Person
Quran
Islamic scripture revealed in a dawah style, not academic style
Mentioned in 8 book passages
and 124 lecture moments.
Cite / permalink: entity/person/quran
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…نہیں ہیں، بلکہ وہ سب کے سب تعلیم یافتہ لوگ ہیں ، الرسالہ مشن تعلیم یافتہ لوگوں کا مشن ہے- اِس مشن میں جو لوگ شریک ہیں، وہ لٹریچر پڑھ کر اور شعوری فیصلے کے تحت اس میں شریک ہوئے ہیں- زیادہ صحیح الفاظ میں، یہ ٹیم تعلیم یافتہ لوگوں کی ٹیم ہے-
جہاں تک مذکورہ قسم کے اکیڈمیشین (academician) کا تعلق ہے، تو اکیڈمیشین لوگ کبھی کسی مشن سے نہیں جڑتے- اِس کا سبب اکیڈمک کلچر اور مشن کلچر کا فرق ہے- وہ فرق یہ ہے کہ طبیعی سائنس (physical science) کے معاملے میں ہمیشہ ایک واحد رائے پر پہنچنا ممکن ہوتا ہے، لیکن سماجی علوم یا انسانی علوم (humanities) میں ایسا نہیں ہوتا کہ صرف ایک رائے کا انتخاب ممکن ہو- چوں کہ سماجی علوم یا انسانی علوم میں ہمیشہ استنباط (inference)کا امکان ہوتا ہے، اِس لیے رائیں مختلف ہوجاتی ہیں- ایسی حالت میں انسانی علوم کے معاملے میں کسی ایک رائے پر اصرار کرنے کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ آدمی تعصب کا شکار ہوگیا ہے- اِسی تعصب کے الزام سے بچنے کے
لیے اکیڈمیشین یہ کرتے ہیں کہ وہ کبھی قطعیت کی زبان استعمال نہیں کرتے- وہ اپنے بیان میں ہمیشہ اِس طرح کے الفاظ شامل کرتے ہیں:
…وہ سارے انسانوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ براہِ راست طورپر ہر انسان کی بات کو سنتا ہے اور اُس کا جواب دیتا ہے۔ اِس لیے قرآن کے قاری کے لیے ہر لمحہ یہ ممکن ہے کہ وہ خدا سے ربط قائم کرسکے۔ وہ خدا سے پوچھے اور خدا سے اپنے سوال کا جواب پالے۔
قرآن خالقِ کائنات کا تعارف ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ ایک خدا ہے جس نے اِس کائنات کو پیدا کیا۔ وہی اُس کو مسلسل طورپر سنبھالے ہوئے ہے۔ وہ قادرِ مطلق ہے۔ انسان کا ماضی، حال اور مستقبل تنہا اُسی کے قبضے میں ہے۔ وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ ابدی ہے۔ اس کے قبضۂ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔
خالق کے تعارف کے بعد قرآن میں خصوصی طورپر جو چیز بتائی گئی ہے، وہ خدا کی تخلیق کے بارے میں ہے۔قرآن کا موضوع یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے انسان کو باخبر کرے۔ قرآن، آدمی کو وہ چیز بتاتا ہے جس کو وہ اپنی کوشش…
فرائض اور نوافل
اسلامی تعلیم کے مطابق، ہر دینی عمل عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کی عبادات میں کچھ عبادتیں فرض ہیں، اور کچھ عبادتیں نفل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً روزانہ پانچ وقت کی نماز اسلام میں فرض ہے۔ اِسی کے ساتھ ایک عبادت وہ ہے جس کو تہجد کہاجاتا ہے۔ تہجد ایک نفل عبادت ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: فتہجّد بہ نافلۃً لک (الإسراء:79 )۔ اِس طرح اشراق اور چاشت کی نمازیں اور دوسری غیر مفروض نمازیں نفل کا درجہ رکھتی ہیں۔
’نفل‘ یا ’نافلہ‘ کے معنیٰ زائد (زائدۃ علی الفریضۃ) کے ہیں۔ نفل عبادت کا مطلب ہے فرض کے علاوہ مزید عبادت (additonal prayers) ۔ نفل عبادت کے معاملے میں ایک مشہور روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ یہ حدیثِ قُدسی ہے۔ اس کے ایک حصے کا ترجمہ یہ…
ابدی عمر، ابدی صحت، ابدی امن
قرآن اور حدیث میں جنت اور اہلِ جنت کا تذکرہ نہایت تفصیل کے ساتھ آیا ہے- اِس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں ابدی طورپر ہر قسم کی نعمتیں کمال درجے میں موجود ہوں گی- وہاں انسان کی ہر اشتہا (desire) کی تکمیل کا سامان ہوگا- وہاں انسان کو کامل معنوں میں فل فِل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا- جنت میں انسان کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ مسلسل طورپر وہاں کی نعمتوں کو انجوائے کرے اور کبھی بورڈم کا شکار نہ ہو- جنت ہر اعتبار سے اہلِ جنت کے لیے آئڈیل اور پرفکٹ دنیا ہوگی-
مگر اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے موجودہ وجود کے ساتھ جنت کی نعمتوں سے حقیقی معنوں میں محظوظ نہیں ہوسکتا- اِس لیے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو جو وجود ملا ہے، وہ ہر اعتبار سے، ایک محدود وجود ہے— اِس وجود پر بڑھاپا آتا ہے،یہ…
…تعلق رکھتے تھے مگر وکالت کے کام کو وہ زیادہ تر انسانی خدمت کے جذبہ کے تحت انجام دیتے تھے۔ موکل کا استحصال تو درکنار وہ موکل سے واجبی فیس کا تقاضہ بھی نہیں کرتے تھے۔ ان کے سامنے فیس سے زیادہ یہ ہوتا تھا کہ اپنے موکل کی پوری قانونی مدد کریں۔
اسی طرح موصوف ہومیوپیتھی کے ایک اچھے ڈاکٹر تھے۔ وہ اپنے خالی اوقات میں لوگوں کو دوائیں دیتے تھے۔ یہ کام بھی وہ کسی معاوضہ کے بغیر صرف انسانی خدمت کے جذبہ کے تحت کرتے تھے۔ مجھ سے کئی لوگوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عزیز احمد خاںکے علاج سے وہ پوری طرح شفایاب ہوگئے، جب کہ لمبے علاج کے بعد وہ اپنی صحت کے بارے میں مایوس ہوچکے تھے۔
ڈاکٹر عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ کو مطالعہ اور تحریر سے بھی دلچسپی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کچھ کتابیں تیار کیں اور ان کو شائع کیا۔ ان کی ایک کتاب کا نام یہ ہے: اللہ کی عظمت اور قرآن کا نظریۂ علم و سائنس۔
کائنات کا خالق ومالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لیے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات وانجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس نے اپنی تاویل وتشریح سے خدا کی تعلیمات کو طرح طرح کے معنی پہنائے اور خدا کے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ آخر اللہ نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آخری کتاب (قرآن) اتاری جو انسانوں کے لیے صحیح ہدایت نامہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ وہ کسوٹی بھی جس سے حق وباطل کے درمیان فیصلہ کیا جاسکے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ کا سچا دین کیا ہے اور وہ دین کون سا ہے جو لوگوں نے اپنی خود ساختہ تشریحات کے ذریعے بنا رکھا ہے۔ اب جو لوگ خدا کی کتاب کو نہ مانیں یا اپنی رایوں اور تعبیروں کے تحت گھڑے ہوئے دین کو نہ چھوڑیں وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے آنکھ دی مگر روشنی آجانے کے باوجود انھوں نے نہ دیکھا۔ جن کو خدا نے عقل دی مگر دلیل آجانے کے بعد بھی انھوں نے نہ سمجھا اپنی چھوٹی بڑائی کی خاطر وہ حق کے آگے جھکنے كو تیار نہ ہوئے۔
اللہ اپنی ذات وصفات کے اعتبارسے کیسا ہے، اس کا حقیقی تعارف خود وہی کرسکتا ہے۔ اس کی ہستی کا دوسری موجودات سے کیا تعلق ہے، اس کو بھی وہ خود ہی صحیح طورپر بتاسکتا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں اس کو اتنی واضح صورت میں بتا دیا ہے کہ جو شخص جاننا چاہے وہ ضرور جان لے گا۔ یہی معاملہ انسان کے لیے ہدایت نامہ مقرر کرنے کا ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے اور وہ کون سا رویہ ہے جو انسان کی کامیابی کا ضامن ہے، اس کو بتانے کے لیے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ وہی ہوسکتا ہے جو بقیہ کائنات سے ہم آہنگ ہو اور دنیا کے وسیع تر نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہو۔ انسان کے لیے صحیح راہ عمل کا تعین وہی کرسکتا ہے جو نہ صرف انسان کو پیدائش سے موت تک جانتا ہو بلکہ اس کو یہ بھی معلوم ہو کہ پیدائش سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی ہستی خداکے سوا کوئی دوسری نہیںہوسکتی۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ خدا پر بھروسہ کرے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو پورے یقین کے ساتھ پکڑ لے۔
خدا کسی آدمی کو ذکر و فکر کی سطح پر ملتاہے۔ یعنی آدمی سوچ کے ذریعہ سے خدا کو پاتا ہے۔ خدا نے موجودہ دنیا میں اپنے دلائل بکھیر دئے ہیں، آدمی کی اپنی ذات میں، باہر کی کائنات میں اور پھر پیغمبر کی تعلیمات میں۔ جو لوگ ان خدائی نشانیوں میں…
…خدا اپنی توجہ اس سے ہٹا لیتاہے۔ خدا کی توفیق سے محروم ہو کر ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کی زبان سمجھتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ موت کا فرشتہ آجاتا ہے تاکہ ان کو پکڑ کر خدا کی عدالت میں پہنچا دے۔
آسمانی کتاب کی حامل قوموں پر جب بگاڑ آتا ہے تو وہ دین کے محکم حصہ کو چھوڑ کر اس کے غیر محکم حصہ پر دوڑ پڑتی ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا میں اختلاف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور آخرت میںرسوائی کی صورت میں۔
مسیح علیہ السلام باپ کے بغیر ایک پاکباز خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے۔ پیدائش کے بعد انھوں نے اپنی زبان سے اپنا جو تعارف کرایا وہ یہ تھا ’’میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں‘‘۔ اب حضرت مسیح کے بارے میں رائے قائم کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آنجناب نے اپنے بارے میں جو واضح الفاظ فرمائے ہیں انھیں کی پابندی کی جائے اور آپ کو وہی سمجھا جائے جو ان الفاظ سے براہِ راست طورپر معلوم ہوتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس معاملہ میں اپنے قیاس کو دخل دیا جائے اور کہا جائے کہ ’’انسان وہ ہے جو کسی باپ کا بیٹا ہو۔ مسیح کسی باپ کے بیٹے نہ تھے۔ اس لیے وہ خدا کے بیٹے تھے‘‘۔ پہلی رائے کی بنیادخود مسیح کا محکم اور مستند قول ہے۔ اس لیے اگر اس کو اختیار کیا جائے تو اس میں اختلاف پیدا نہ ہو گا۔ جب کہ دوسری رائے کی بنیاد محض انسانی قیاس پر ہے۔ اس لیے جب دوسری رائے کو اختیار کیا جائے گا تو رایوں کا اختلاف شروع ہوجائے گا، جیساکہ مسیح کو ماننے والوں کے ساتھ بعد کے زمانہ میں ہوا۔
آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم میں جب بگاڑ آتا ہے تو اس کے اندر اسی قسم کی خرابیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ محکم دین کو چھوڑ کر قیاسی دین پر چل پڑتی ہے۔ یہیں سے اختلاف اور فرقہ بندیوں کا دروزاہ کھل جاتا ہے۔ فقہ اور کلام، روحانیت اور سیاست میں خدا و رسول نے جو کھلے ہوئے احکام ديے ہیں لوگ ان کے سادہ مفہوم پر قانع نہیں رہتے بلکہ بطور خود نئي نئي بحثيں نكالتے هيں۔ كبھي زمانے كے خيالات سے متاثر هو كر، كبھي اپني دنيوي خواهشوں كو ديني جواز عطا كرنے كے ليے، كبھي بزعم خود خدا کے ناقص دین کو کامل بنانے کے لیے، اپنی طرف سے ایسی باتیں دین میں داخل کردی جاتی ہیں جو حقیقۃً دین کا حصہ نہیں ہوتیں۔ اس طرح نئے نئے دینی ایڈیشن تیار ہوجاتے ہیں۔ کوئی روحانی ایڈیشن، کوئی سیاسی ایڈیشن، کوئی اور ایڈیشن۔ ہر ایک کے گرد اس کے موافق ذوق رکھنے والے لوگ جمع ہوتے رہتے ہیں۔ بالآخر ان کا ایک فرقہ بن جاتا ہے۔ ان کی بعد کی نسلیں اس کو اسلام کا ورثہ سمجھ کر اس کی حفاظت شروع کردیتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجاتا ہے کہ وہ قیامت تک کبھی ختم نہ ہو۔ کیوں کہ انسان ماضی کو ہمیشہ مقدس سمجھ لیتا ہے اور جو چیز مقدس بن جائے وہ کبھی ختم نہیں ہوتی — مذہب کے نام پر فرقہ بندی ایک طرف مقدس ہو کر ابدی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف خدا کا حکم بن کر دوسروں کے خلاف نفرت اور جارحیت کا اجازت نامہ بھی۔
اہلِ کتاب نے اپنے دین میں دو قسم کی غلطیاں کیں۔ ایک یہ کہ کچھ تعلیمات کو تاویل یا تحریف کے ذریعہ دین سے خارج کردیا۔ مثلاً انھوں نے اپنی کتاب میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ اب ان کو اپنی نجات کے لیے کسی اور پیغمبر کو ماننے کی ضرورت نہ تھی۔ اپنے…
خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔
خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔
خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations. Showing the first 60 of 124 distinct lectures.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
میں نے اس سلسلہ میں چار کتابوں کا انتخاب کیا ہے ۔ میری خواہش ہے کہ ان کتابوں کے صحیح اور مستند تر جمے تیار کئے جائیں۔ اولا انگریزی میں اور اس کے بعد دوسری زبانوں میں۔ یہ کتابیں یہ ہیں:
قرآن
مشکوٰۃ المصابيح
…guidelines for the relationship between men and women. The following quotations from the Quran and Hadith highlight the most essential aspects of feminine virtue and the standing that a woman should have vis-à-vis her husband and father:
Verses from the Quran
“Live with them in accordance with what is fair and kind; if you dislike them, it may be that you dislike something which God might make a source of abundant good.” (4:19)
…اس کا ئنات میں اس کے لئے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ وہ کوڑے خانے سے نکل کر انتہائی بلند مقام پر پہنچ سکتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنے اندرونی امکانات کو بروئے کار لانے کے لئے محنت اور دانش مندی کا وہ عمل کرے جو گاربیج بوائلر کی مثال میں نظر آتا ہے
قرآن کے بارے میں
''میں نے قرآن کا مطالعہ کیا مجھے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ نظر آئی کہ یہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔'' (گاندھی)۔
…برابر پیدا ہوتے ہیں- اِن افراد کی سطح پر روحانی تہذیب کا غیر مرئی دھارا نسل درنسل چلتا رہتاہے- مادی تہذیب اگر اجتماعی اداروں (social organisations) کی سطح پر چلتی ہے تو روحانی تہذیب افراد کی داخلی کیفیات اور افکار کی سطح پر جاری رہتی ہے-
قرآن کا حوالہ
قرآن تاریخ تہذیب کی کتاب نہیں، لیکن قرآن میں دونوں قسم کی تہذیبوں کے بارے میں اشاراتی حوالے موجود ہیں- قرآن کی آیتوں میں تدبر کرکے ان کو سمجھا جاسکتا ہے- جہاں تک مادی تہذیب کی بات ہے، اس کا اشاراتی حوالہ قرآن کی سورہ الروم میں اِن…
مگر جیساکہ معلوم ہے، ٹالسٹائے کی کتاب صرف ایک ناول ہے، یعنی وہ فکشن کے پیرایے میں لکھی گئی ہے، اور کوئی فکشن حقیقی زندگی (real life) کے لیے گائڈ بک نہیں بن سکتا-
قرآن کا بیان
معاہدہ حدیبیہ ذوالقعدہ 6 ہجری میں طے پایا- اس کے فوراً بعد قرآن کی سورہ الفتح نازل ہوئی- اِس سورہ کی ابتدائی تین آیتیں یہ تھیں: اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا…
…-انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر (لودھی روڈ، نئی دہلی) میں 20 اکتوبر 2007 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ اِس کا انتظام سی پی ایس اور گڈ ورڈ بکس کی طرف سے کیاگیا۔ یہ پروگرام صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے لیے کیا گیا تھا۔اُس کا موضوع تھا— قرآن کا پیغام:
The Message of the Quran
اِس پروگرام میں تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے ۔ کچھ ہندو حضرات بھی وہاں موجود تھے۔ تقریباً ایک گھنٹے تقریر ہوئی۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ یہاں آنے والوں کو اسلامی دعوت کے مطبوعہ انگریزی بروشر دیے گیے۔ یہاں گُڈورڈبکس کی طرف سے…
قرآن کا مشن
قرآن کی سورہ الزخرف مکی دور کے نصف آخر میں نازل ہوئی۔ غالباً یہ سفر طائف کے بعد کا زمانہ ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مخالفین کی مخالفت نہایت شدیدہوچکی تھی۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتری:أَفَنَضْرِبُ عَنْکُمُ الذِّکْرَ صَفْحًا أَنْ…
مگر جيساكه معلوم هے، ٹالسٹائے كى كتاب صرف ايك ناول هے، يعنى وه فكشن كے پيرايے ميں لكھى گئى هے، اور كوئى فكشن حقيقى زندگى (real life) كے ليے گائڈ بك نهيں بن سكتا۔
قرآن كا بيان
معاهده حديبيه ذوالقعده 6 هجرى ميں طے پايا۔ اس كے فوراً بعد قرآن كى سورۃ الفتح نازل هوئي۔ اِس سورۃ كى ابتدائى تين آيتيں يه تھيں اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا…
…اس كے اندر ايمانى شعور زنده هو تو يه تمام احوال وتجربات اس كے ليے رزقِ رب كا ذريعه بنتے رهيں گے۔ آخر كار وه اُس مطلوب انسان كا درجه حاصل كر لے گا جو آخرت كى جنت ميں داخلے كے ليے ايك مستحق اميدوار (deserving candidate) كى حيثيت ركھتا هے۔
قرآن كا موضوع
قرآن خالقِ كائنات كى كتاب هے۔ قرآن كا موضوع (subject) يه هے كه انسان كے بارے ميں الله كے تخليقى منصوبه سے اس كو آگاه كيا جائے۔ قرآن كے تمام بيانات براهِ راست يا بالواسطه طورپر اِسى معاملے كى وضاحت هيں۔ مثلاً قرآن كى سوره ابراهيم ميں…
تفسیرِ قرآن
کچھ لوگ ضروری علمی حق ادا کیے بغیر قرآن کی تفسیر کرتے ہیں۔ مگر حدیث میںاس کو سختی سے منع کیا گیا ہے(الترمذی، باب أن یفسّر القرآن بغیر علم) مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اُس میں دو قسم کی آیتیں ہیں۔ چناںچہ ارشاد ہوا ہے: منہ آیات…