.
The example set by Hazrat Fatimah is that the value of spiritual gifts is much more than material ones and that we should accept what is given to us with contentment and gratitude rather than insisting on our desires.
…مرکز نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کی جڑ تعلیم ہے۔ اگر مسلمانوں میں تعلیم پھیل جائے تو بقیہ تمام مسئلے اپنے آپ حل ہوجائیں گے۔ تعلیم سے سمجھ آتی ہے اور مسائل کو حل کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضرورت سمجھداری کی ہے۔
۳۷۔ نئی دہلی کے زی نیوز (Zee News) کے اسٹوڈیو میں ۱۵ ستمبر ۲۰۰۴ کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ اس کے اینکر مسٹر یوسف انصاری تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع فیملی پلاننگ اور مسلمان تھا۔ اُنہوں نے بتایا کہ فیملی پلاننگ کا مسئلہ کوئی شرعی مسئلہ نہیںہے۔ اس کا تعلق ملکی حالات اور نیشنل پالیسی سے ہے۔ مسلمان حسبِ ضرورت اس کو اختیار کرسکتے ہیں۔
۳۸۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۱۵ ستمبر ۲۰۰۴ کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ اس کے اَینکر مسٹر جاوید نقوی تھے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع برتھ کنٹرول اور مسلمان تھا۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے بتایا کہ…
…روح جو اتحاد ہے، وہ ان کے اندر موجود نہیں۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر اسلام کی اصل اسپرٹ کو زندہ کیا جائے جو خَوفِ خدا اور فکر آخرت پر ہوتی ہے۔ روح کے بغیر شکل اسی طرح بے قیمت ہے جس طرح پھل کے مغز کے بغیر اس کا چھلکا۔
۸۔ جہاں تک راقم الحروف کا تعلق ہے، میںمسلمانوں کو متحد کرنے کی کوشش ہی میں لگا ہوا ہوں۔ میرے نزدیک مسلم اتحاد جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ قائم نہیں ہوسکتا۔ وہ صرف اس طرح قائم ہوسکتا ہے کہ دلوں اور دماغوں میںروحِ اتحاد کو زندہ کیا جائے۔ اور میں یہی کام کررہا ہوں۔
۹۔ میرے نزدیک مسلمانوں کے انتشار کا سبب یہ ہے کہ اُن کے دلوں سے اللہ کا خوف نکل گیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا مقصد، دوسری قوموں کی طرح، صرف مال کمانا اور مادّی ترقی حاصل کرنا بن گیا ہے۔ یہ مزاج ہمیشہ حسد اور نفسانیت کے جذبات کی پرورش…
Just as men function on different planes of religiosity, so do women have their separate spheres of religious effectiveness.
What are the traits of exemplary Muslim women? Let us first consider their everyday level of existence on which adherence to their religion broadly means paying the dues of God and men in purely personal matters. In particular, it means true belief in God and the carrying out of His commandments; strict adherence to justice in all worldly transactions; withstanding the temptations of the self as instigated by Satan; paying what is due to God in terms of one’s wealth and life; giving the Hereafter priority over the present world; being guided by Islamic ethics in dealing with one’s family, relatives and friends; in effect, invariably dealing with all matters in the manner approved of by Islam.
Next in importance to these feminine duties is the training and nurturing of children. Most women become mothers, and the relationship between mother and child is of the utmost importance because the mother’s influence can be used for ends…
…وہ تمام تر نظریاتی معنی میں ہے۔ یعنی کفر جس نظریاتی بنیاد (ideological base)پر کھڑا ہے، اس نظریاتی بنیاد کودلائل کے ذریعے بے وزن بنادینا۔ کفر کے عقیدے کو اس کی نظریاتی اساس سے محروم کردینا۔ اس معاملے کا کوئی تعلق جنگ و قتال سے نہیں ہے۔
کفر ایک عقیدہ ہے جو انسان کے دماغ میں بطور ایک فکر کے موجود ہوتا ہے۔ فکر کو جنگ کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ بلکہ فکر کو صرف جوابی فکرکے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی کوششوں سے عرب میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری ہوا، جو نہایت موثر طور پر پوری تاریخ میں چلتا رہا۔ جیسا کہ حدیث ( البخاری، حدیث نمبر 3062)میں آیاہے۔ اس انقلابی عمل میں سیکولر لوگوںکی تائید بھی ضرور حاصل ہوگی۔ یہاں تک کہ یہ انقلابی عمل اپنی آخری حد تک پہنچ جائے ۔
موجودہ زمانے میں جس چیز کو ماڈرن سویلائزیشن کہا جاتا ہے، وہ اسی انقلابی عمل کی تکمیل ہے۔ اب اکیسویں صدی میں ’’کفر‘‘ اپنی نظریاتی طاقت کو کھوچکا ہے۔ آج کی دنیا میں انسان کو مکمل معنوں میںمذہبی آزادی حاصل ہے۔ اب وسائل پر کسی کی اجارہ داری…
…متواترہ- سنتِ متواترہ عملاً اُس دین ِ اسلام کا مستند حصہ بن چکی ہے جس کو ہم نے انسٹی ٹیوشنلائزڈ اسلام کہا ہے- یہ اُسی طرح قابلِ اتباع ہے، جس طرح قرآن کی آیات- سنتِ متواترہ کے سلسلے میں اب ہم کو صرف اتباع کرنا ہے، نہ کہ اُس پر بحث کرنا-
جہاں تک اخبارِ آحاد (احادیث) کا تعلق ہے، اُن کی نوعیت کسی قدر مختلف ہے- اخبارِ آحاد عملاً ظنی کے حکم میں ہیں، لیکن ظنی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ موضوع روایت کی طرح قابلِ رد ہیں- ظنی کا مطلب صرف یہ ہےکہ وہ تحقیقِ مزید کا موضوع (subject to rechecking) ہیں، اور جب تحقیق کے ذریعے اخبارِ آحاد کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوجائے تو وہ بلاشبہہ دوسری صحیح احادیث کی طرح قابلِ اتباع ہوجائیں گی- اِس معاملے میں یہی جمہور کا مسلک ہے-(حدیث الآحاد حجة، یجب العمل بہ إذا صحّ، وعلى ہذا جمہور المسلمین)
عبادت اور عملی تواتر
…انداز میں ثابت نہ ہو، وہ عقیدے کا موضوع ہے، نہ کہ علم کا۔ رائٹر(writer) کے لیے اس اصول کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ اس کی تحریریں کچھ صاحب عقیدہ لوگوں کے لیے قابل مطالعہ ہوسکتی ہیں، لیکن دوسرے لوگوں کے لیے ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔
عام دینی علما اور مستشرق اہل علم کے درمیان یہی فرق ہے۔ مستشرق عالم ایسی باتوں کی بنیاد پر لکھتا ہے، جو دینی مآخذ کے باہر آزادانہ حوالوں سے ثابت شدہ قرار پاتی ہوں۔جو باتیں آزادانہ حوالوں سے ثابت شدہ نہ ہوں، وہ مستشرقین کے لیے قابل حوالہ نہیں۔
خواہ لکھنے کا معاملہ ہو، یا بولنے کا معاملہ ۔ صحیح اسلوب یہ ہے کہ آدمی حقیقت نگاری کا طریقہ اختیار کرے۔ تعریف نگاری اوربلادلیل تنقید، دونوں سے وہ دور رہے۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ غلط رواج وہ ہے، جس میں افراد کو فضیلت کی زبان میں بیان…
…إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ یعنی ان کو حق ان کادو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔ اگر اس حدیث کے مطابق عمل نہ کیا جائے، تو باعتبارِ نتیجہ صرف فساد برپا ہوگا، شکایت کا ازالہ نہیں ہوگا۔
اس سلسلے میں محدثین ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ انھوں نے اپنی علمی اور دینی ذمے داریاں بھرپور طریقے سے ادا کی، لیکن وقت کے حکام سے جو شکایت تھی، اس کو نظرانداز کیا۔ جس کی وجہ سے آج ہم ان کے علمی ذخیرے سے فائدہ حاصل کررہے ہیں۔ آج علماء کرام دلوں میں شکایت پالنے کی وجہ سےاپنے لیے مسائل میں اضافہ کرتے جارہے ہیں، مگر کوئی بڑا علمی ذخیرہ یا کارنامہ نہیں ادا کررہے ہیں۔ تقریباًہر عالم اپنی انتظامیہ اور متولیانِ مساجد کے خلاف شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے، یہاں تک کہ پوری زندگی شکایت کی نذرہوجاتی ہے ۔
آج علماء صرف جلسوں یا کانفرنسوں میں نظر آجاتے ہیں، مگر ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو کو ئی علمی تحقیق یا علمی یاد گار نہیں دے پاتے۔ اس کےبغیر ہی وہ دنیا سےشاکی ہو کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ علماء اپنی اس سوچ کی اصلاح…
28 فروری 1985
میںنے ایک خانقاہ میں چند دن گزارے۔ یہاں میںنے دیکھا کہ لوگ زور وشور سے ذکربالجہر کررہے ہیں۔ میںنے وہاں کے ایک عالم دین سے کہا یہ ذکر بالجہر جس کی گونج ہر خانقاہ میں سنائی دیتی ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ قرآن کے نص صریح کے خلاف ہے۔ کیوں کہ قرآن میںآیا ہےوَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ (7:205)۔ یعنی اور اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو اپنے دل میں، عاجزی اور خوف کے ساتھ اور پست آواز سے۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے یہاں اس قسم کے ذکر کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس زمانے میں مطلق اس کا رواج نہیں تھا کہ لوگ بیٹھ کر بلند آواز سے کچھ مخصوص الفاظ کی تکرار کررہے ہوں۔
انھوں نے جواب دیا۔ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ کی روحانیت اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ جو آپ کو دیکھتا تھا وہ ایمان کا اعلیٰ مقام حاصل کرلیتا تھا۔ مگر بعد کے دور میں جب یہ چیز باقی نہ رہی تو بزرگوں نے ذکر بالجہر کا طریقہ اختیار کیا۔ اس سے دل پر ضرب…
2دسمبر 1985
ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ گفتگو کا موضوع تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا دین کیا ہے اور صحابہ کرام کا دین کیا تھا۔
میںنے کہا کہ، ایک لفظ میں، ہمارا اور صحابہ کرام کا فرق یہ ہے کہ ہم نفرتِ اقوام پر کھڑے ہوئے ہیں اور صحابہ کرام محبتِ اقوام پر کھڑے ہوئے تھے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے وہ تمام فرق پیداکردیا ہے جو ہمارے اور صحابہ کے درمیان پایا جاتاہے۔
…پر کسی خارجی دشمن کو مسلط نہ کرے۔ اللہ نے میری یہ دعا قبول کرلی اور میں نے یہ دعا کی کہ وہ اُن کو گروہوں میں نہ بانٹے کہ اُن کا ایک گروہ اُن کے دوسرے گروہ کو اپنی طاقت کا مزہ چکھائے۔ اللہ نے اس کو قبول نہیں کیا(مسند احمد ، حدیث نمبر 1574)۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی تحریک کے غیر مطلوب ہونے کی پہچان کیا ہے۔ وہ پہچان یہ ہے کہ کیا اس تحریک کے ذریعہ مسلمان دو حصوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں۔ جب بھی کسی تحریک کا یہ نتیجہ نکلے کہ مسلمان دوگروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں تو یقینی طور پر ایسی تحریک ایک غیر مطلوب تحریک ہے۔ اُس کو خدا کی مدد حاصل نہیں۔ ایسی تحریک کا اگر پھیلاؤ ہو تو یقینی طور پر یہ پھیلاؤ شیطان کی مدد سے ہوگا ، نہ کہ اﷲ کی مدد سے۔
دوگروہوں میں بٹنے کا یہ معاملہ سیاسی عنوان سے بھی ہوسکتا ہے اور مذہبی عنوان سے بھی یا کسی اور عنوان سے بھی۔ کسی مسلم تحریک کے مطلوب ہونے کی اصل پہچان یہ نہیں ہے کہ وہ قرآن وحدیث کے نام پر اُٹھائی گئی ہے۔ بلکہ اصل پہچان یہ ہے کہ اس کے…
…وجود میں آتی ہے۔ اس مطلوب الجماعت کی پہچان یہ ہے کہ وہ اس حدیثِ رسول مَنْ كَانَ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ، وَأَصْحَابِي (المعجم الکبیر للطبرانی،جلد 8، صفحہ 152) کا مصداق ہو۔ یعنی، وہ اس راستہ پر رہے جس میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں۔
یعنی وہ پوری سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ رسول اور اصحاب رسول کو اپنا اُسوہ بنائے۔ وہ ہر معاملے میں یہ دیکھے کہ دورِ اوّل میں جب اس قسم کی صورت حال پیدا ہوئی تو رسول اور اصحابِ رسول نے اُس موقع پر کس قسم کی روش اختیار کی اور پھر رسول اور اصحابِ رسول کے یہاں جو روش ملے اُس کو کسی تاویل کے بغیر اختیار کر لے۔آپ نے اپنے خط میں جس جماعت کا ذکر کیا ہے وہ بلا شبہ اُس برائی کا شکار ہے جس کو قرآن اور حدیث میں غُلو کہا گیا ہے۔
جب آپ کسی کو ایسی حالت میں دیکھیں جو آپ کے نزدیک بُرائی ہے تو آپ کو صرف یہ حق ہے کہ پوری خیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ اس کو نصیحت کریں ، اور اپنی تنہائیوں میں اس کے لیے رو کر دعا کریں۔ ضروری دلائل کے ساتھ اس کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں…
1۔ اول یہ کہ حدیث میں جس چیز کا ذکر ہے، وہ ہے ’’لاالٰہ الاّ اللہ کہلانا‘‘۔ مگر معلوم نہیں کہ کس دلیل کی بنا پر اس کو ’’دنیا کی اصلاح‘‘ اور ’’تشریعی حکومت کے قیام‘‘ کے معنی میں لے لیا گیا ہے۔
2 ۔ دوسرے یہ کہ حدیث کے الفاظ کے مطابق اس میں امت کا فریضہ نہیں بیان کیا گیا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے اپنے ایک عمل کا ذکر ہے۔ جس کو وہ رسول کے واسطہ سے انجام دے گا۔ أي يُقِيمَ اللهُ تعالى بواسِطَتِهِ المِلَّةَ العِوَجَاءَ بأن يقولوا لا إلهَ إلا الله (ارشاد الساری للقسطلانی، جلد 4، صفحہ 52)۔
3۔کہا گیا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول کی روح اس وقت تک قبض نہ کرے گا جب تک اس کے ذریعے سے لوگوں سے لا الٰہ الا اللٰہ نہ کہلوا لے۔‘‘اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں ایک ایسے واقعہ کا ذکر ہے، جس میں داعی کو اس وقت تک زندہ رہنا ہے، جب تک…
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations. Showing the first 60 of 72 distinct lectures.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
نماز نماز نماز
نماز نماز نماز نماز
قرآن کی اِس آیت کی یہ تشریح ایک حدیث رسول سے معلوم ہوتی ہے۔ سنن ابی داؤد کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ظہر کی نماز پڑھی۔ اور پھر آپ نے فرمایا إنّ قبلہا صلاتین وبعدہا صلاتین (کتاب الصلاۃ،…
…ہے کہ اُن میںایک اور نماز اِس طرح شامل کی جائے کہ وہ بیچ کی نماز بن جائے۔ ایسی صورت میں بیچ کی نماز کے ایک طرف دو نماز ہوتی ہے، اور دوسری طرف بھی دو نماز— اِس طرح مجموعی طورپر کل پانچ نمازیں بن جاتی ہیں۔ ذیل میں اِس کا نقشہ ملاحظہ ہو
نماز نماز نماز
نماز نماز نماز نماز
…شروع کیاگیا ہے۔ ہر دوسرے اتوار (alternate Sunday) کو صدر اسلامی مرکز دہلی سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہیں جو امریکا (فلاڈلفیا) کے ایک اجتماع میں سُنا جاتا ہے۔ یہ پروگرام تقریباً دوگھنٹہ کا ہوتا ہے۔ ایک امریکی سامع کا خط یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
Respected Maulana Sahab,
Assalaamu alaykum
…لگتا ہے جو اس سے پہلے کبھی اس کی زبان پر نہیں آئے تھے۔آدمی طبعی طور پر آسودگی کے حالات کو پسند کرتا ہے۔مگر آسودگی کسی آدمی کو صرف اس قیمت پر ملتی ہے کہ وہ ان ربانی تجربات سے محروم رہ جائے جواس کی فطرت کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے تھے۔
دعا
’’میرے لیے بائیسکل خریددیجیے ‘‘ایک غریب خاندان کے لڑکے نے اپنے باپ سے کہا۔باپ کے لیے بائیسکل خریدنا مشکل تھا۔اس نے ٹال دیا۔لڑکا باربار کہتا رہا اور باپ باربار منع کرتا رہا۔آخر کار ایک روز باپ نے ڈانٹ کرکہا ’’میں نے کہہ دیاکہ میں بائیسکل…
دعا
With this description of human life, everything falls into place.
ايك حديث
تخليق كا يه منصوبه قرآن وحديث ميں مختلف انداز سے بتايا گيا هے۔ ايك روايت حديث كى مختلف كتابوں ميں الفاظ كے معمولى فرق كےساتھ آئى هے۔ اِس سلسلے كى دو روايتيں يه هيں
Respected Maulanan Sahab,
Assalaamu alaykum
Our Spiritual Class every other Sunday with you over telephone is very spiritually elevating for us. We are all grateful to Allah (SWT) for making this happen so easily. We are exploring further how we can make this program accessible to…
Respected Maulana Sahab,
Assalaamu alaykum
Our Spiritual Class every other Sunday with you over telephone is very spiritually elevating for us. We are all grateful to Allah (SWT) for making this happen so easily. We are exploring further how we can make this program accessible to…
Tel. 24355454, 24355729, email: info@goodwordbooks.com
ایجنسی الرساله
الرسالہ بیک وقت اردو اور انگریزی میں شائع ہوتا ہے۔ الرسالہ (اردو) کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ذہنی تعمیر ہے۔ الرسالہ (انگریزی) کا خاص مقصد یہ ہے کہ اسلام کی بے آمیز دعوت کو عام انسانوں تک پہنچایا جائے ۔ الرسالہ کے تعمیری اور دعوتی مشن کا…
Tel. 24355454,24355729, email: info@goodwordbooks.com
ایجنسی الرساله
الرسالہ بیک وقت اردو اور انگریزی میں شائع ہوتا ہے۔ الرسالہ (اردو) کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ذہنی تعمیر ہے۔ الرسالہ (انگریزی) کا خاص مقصد یہ ہے کہ اسلام کی بے آمیز دعوت کو عام انسانوں تک پہنچایا جائے ۔ الرسالہ کے تعمیری اور دعوتی مشن کا…